<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 00:20:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 13 Aug 2026 00:20:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی اراکین کی نااہلی برقرار: الیکشن کمیشن نے بیرسٹر گوہر کا بیان مسترد کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275230/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے 3 نااہل قرار دیے گئے اراکین کے بارے میں دعوے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کی سزائیں ختم یا کالعدم نہیں کی گئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن نے یہ بیان بیرسٹر گوہر کے اس الزام کے جواب میں جاری کیا کہ ای سی پی تحریک انصاف کے حق میں جانبدار ہے اور ان کے پارٹی کے رہنماؤں کی نااہلی اس مبینہ تعصب کی ایک اور مثال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر اعجاز چوہدری، رکن قومی اسمبلی احمد چٹھہ اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر کی نااہلی کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمارے اراکین کو آئین کے آرٹیکل 63 ون ایچ کے تحت نااہل کیا گیا، یہ جانے بغیر کہ اے ٹی سی سرگودھا کی سزا قانونی طور پر درست ہے بھی یا نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جن الزامات میں انہیں سے سزا دی گئی، ان میں سے کوئی بھی ایسا جرم نہیں جسے اخلاقی بے ایمانی قرار دے کر آرٹیکل 63(1)(ایچ) کے تحت نااہل قرار دیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوہر نے یہ بھی کہا کہ ہمارے رکن قومی اسمبلی عبد اللطیف چترالی کے کیس میں، جنہیں 30 مئی کو اسلام آباد اینٹی ٹیررزم کورٹ نے سزا دی، الیکشن کمیشن نے نااہلی کے سوال پر نوٹس کیا اور کیس کی سماعت 29 جولائی (آج) کے لیے مقرر کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک خود تضاد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن نے اپنے سرکاری بیان میں واضح کیا کہ سینیٹر چوہدری، رکن قومی اسمبلی چٹھہ، اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھچر کی نااہلی برقرار ہے۔ اینٹی ٹیررازم کورٹ کی جانب سے ان پر سنائی گئی سزائیں اب بھی برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ عبداللطیف چترالی کا کیس دیگر نااہل قرار دیے گئے اراکین سے مختلف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ چترالی خود اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نہیں گئے، ان کے کئی شریک ملزمان نے 9 مئی کے کیس میں اپیلیں دائر کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے بعد ازاں ان کی سزا کو کالعدم قرار دے کر رہا کرنے کا حکم دیا۔ اگرچہ چترالی خود درخواست گزاروں میں شامل نہیں تھے، مگر الیکشن کمیشن نے نوٹ کیا کہ یہ فیصلہ ان افراد پر بھی اثر انداز ہوتا ہے جو انہی کارروائیوں سے منسلک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی مناسبت سے چترالی کو الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا ہے تاکہ وہ کمیشن کے سامنے پیش ہو کر اس بات میں مدد فراہم کریں کہ آیا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ، جو ان کے شریک ملزمان کے بارے میں ہے، ان پر بھی لاگو ہوتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک روز قبل الیکشن کمیشن نے آرٹیکل 63(1)(ایچ) کے تحت تین پی ٹی آئی قانون سازوں کو الگ الگ نااہلی کے نوٹس جاری کیے تھے جو کہ 9 مئی کی ہنگاموں کے کیس میں ساہیوال کی اینٹی ٹیرر ازم کورٹ کی طرف سے ان کی سزا کے بعد دیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تینوں کو دہشت گردی کے الزامات کے تحت 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مقدمہ موسی خیل تھانے میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور حامیوں کے خلاف درج کیا گیا تھا جو 9 مئی کو پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی کرپشن کیس میں گرفتاری کے بعد میانوالی میں پھوٹنے والے پرتشدد احتجاج اور توڑ پھوڑ سے متعلق تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینٹی ٹیرر ازم کورٹ نے بھچر اور دیگر ملزمان کو 9 مئی 2023 کے فسادات میں حصہ لینے کا مجرم قرار دیا جن کا ہدف ریاستی ادارے اور عوامی املاک تھیں، اور یہ فسادات ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شدید تصادم کا باعث بنے، جب سابق وزیر اعظم عمران خان کو 9 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے 3 نااہل قرار دیے گئے اراکین کے بارے میں دعوے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کی سزائیں ختم یا کالعدم نہیں کی گئیں۔</strong></p>
