<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 12 Aug 2026 19:42:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 12 Aug 2026 19:42:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں پرافٹ ٹیکنگ کا رجحان، 100 انڈیکس میں 1400 سے زائد پوائنٹس کی کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275210/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ابتدائی خریداری کے رجحان کے بعد منافع خوری کا رجحان غالب آگیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک  کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1400 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 140,331.01 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک جا پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کاروبار کے آخری سیشن میں منافع خوری کا رجحان غالب آگیا جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 137,636.37 تک آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,415.24 پوائنٹس یا 1.02 فیصد کی کمی سے137,964.81 پوائنٹس پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہم پیش رفت کے طور پر وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب دو ہفتوں میں دوسری بار امریکا روانہ ہو گئے ہیں تاکہ واشنگٹن کے ساتھ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے جمعہ کو کہا تھا کہ امریکا اور پاکستان ایک تجارتی معاہدے کے انتہائی قریب ہیں جو چند دنوں میں طے پا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات پر حتمی گفتگو اس دورے کے دوران ہوگی، یہ تجارتی معاہدہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پیر کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 172.77 پوائنٹس یا 0.12 فیصد اضافے سے 139,380.06 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر منگل کے روز ایشیائی حصص کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جبکہ یورو اپنی گراوٹ سے سنبھلنے کی کوشش کرتا رہا۔ سرمایہ کاروں نے امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدے کے منفی پہلوؤں اور اس حقیقت پر غور کیا کہ سخت تجارتی محصولات بدستور برقرار رہیں گے جس کے معیشت کی ترقی اور مہنگائی پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپ کی جانب سے 15 فیصد محصول پر ابتدائی ریلیف اس وقت ماند پڑ گیا جب اس کا موازنہ اُن 1 سے 2 فیصد محصولات سے کیا گیا جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے سے قبل نافذ تھے۔ فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں نے اس فیصلے کو معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا جس کے باعث براعظم بھر میں اسٹاک مارکیٹس اور بانڈز کی پیداوار میں کمی آئی جبکہ یورو پر بھی دباؤ بڑھ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اُن تمام تجارتی شراکت داروں پر جو معاہدہ کرنے کے لیے مذاکرات نہیں کر رہے، 15 سے 20 فیصد کا محصول عائد کیا جا سکتا ہے — جو کہ 1930 کی عظیم کساد بازاری کے بعد سے بلند ترین شرح میں شمار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی معاشی نمو کے لیے ایک اور خطرہ اس وقت سامنے آیا جب تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھا گیا۔ یہ اضافہ اُس وقت ہوا جب ٹرمپ نے روس کو یوکرین میں جنگ کے خاتمے کی جانب پیش رفت کے لیے 10 یا 12 دن کی نئی ڈیڈلائن دے دی، بصورتِ دیگر اُس پر تیل کی برآمدات سے متعلق مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ابتدائی خریداری کے رجحان کے بعد منافع خوری کا رجحان غالب آگیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک  کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1400 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔</strong></p>
<p>مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 140,331.01 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک جا پہنچا۔</p>
<p>تاہم کاروبار کے آخری سیشن میں منافع خوری کا رجحان غالب آگیا جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 137,636.37 تک آگیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,415.24 پوائنٹس یا 1.02 فیصد کی کمی سے137,964.81 پوائنٹس پر آگیا۔</p>
<p>ایک اہم پیش رفت کے طور پر وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب دو ہفتوں میں دوسری بار امریکا روانہ ہو گئے ہیں تاکہ واشنگٹن کے ساتھ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔</p>
<p>یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے جمعہ کو کہا تھا کہ امریکا اور پاکستان ایک تجارتی معاہدے کے انتہائی قریب ہیں جو چند دنوں میں طے پا سکتا ہے۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات پر حتمی گفتگو اس دورے کے دوران ہوگی، یہ تجارتی معاہدہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔</p>
<p>یاد رہے کہ پیر کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 172.77 پوائنٹس یا 0.12 فیصد اضافے سے 139,380.06 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر منگل کے روز ایشیائی حصص کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جبکہ یورو اپنی گراوٹ سے سنبھلنے کی کوشش کرتا رہا۔ سرمایہ کاروں نے امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدے کے منفی پہلوؤں اور اس حقیقت پر غور کیا کہ سخت تجارتی محصولات بدستور برقرار رہیں گے جس کے معیشت کی ترقی اور مہنگائی پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>یورپ کی جانب سے 15 فیصد محصول پر ابتدائی ریلیف اس وقت ماند پڑ گیا جب اس کا موازنہ اُن 1 سے 2 فیصد محصولات سے کیا گیا جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے سے قبل نافذ تھے۔ فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں نے اس فیصلے کو معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا جس کے باعث براعظم بھر میں اسٹاک مارکیٹس اور بانڈز کی پیداوار میں کمی آئی جبکہ یورو پر بھی دباؤ بڑھ گیا۔</p>
<p>ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اُن تمام تجارتی شراکت داروں پر جو معاہدہ کرنے کے لیے مذاکرات نہیں کر رہے، 15 سے 20 فیصد کا محصول عائد کیا جا سکتا ہے — جو کہ 1930 کی عظیم کساد بازاری کے بعد سے بلند ترین شرح میں شمار ہوتا ہے۔</p>
<p>عالمی معاشی نمو کے لیے ایک اور خطرہ اس وقت سامنے آیا جب تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھا گیا۔ یہ اضافہ اُس وقت ہوا جب ٹرمپ نے روس کو یوکرین میں جنگ کے خاتمے کی جانب پیش رفت کے لیے 10 یا 12 دن کی نئی ڈیڈلائن دے دی، بصورتِ دیگر اُس پر تیل کی برآمدات سے متعلق مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275210</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Jul 2025 18:10:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/29102400dfadef3.png" type="image/png" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/29102400dfadef3.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
