<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کا روڈ میپ: اوگرا کی آئل انڈسٹری اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275207/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیر کے روز پاکستان کی آئل انڈسٹری کے اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملک بھر میں آئل سپلائی چین کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی پیش رفت اور مستقبل کے لائحہ عمل کا جائزہ لینے کے لیے ایک انٹریکٹو سیشن منعقد کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سیشن، جو زوم کے ذریعے منعقد ہوا، اوگرا کے وسیع تر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد آئل سیکٹر میں شفافیت، حفاظت اور کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین اوگرا مسرور خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ممبر آئل زین العابدین اور ممبر فنانس شکیل احمد بھی شریک تھے۔ اجلاس میں نظام کے آپریشنل فریم ورک، نفاذ کی حکمت عملی اور متوقع نتائج پر تفصیلی پریزنٹیشن دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی ایکسپلوزِوز، ڈی جی آئل، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) کے چیئرمین اور انڈسٹری کے 100 سے زائد نمائندگان، جن میں تمام ریفائنریز اور نمایاں آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (پی ایس او، پارکو، وافی انرجی، گیس اینڈ آئل پاکستان، بی انرجی، پُوما انرجی، زوم، یورو آئل، فوسل انرجی اور پی جی ایل) شامل تھے، سیشن میں شریک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین اوگرا نے آئل سپلائی چین کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور غیر مؤثر، غیر قانونی سرگرمیوں اور حفاظتی خطرات کو ختم کرنے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے صنعت کے اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ اس قومی منصوبے کی کامیابی کے لیے اوگرا کے ساتھ تعاون کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممبر آئل زین العابدین نے کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم ریفائنریز اور امپورٹ ٹرمینلز سے لے کر ڈپو، ٹینک لاریوں اور ریٹیل آؤٹ لیٹس تک پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت کی نگرانی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نظام ای آر پی پلیٹ فارمز، جی پی ایس ٹریکنگ اور مرکزی ڈیش بورڈز کو ضم کرتا ہے تاکہ ریئل ٹائم مانیٹرنگ اور ڈیٹا پر مبنی ریگولیشن ممکن ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوگرا حکام نے پریزنٹیشن میں بتایا کہ 29 آئل مارکیٹنگ کمپنیاں پہلے ہی ای آر پی سسٹمز نافذ کر چکی ہیں اور تقریباً 15,000 ٹینک لاریوں میں جی پی ایس ٹریکنگ نصب کی جا چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ڈیجیٹل ڈھانچہ اوگرا کے آئندہ سخت نفاذی اقدامات کو سہارا دے گا، جن کا مقصد غیر قانونی ڈیکانٹیشن، اسمگلنگ اور سپلائی چین کی دیگر بے ضابطگیوں کو روکنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیشن میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ اوگرا پاکستان میں شفاف اور محفوظ پٹرولیم سپلائی کے نظام کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیر کے روز پاکستان کی آئل انڈسٹری کے اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملک بھر میں آئل سپلائی چین کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی پیش رفت اور مستقبل کے لائحہ عمل کا جائزہ لینے کے لیے ایک انٹریکٹو سیشن منعقد کیا۔</strong></p>
<p>یہ سیشن، جو زوم کے ذریعے منعقد ہوا، اوگرا کے وسیع تر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد آئل سیکٹر میں شفافیت، حفاظت اور کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔</p>
<p>چیئرمین اوگرا مسرور خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ممبر آئل زین العابدین اور ممبر فنانس شکیل احمد بھی شریک تھے۔ اجلاس میں نظام کے آپریشنل فریم ورک، نفاذ کی حکمت عملی اور متوقع نتائج پر تفصیلی پریزنٹیشن دی گئی۔</p>
<p>ڈی جی ایکسپلوزِوز، ڈی جی آئل، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) کے چیئرمین اور انڈسٹری کے 100 سے زائد نمائندگان، جن میں تمام ریفائنریز اور نمایاں آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (پی ایس او، پارکو، وافی انرجی، گیس اینڈ آئل پاکستان، بی انرجی، پُوما انرجی، زوم، یورو آئل، فوسل انرجی اور پی جی ایل) شامل تھے، سیشن میں شریک ہوئے۔</p>
<p>چیئرمین اوگرا نے آئل سپلائی چین کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور غیر مؤثر، غیر قانونی سرگرمیوں اور حفاظتی خطرات کو ختم کرنے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے صنعت کے اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ اس قومی منصوبے کی کامیابی کے لیے اوگرا کے ساتھ تعاون کریں۔</p>
<p>ممبر آئل زین العابدین نے کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم ریفائنریز اور امپورٹ ٹرمینلز سے لے کر ڈپو، ٹینک لاریوں اور ریٹیل آؤٹ لیٹس تک پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت کی نگرانی کرے گا۔</p>
<p>یہ نظام ای آر پی پلیٹ فارمز، جی پی ایس ٹریکنگ اور مرکزی ڈیش بورڈز کو ضم کرتا ہے تاکہ ریئل ٹائم مانیٹرنگ اور ڈیٹا پر مبنی ریگولیشن ممکن ہو سکے۔</p>
<p>اوگرا حکام نے پریزنٹیشن میں بتایا کہ 29 آئل مارکیٹنگ کمپنیاں پہلے ہی ای آر پی سسٹمز نافذ کر چکی ہیں اور تقریباً 15,000 ٹینک لاریوں میں جی پی ایس ٹریکنگ نصب کی جا چکی ہے۔</p>
<p>یہ ڈیجیٹل ڈھانچہ اوگرا کے آئندہ سخت نفاذی اقدامات کو سہارا دے گا، جن کا مقصد غیر قانونی ڈیکانٹیشن، اسمگلنگ اور سپلائی چین کی دیگر بے ضابطگیوں کو روکنا ہے۔</p>
<p>سیشن میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ اوگرا پاکستان میں شفاف اور محفوظ پٹرولیم سپلائی کے نظام کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275207</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Jul 2025 09:44:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/29094254c103907.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/29094254c103907.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