<p>الیکشن کمیشن نے یہ بیان بیرسٹر گوہر کے اس الزام کے جواب میں جاری کیا کہ ای سی پی تحریک انصاف کے حق میں جانبدار ہے اور ان کے پارٹی کے رہنماؤں کی نااہلی اس مبینہ تعصب کی ایک اور مثال ہے۔</p>
<p>سینیٹر اعجاز چوہدری، رکن قومی اسمبلی احمد چٹھہ اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر کی نااہلی کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمارے اراکین کو آئین کے آرٹیکل 63 ون ایچ کے تحت نااہل کیا گیا، یہ جانے بغیر کہ اے ٹی سی سرگودھا کی سزا قانونی طور پر درست ہے بھی یا نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جن الزامات میں انہیں سے سزا دی گئی، ان میں سے کوئی بھی ایسا جرم نہیں جسے اخلاقی بے ایمانی قرار دے کر آرٹیکل 63(1)(ایچ) کے تحت نااہل قرار دیا جاسکے۔</p>
<p>گوہر نے یہ بھی کہا کہ ہمارے رکن قومی اسمبلی عبد اللطیف چترالی کے کیس میں، جنہیں 30 مئی کو اسلام آباد اینٹی ٹیررزم کورٹ نے سزا دی، الیکشن کمیشن نے نااہلی کے سوال پر نوٹس کیا اور کیس کی سماعت 29 جولائی (آج) کے لیے مقرر کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک خود تضاد ہے۔</p>
<p>الیکشن کمیشن نے اپنے سرکاری بیان میں واضح کیا کہ سینیٹر چوہدری، رکن قومی اسمبلی چٹھہ، اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھچر کی نااہلی برقرار ہے۔ اینٹی ٹیررازم کورٹ کی جانب سے ان پر سنائی گئی سزائیں اب بھی برقرار ہیں۔</p>
<p>الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ عبداللطیف چترالی کا کیس دیگر نااہل قرار دیے گئے اراکین سے مختلف ہے۔</p>
<p>جبکہ چترالی خود اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نہیں گئے، ان کے کئی شریک ملزمان نے 9 مئی کے کیس میں اپیلیں دائر کی ہیں۔</p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ نے بعد ازاں ان کی سزا کو کالعدم قرار دے کر رہا کرنے کا حکم دیا۔ اگرچہ چترالی خود درخواست گزاروں میں شامل نہیں تھے، مگر الیکشن کمیشن نے نوٹ کیا کہ یہ فیصلہ ان افراد پر بھی اثر انداز ہوتا ہے جو انہی کارروائیوں سے منسلک ہیں۔</p>
<p>اسی مناسبت سے چترالی کو الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا ہے تاکہ وہ کمیشن کے سامنے پیش ہو کر اس بات میں مدد فراہم کریں کہ آیا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ، جو ان کے شریک ملزمان کے بارے میں ہے، ان پر بھی لاگو ہوتا ہے یا نہیں۔</p>
<p>ایک روز قبل الیکشن کمیشن نے آرٹیکل 63(1)(ایچ) کے تحت تین پی ٹی آئی قانون سازوں کو الگ الگ نااہلی کے نوٹس جاری کیے تھے جو کہ 9 مئی کی ہنگاموں کے کیس میں ساہیوال کی اینٹی ٹیرر ازم کورٹ کی طرف سے ان کی سزا کے بعد دیے گئے تھے۔</p>
<p>تینوں کو دہشت گردی کے الزامات کے تحت 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔</p>
<p>یہ مقدمہ موسی خیل تھانے میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور حامیوں کے خلاف درج کیا گیا تھا جو 9 مئی کو پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی کرپشن کیس میں گرفتاری کے بعد میانوالی میں پھوٹنے والے پرتشدد احتجاج اور توڑ پھوڑ سے متعلق تھا۔</p>
<p>اینٹی ٹیرر ازم کورٹ نے بھچر اور دیگر ملزمان کو 9 مئی 2023 کے فسادات میں حصہ لینے کا مجرم قرار دیا جن کا ہدف ریاستی ادارے اور عوامی املاک تھیں، اور یہ فسادات ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شدید تصادم کا باعث بنے، جب سابق وزیر اعظم عمران خان کو 9 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275230</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Jul 2025 13:30:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/29132757554f996.png" type="image/png" medium="image" height="385" width="681">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/29132757554f996.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
