<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:23:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:23:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اپٹما کا شرح سود میں 200 بیسس پوائنٹس کمی کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275201/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) سے مطالبہ کیا ہے کہ شرح سود میں 200 بیسس پوائنٹس کی کمی کی جائے، تاکہ موجودہ شرح کو 11 فیصد سے گھٹاکر 9 فیصد کیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کی ایم پی سی کا اجلاس 30 جولائی 2025 کو شیڈول ہے، جس میں پالیسی ریٹ کا جائزہ لیا جائے گا، اور قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ کمی 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کے درمیان ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو جاری کردہ ایک بیان میں اپٹما نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں 11 فیصد پالیسی ریٹ رکھنے سے 6 فیصد کا حقیقی سودی ریٹ بنتا ہے، جو خطے میں سب سے زیادہ میں سے ایک ہے۔ مہنگائی تقریباً 5 فیصد کے آس پاس ہے، لہٰذا ہم ایم پی سی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پالیسی ریٹ کو اس کے مطابق ایڈجسٹ کرے۔’’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے نشاندہی کی کہ پاکستان کا حقیقی سودی ریٹ خطے کے حریفوں سے نمایاں طور پر زیادہ ہے، بھارت میں یہ 3.4 فیصد اور چین میں 1.4 فیصد ہے۔ اپٹما نے خبردار کیا کہ ضرورت سے زیادہ سخت مانیٹری پالیسی پاکستان کی علاقائی اور عالمی مسابقت کو ختم کر رہی ہے اور مقامی صنعتی سرگرمی کو بھی دبا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی صنعتیں پہلے ہی 12 سے 14 سینٹ فی کلو واٹ آور کے ٹیرف کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں جو خطے کی اوسط 5 سے 9 سینٹ سے کافی زیادہ ہے، اور انہیں مالیاتی اخراجات کا سامنا ہے جو خطے کے حریفوں کے مقابلے میں تقریباً دگنے ہیں، بیان میں کہا گیا کہ اس کے ساتھ ساتھ 22 فیصد کی تشویشناک بیروزگاری کی شرح، جو بھارت کے 4.2 فیصد اور چین کے 4.6 فیصد سے کہیں زیادہ ہے، موجودہ مانیٹری پالیسی فریم ورک کو معاشی طور پر ناقابلِ برداشت بناتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما نے مزید زور دیا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا محصولات میں 18 فیصد اضافے کا ہدف کاروباری سرگرمی میں توسیع کے اس مفروضے پر مبنی ہے، جو سخت مالیاتی حالات سے متاثر ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 18 جولائی 2025 تک بڑھ کر 14.46 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، لیکن یہ اضافہ بنیادی طور پر بیرونی قرضوں کی بدولت ہے، نہ کہ برآمدات یا پیداواری صلاحیت میں اضافے کے باعث، اپٹما نے کہا کہ مسلسل بلند شرحِ سود پاکستان کے قرضوں کے بوجھ کو بڑھا رہی ہے، جس سے مقامی قرضوں کی سروسنگ پر سالانہ اندازاً 3 کھرب روپے کا اضافہ ہو رہا ہے۔’’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے ایم پی سی سے مطالبہ کیا کہ پالیسی ریٹ کو 9 فیصد تک کم کیا جائے اور 31 دسمبر 2025 تک اسے مزید گھٹا کر 6 فیصد تک لانے کا واضح روڈ میپ دیا جائے۔ یہ اقدامات صنعتی مسابقت کو بحال کرنے، معاشی بحالی کو سہارا دینے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ پاکستان میں پیداوار اور برآمدات کی صلاحیت موجود ہے، لیکن اس کے پاس قومی ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ مانیٹری پالیسی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما نے اس بات پر زور دیا کہ لچکدار مانیٹری پالیسی، ہدفی مالیاتی اور ریگولیٹری اقدامات کے ساتھ، میکرو اکنامک عدم توازن کو دور کر سکتی ہے بغیر اس کے کہ ترقی کو روکا جائے۔ 30 جولائی کا ایم پی سی اجلاس فیصلہ کن ہوگا، یہ واضح کرے گا کہ آیا مرکزی بینک معاشی توسیع کی حمایت کے لیے تیار ہے یا اس پالیسی کو جاری رکھے گا جو جمود کو مستحکم کرتی ہے۔’’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ کاروباری برادری ایم پی سی سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ صرف مہنگائی پر قابو پانے کے بجائے پیداواری شعبے کو ترجیح دے۔ ہم تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایک متحرک اور خوشحال پاکستان کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے پُرعزم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) سے مطالبہ کیا ہے کہ شرح سود میں 200 بیسس پوائنٹس کی کمی کی جائے، تاکہ موجودہ شرح کو 11 فیصد سے گھٹاکر 9 فیصد کیا جا سکے۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک کی ایم پی سی کا اجلاس 30 جولائی 2025 کو شیڈول ہے، جس میں پالیسی ریٹ کا جائزہ لیا جائے گا، اور قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ کمی 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کے درمیان ہوسکتی ہے۔</p>
