<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالیاتی خسارہ: فنانس ڈویژن کے اعداد و شمار میں ہم آہنگی کا فقدان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275199/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ماہانہ رپورٹ ”اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک جولائی 2025“ میں مالیاتی خسارے کے اعداد و شمار میں ہم آہنگی کا فقدان دیکھا گیا، جس میں جولائی تا مئی مالی سال 2025 کے لیے 0.6 فیصد کا فرق سامنے آیا—تجزیے میں 3.1 فیصد اور آؤٹ لک میں 3.7 فیصد۔ فنانس ڈویژن کے مطابق مہنگائی 3.5 تا 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، تاہم حالیہ شدید بارشوں سے زرعی پیداوار اور سپلائی چین پر اثرات کے خطرات موجود ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ جولائی تا مئی مالی سال 2025 میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) میں 1.2 فیصد کمی ہوئی جبکہ پچھلے سال اسی مدت میں 0.9 فیصد معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ مئی 2025 میں ایل ایس ایم کی پیداوار میں ماہانہ بنیادوں پر 7.9 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 2.3 فیصد اضافہ ہوا۔ مقامی سیمنٹ کی فروخت 3.1 فیصد کمی سے 37.0 ملین ٹن رہی جبکہ برآمدات 29.5 فیصد بڑھ کر 9.2 ملین ٹن تک پہنچ گئیں۔ زرعی کریڈٹ کی فراہمی 16.6 فیصد اضافے سے 2,300.4 ارب روپے رہی جبکہ زرعی مشینری کی درآمدات میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025 کے دوران مہنگائی میں نمایاں کمی آئی اور اوسط صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) 4.5 فیصد رہا جو گزشتہ سال کے 23.4 فیصد سے بہت کم ہے۔ جون 2025 میں سی پی آئی 3.2 فیصد سالانہ ریکارڈ ہوا جبکہ خراب ہونے والی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں 10.6 فیصد کمی نے مجموعی مہنگائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہاؤسنگ، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کے گروپ میں بھی 3.3 فیصد کمی آئی جبکہ صحت، تعلیم، کپڑے، ریستوران اور دیگر غیر خراب ہونے والی اشیا میں اضافہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 میں معیشت نے 2.68 فیصد ترقی کی، پالیسی ریٹ میں کمی، مستحکم ایکسچینج ریٹ اور محتاط مالیاتی نظم و نسق نے مہنگائی کو کم کیا۔ کرنٹ اکائونٹ 2.1 ارب ڈالر سرپلس رہا جو 14 سال بعد پہلا اور 22 سال میں سب سے بڑا سالانہ سرپلس ہے۔ مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 3.1 فیصد تک محدود رہا جو گزشتہ سال 5 فیصد تھا، جبکہ پرائمری سرپلس 3.1 فیصد تک بڑھا۔ ٹیکس وصولیوں میں 26.3 فیصد اضافے سے ایف بی آر کا ریونیو 11,744.3 ارب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ وفاقی محصولات 41.1 فیصد بڑھ کر 8,750.9 ارب روپے ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025 میں اشیائے تجارت کی برآمدات 4.2 فیصد بڑھ کر 32.3 ارب ڈالر ہوئیں، جبکہ درآمدات میں 11.1 فیصد اضافے سے تجارتی خسارہ 26.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ خدمات کی برآمدات 9.1 فیصد اضافے سے 8.4 ارب ڈالر رہیں جبکہ درآمدات 2 فیصد بڑھ کر 11 ارب ڈالر تک پہنچیں۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) 4.7 فیصد بڑھ کر 2.5 ارب ڈالر رہی، جس میں چین اور ہانگ کانگ سرفہرست رہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر 11 جولائی 2025 تک بڑھ کر 19.9 ارب ڈالر ہو گئے، جن میں سے 14.5 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کے پاس ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2026 ایک پائیدار اور جامع ترقی کے عزم کے ساتھ شروع ہو رہا ہے، جس میں مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافہ، زرعی و صنعتی شعبوں کی جدیدیت اور انسانی سرمائے کی ترقی پر توجہ دی جا رہی ہے۔ حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو مالی سال 2026 میں 4.2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ماہانہ رپورٹ ”اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک جولائی 2025“ میں مالیاتی خسارے کے اعداد و شمار میں ہم آہنگی کا فقدان دیکھا گیا، جس میں جولائی تا مئی مالی سال 2025 کے لیے 0.6 فیصد کا فرق سامنے آیا—تجزیے میں 3.1 فیصد اور آؤٹ لک میں 3.7 فیصد۔ فنانس ڈویژن کے مطابق مہنگائی 3.5 تا 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، تاہم حالیہ شدید بارشوں سے زرعی پیداوار اور سپلائی چین پر اثرات کے خطرات موجود ہیں۔</strong></p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ جولائی تا مئی مالی سال 2025 میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) میں 1.2 فیصد کمی ہوئی جبکہ پچھلے سال اسی مدت میں 0.9 فیصد معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ مئی 2025 میں ایل ایس ایم کی پیداوار میں ماہانہ بنیادوں پر 7.9 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 2.3 فیصد اضافہ ہوا۔ مقامی سیمنٹ کی فروخت 3.1 فیصد کمی سے 37.0 ملین ٹن رہی جبکہ برآمدات 29.5 فیصد بڑھ کر 9.2 ملین ٹن تک پہنچ گئیں۔ زرعی کریڈٹ کی فراہمی 16.6 فیصد اضافے سے 2,300.4 ارب روپے رہی جبکہ زرعی مشینری کی درآمدات میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>مالی سال 2025 کے دوران مہنگائی میں نمایاں کمی آئی اور اوسط صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) 4.5 فیصد رہا جو گزشتہ سال کے 23.4 فیصد سے بہت کم ہے۔ جون 2025 میں سی پی آئی 3.2 فیصد سالانہ ریکارڈ ہوا جبکہ خراب ہونے والی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں 10.6 فیصد کمی نے مجموعی مہنگائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہاؤسنگ، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کے گروپ میں بھی 3.3 فیصد کمی آئی جبکہ صحت، تعلیم، کپڑے، ریستوران اور دیگر غیر خراب ہونے والی اشیا میں اضافہ دیکھا گیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 میں معیشت نے 2.68 فیصد ترقی کی، پالیسی ریٹ میں کمی، مستحکم ایکسچینج ریٹ اور محتاط مالیاتی نظم و نسق نے مہنگائی کو کم کیا۔ کرنٹ اکائونٹ 2.1 ارب ڈالر سرپلس رہا جو 14 سال بعد پہلا اور 22 سال میں سب سے بڑا سالانہ سرپلس ہے۔ مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 3.1 فیصد تک محدود رہا جو گزشتہ سال 5 فیصد تھا، جبکہ پرائمری سرپلس 3.1 فیصد تک بڑھا۔ ٹیکس وصولیوں میں 26.3 فیصد اضافے سے ایف بی آر کا ریونیو 11,744.3 ارب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ وفاقی محصولات 41.1 فیصد بڑھ کر 8,750.9 ارب روپے ہو گئے۔</p>
<p>مالی سال 2025 میں اشیائے تجارت کی برآمدات 4.2 فیصد بڑھ کر 32.3 ارب ڈالر ہوئیں، جبکہ درآمدات میں 11.1 فیصد اضافے سے تجارتی خسارہ 26.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ خدمات کی برآمدات 9.1 فیصد اضافے سے 8.4 ارب ڈالر رہیں جبکہ درآمدات 2 فیصد بڑھ کر 11 ارب ڈالر تک پہنچیں۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) 4.7 فیصد بڑھ کر 2.5 ارب ڈالر رہی، جس میں چین اور ہانگ کانگ سرفہرست رہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر 11 جولائی 2025 تک بڑھ کر 19.9 ارب ڈالر ہو گئے، جن میں سے 14.5 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کے پاس ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2026 ایک پائیدار اور جامع ترقی کے عزم کے ساتھ شروع ہو رہا ہے، جس میں مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافہ، زرعی و صنعتی شعبوں کی جدیدیت اور انسانی سرمائے کی ترقی پر توجہ دی جا رہی ہے۔ حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو مالی سال 2026 میں 4.2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275199</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Jul 2025 08:34:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/290831337611eed.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/290831337611eed.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
