<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:18:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:18:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلند شرحِ سود صنعت و تجارت کیلئے ناقابلِ برداشت بوجھ بن گئی، بزنس کمیونٹی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275220/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کاروباری برادری نے حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ شرحِ سود میں نمایاں کمی کی جائے تاکہ صنعتوں، تجارت اور کاروبار کو فروغ ملے اور ملکی معیشت بہتر ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ 11 فیصد پالیسی ریٹ موجودہ حالات میں غیر منطقی ہے کیونکہ مہنگائی کی شرح 3.2 فیصد تک گر چکی ہے اور پاکستان کی جی ڈی پی خطے کی معیشتوں سے پیچھے ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونائیٹڈ بزنس گروپ کے صدر زبیر طفیل نے اسٹیٹ بینک سے 30 جولائی کو متوقع مانیٹری پالیسی میں پالیسی ریٹ سنگل ڈیجٹ میں لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بلند شرحِ سود صنعت اور کاروبار پر شدید مالی دباؤ ڈال رہی ہے اور کئی صنعتیں بندش کے قریب پہنچ چکی ہیں، جس سے معیشت اور غریب طبقے پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کے زوال سے روزگار میں کمی، برآمدات میں گراوٹ اور ٹیکس آمدنی میں کمی ہوگی جس سے معیشت مزید کمزور ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ عمر ریحان نے اقتصادی اشاریوں میں بہتری کی روشنی میں شرحِ سود کو فوری طور پر 6 فیصد تک لانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 11 فیصد شرحِ سود خطے میں سب سے زیادہ ہے، جس سے کاروباری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے اور صنعتیں معمول کے مطابق نہیں چل پا رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی 3.2 فیصد تک گر چکی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 12 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں اور شرحِ مبادلہ مستحکم ہو رہی ہے، اس لیے شرحِ سود میں کمی کا جواز مضبوط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ خطے کے دیگر ممالک، جیسے بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا، نے صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے شرح سود 6 سے 8 فیصد کے درمیان رکھی ہوئی ہے جبکہ پاکستان کی بلند شرح سود صنعتوں کی بحالی اور پیداوار پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر مالی ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں بندش کا شکار ہوسکتی ہیں، جس سے بیروزگاری بڑھے گی اور معیشت کو مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی تجزیہ کار عتیق الرحمن نے کہا کہ کاروباری برادری شرح سود میں نمایاں کمی کی خواہاں ہے تاکہ صنعتوں کو سہولت ملے، برآمدات میں اضافہ ہو اور قرضوں کے سود کی ادائیگی میں 3.5 کھرب روپے سالانہ کی بچت ہو۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ شرح سود میں کمی سے سرمایہ بیرونِ ملک منتقل ہوسکتا ہے اور بچت کھاتہ داروں، خاص طور پر بزرگ شہریوں، معذوروں اور پنشنرز کی آمدنی متاثر ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ میں کمی ایسا حل ہونا چاہیے جو صنعت، کاروبار اور عام شہریوں، سب کے لیے فائدہ مند ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کاروباری برادری نے حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ شرحِ سود میں نمایاں کمی کی جائے تاکہ صنعتوں، تجارت اور کاروبار کو فروغ ملے اور ملکی معیشت بہتر ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ 11 فیصد پالیسی ریٹ موجودہ حالات میں غیر منطقی ہے کیونکہ مہنگائی کی شرح 3.2 فیصد تک گر چکی ہے اور پاکستان کی جی ڈی پی خطے کی معیشتوں سے پیچھے ہے۔</strong></p>
<p>یونائیٹڈ بزنس گروپ کے صدر زبیر طفیل نے اسٹیٹ بینک سے 30 جولائی کو متوقع مانیٹری پالیسی میں پالیسی ریٹ سنگل ڈیجٹ میں لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بلند شرحِ سود صنعت اور کاروبار پر شدید مالی دباؤ ڈال رہی ہے اور کئی صنعتیں بندش کے قریب پہنچ چکی ہیں، جس سے معیشت اور غریب طبقے پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کے زوال سے روزگار میں کمی، برآمدات میں گراوٹ اور ٹیکس آمدنی میں کمی ہوگی جس سے معیشت مزید کمزور ہوگی۔</p>
<p>پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ عمر ریحان نے اقتصادی اشاریوں میں بہتری کی روشنی میں شرحِ سود کو فوری طور پر 6 فیصد تک لانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 11 فیصد شرحِ سود خطے میں سب سے زیادہ ہے، جس سے کاروباری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے اور صنعتیں معمول کے مطابق نہیں چل پا رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی 3.2 فیصد تک گر چکی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 12 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں اور شرحِ مبادلہ مستحکم ہو رہی ہے، اس لیے شرحِ سود میں کمی کا جواز مضبوط ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ خطے کے دیگر ممالک، جیسے بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا، نے صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے شرح سود 6 سے 8 فیصد کے درمیان رکھی ہوئی ہے جبکہ پاکستان کی بلند شرح سود صنعتوں کی بحالی اور پیداوار پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر مالی ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں بندش کا شکار ہوسکتی ہیں، جس سے بیروزگاری بڑھے گی اور معیشت کو مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔</p>
<p>معاشی تجزیہ کار عتیق الرحمن نے کہا کہ کاروباری برادری شرح سود میں نمایاں کمی کی خواہاں ہے تاکہ صنعتوں کو سہولت ملے، برآمدات میں اضافہ ہو اور قرضوں کے سود کی ادائیگی میں 3.5 کھرب روپے سالانہ کی بچت ہو۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ شرح سود میں کمی سے سرمایہ بیرونِ ملک منتقل ہوسکتا ہے اور بچت کھاتہ داروں، خاص طور پر بزرگ شہریوں، معذوروں اور پنشنرز کی آمدنی متاثر ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ میں کمی ایسا حل ہونا چاہیے جو صنعت، کاروبار اور عام شہریوں، سب کے لیے فائدہ مند ہو۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275220</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Jul 2025 11:30:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/29112944533841d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/29112944533841d.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
