<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مین ہٹن میں فائرنگ سے 4افراد ہلاک، حملہ آور نے خودکشی کرلی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275215/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیویارک کے مڈ ٹاؤن مین ہٹن میں پیر کی شام ایک مسلح شخص نے فائرنگ کرکے چار افراد کو ہلاک اور ایک کو شدید زخمی کر دیا، جس کے بعد اس نے خود کو گولی مار لی۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ پارک ایونیو کے ایک بلند و بالا ٹاور میں پیش آیا جو نیشنل فٹ بال لیگ  کے ہیڈکوارٹرز اور متعدد بڑی مالیاتی کمپنیوں کے دفاتر کا مرکز ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہلاک شدگان میں نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ  کا 36 سالہ افسر دیدارالاسلام بھی شامل ہے، جو بنگلہ دیش سے امریکہ ہجرت کرکے آیا تھا۔ میئر ایرک ایڈمز نے انہیں ’’سچا ہیرو‘‘ قرار دیا۔ دیدارالاسلام دو بچوں کے والد اور تیسرے بچے کے منتظر تھے اور اس وقت نیویارک پولیس کے کمرشل سیکیورٹی ڈیوٹی پروگرام پر تعینات تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر تین مقتولین میں دو مرد اور ایک خاتون شامل ہیں جن کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ ایک اور مرد زخمی اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے بتایا کہ حملہ آور کی شناخت 27 سالہ شین تمورا کے طور پر ہوئی ہے، جو لاس ویگاس کا رہائشی اور ذہنی بیماری کے مسائل سے دوچار تھا۔ وہ حالیہ دنوں میں کار کے ذریعے نیویارک پہنچا تھا اور تنہا کارروائی کی۔ محرکات ابھی تک معلوم نہیں ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کمشنر جیسیکا تش نے بتایا کہ فائرنگ کی ابتدا لابی میں ہوئی اور بعد میں حملہ آور لفٹ کے ذریعے 33 ویں منزل پر گیا جہاں اس نے مزید گولیاں چلائیں اور آخرکار خود کو گولی مار لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد عمارت اور اطراف کے علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس تعینات کر دی گئی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ اچانک چیخ و پکار اور بھاگ دوڑ مچ گئی۔ ایف بی آئی کی ٹیم نے بھی جائے وقوعہ پر مدد فراہم کی۔ حکام کے مطابق حملہ آور کا کوئی نمایاں مجرمانہ ریکارڈ نہیں ملا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیویارک کے مڈ ٹاؤن مین ہٹن میں پیر کی شام ایک مسلح شخص نے فائرنگ کرکے چار افراد کو ہلاک اور ایک کو شدید زخمی کر دیا، جس کے بعد اس نے خود کو گولی مار لی۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ پارک ایونیو کے ایک بلند و بالا ٹاور میں پیش آیا جو نیشنل فٹ بال لیگ  کے ہیڈکوارٹرز اور متعدد بڑی مالیاتی کمپنیوں کے دفاتر کا مرکز ہے۔</strong></p>
<p>ہلاک شدگان میں نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ  کا 36 سالہ افسر دیدارالاسلام بھی شامل ہے، جو بنگلہ دیش سے امریکہ ہجرت کرکے آیا تھا۔ میئر ایرک ایڈمز نے انہیں ’’سچا ہیرو‘‘ قرار دیا۔ دیدارالاسلام دو بچوں کے والد اور تیسرے بچے کے منتظر تھے اور اس وقت نیویارک پولیس کے کمرشل سیکیورٹی ڈیوٹی پروگرام پر تعینات تھے۔</p>
<p>دیگر تین مقتولین میں دو مرد اور ایک خاتون شامل ہیں جن کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ ایک اور مرد زخمی اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔</p>
<p>حکام نے بتایا کہ حملہ آور کی شناخت 27 سالہ شین تمورا کے طور پر ہوئی ہے، جو لاس ویگاس کا رہائشی اور ذہنی بیماری کے مسائل سے دوچار تھا۔ وہ حالیہ دنوں میں کار کے ذریعے نیویارک پہنچا تھا اور تنہا کارروائی کی۔ محرکات ابھی تک معلوم نہیں ہو سکے۔</p>
<p>پولیس کمشنر جیسیکا تش نے بتایا کہ فائرنگ کی ابتدا لابی میں ہوئی اور بعد میں حملہ آور لفٹ کے ذریعے 33 ویں منزل پر گیا جہاں اس نے مزید گولیاں چلائیں اور آخرکار خود کو گولی مار لی۔</p>
<p>واقعے کے بعد عمارت اور اطراف کے علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس تعینات کر دی گئی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ اچانک چیخ و پکار اور بھاگ دوڑ مچ گئی۔ ایف بی آئی کی ٹیم نے بھی جائے وقوعہ پر مدد فراہم کی۔ حکام کے مطابق حملہ آور کا کوئی نمایاں مجرمانہ ریکارڈ نہیں ملا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275215</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Jul 2025 11:07:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/2911051765a92cd.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/2911051765a92cd.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