<p>پیر کو جاری کردہ ایک بیان میں اپٹما نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں 11 فیصد پالیسی ریٹ رکھنے سے 6 فیصد کا حقیقی سودی ریٹ بنتا ہے، جو خطے میں سب سے زیادہ میں سے ایک ہے۔ مہنگائی تقریباً 5 فیصد کے آس پاس ہے، لہٰذا ہم ایم پی سی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پالیسی ریٹ کو اس کے مطابق ایڈجسٹ کرے۔’’</p>
<p>ایسوسی ایشن نے نشاندہی کی کہ پاکستان کا حقیقی سودی ریٹ خطے کے حریفوں سے نمایاں طور پر زیادہ ہے، بھارت میں یہ 3.4 فیصد اور چین میں 1.4 فیصد ہے۔ اپٹما نے خبردار کیا کہ ضرورت سے زیادہ سخت مانیٹری پالیسی پاکستان کی علاقائی اور عالمی مسابقت کو ختم کر رہی ہے اور مقامی صنعتی سرگرمی کو بھی دبا رہی ہے۔</p>
<p>پاکستانی صنعتیں پہلے ہی 12 سے 14 سینٹ فی کلو واٹ آور کے ٹیرف کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں جو خطے کی اوسط 5 سے 9 سینٹ سے کافی زیادہ ہے، اور انہیں مالیاتی اخراجات کا سامنا ہے جو خطے کے حریفوں کے مقابلے میں تقریباً دگنے ہیں، بیان میں کہا گیا کہ اس کے ساتھ ساتھ 22 فیصد کی تشویشناک بیروزگاری کی شرح، جو بھارت کے 4.2 فیصد اور چین کے 4.6 فیصد سے کہیں زیادہ ہے، موجودہ مانیٹری پالیسی فریم ورک کو معاشی طور پر ناقابلِ برداشت بناتی ہے۔</p>
<p>اپٹما نے مزید زور دیا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا محصولات میں 18 فیصد اضافے کا ہدف کاروباری سرگرمی میں توسیع کے اس مفروضے پر مبنی ہے، جو سخت مالیاتی حالات سے متاثر ہو رہی ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 18 جولائی 2025 تک بڑھ کر 14.46 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، لیکن یہ اضافہ بنیادی طور پر بیرونی قرضوں کی بدولت ہے، نہ کہ برآمدات یا پیداواری صلاحیت میں اضافے کے باعث، اپٹما نے کہا کہ مسلسل بلند شرحِ سود پاکستان کے قرضوں کے بوجھ کو بڑھا رہی ہے، جس سے مقامی قرضوں کی سروسنگ پر سالانہ اندازاً 3 کھرب روپے کا اضافہ ہو رہا ہے۔’’</p>
<p>ایسوسی ایشن نے ایم پی سی سے مطالبہ کیا کہ پالیسی ریٹ کو 9 فیصد تک کم کیا جائے اور 31 دسمبر 2025 تک اسے مزید گھٹا کر 6 فیصد تک لانے کا واضح روڈ میپ دیا جائے۔ یہ اقدامات صنعتی مسابقت کو بحال کرنے، معاشی بحالی کو سہارا دینے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ پاکستان میں پیداوار اور برآمدات کی صلاحیت موجود ہے، لیکن اس کے پاس قومی ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ مانیٹری پالیسی نہیں ہے۔</p>
<p>اپٹما نے اس بات پر زور دیا کہ لچکدار مانیٹری پالیسی، ہدفی مالیاتی اور ریگولیٹری اقدامات کے ساتھ، میکرو اکنامک عدم توازن کو دور کر سکتی ہے بغیر اس کے کہ ترقی کو روکا جائے۔ 30 جولائی کا ایم پی سی اجلاس فیصلہ کن ہوگا، یہ واضح کرے گا کہ آیا مرکزی بینک معاشی توسیع کی حمایت کے لیے تیار ہے یا اس پالیسی کو جاری رکھے گا جو جمود کو مستحکم کرتی ہے۔’’</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ کاروباری برادری ایم پی سی سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ صرف مہنگائی پر قابو پانے کے بجائے پیداواری شعبے کو ترجیح دے۔ ہم تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایک متحرک اور خوشحال پاکستان کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے پُرعزم ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275201</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Jul 2025 08:50:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/29084852facea19.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/29084852facea19.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
