<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 13:05:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 13:05:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ایس ایکس کا بڑا فیصلہ، فروری 2026 سے اسٹاک سیٹلمنٹ دورانیہ ایک روزہ کر دیا جائے گا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275194/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے اپنے نقد لین دین کے نظام کو جدید بنانے کے لیے کام کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت فروری 2026 سے حصص کی خرید و فروخت کی ادائیگی کا دورانیہ موجودہ دو دن (T+2) سے کم کر کے ایک دن (T+1) کر دیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تبدیلی سے نہ صرف مارکیٹ میں لیکویڈیٹی (نقدی کی دستیابی) بہتر ہوگی بلکہ سرمایہ کار تیزی سے فیصلے کر سکیں گے اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ اس اقدام سے پاکستان کیپٹل مارکیٹ، خاص طور پر عالمی سرمایہ کاروں کی نظر میں، مزید بااعتماد اور جدید تصور کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ٹریڈنگ ہال میں منعقدہ تقریب میں سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین عاکف سعید نے اعلان کیا کہ 9 فروری 2026 سے پی ایس ایکس میں T+1 سیٹلمنٹ سائیکل کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تقریب نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (این سی سی پی ایل) نے منعقد کی، جو پی ایس ایکس میں حصص کی کلیئرنگ اور سیٹلمنٹ کا مرکزی ادارہ ہے۔ اس نظام میں سینٹرل ڈپازٹری کمپنی (سی ڈی سی) اور مقامی و غیر ملکی بینکوں سمیت دیگر شراکت دار بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاکف سعید نے کہا کہ اس تبدیلی کے لیے تمام فریقین کو ایک مربوط ماڈل اور تصور پر متفق ہونے میں تقریباً ایک سال لگا، اور اب اس کے نفاذ کا مرحلہ بھی وقت طلب ہوگا۔ ’’9 فروری 2026 وہ دن ہوگا جب ہم T+2 سے T+1 کی جانب باقاعدہ منتقل ہو جائیں گے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ اس نظام سے بروکرز اور سرمایہ کاروں دونوں کے لیے لیکویڈیٹی میں بہتری آئے گی۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی دیکھی گئی ہے، تاہم اب بھی عالمی سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی چیئرپرسن ڈاکٹر شمشاد اختر نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹ کا T+1 سیٹلمنٹ نظام کی جانب بڑھنا ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔ ’’یہ قدم جدت، کارکردگی اور عالمی انضمام کے لیے ہمارے اجتماعی عزم کی علامت ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ T+1 نظام کو اختیار کرنے سے پی ایس ایکس عالمی ہم پلہ مارکیٹوں کے برابر آ جائے گا۔ ’’یہ فیصلہ پاکستان کا تنہا قدم نہیں بلکہ دنیا بھر میں تیزی اور موثر مالیاتی مارکیٹ کے قیام کی جاری مہم کا حصہ ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر شمشاد اختر نے یاد دلایا کہ بھارت نے 2023 کے اوائل میں T+1 نظام مکمل طور پر اپنا لیا تھا، جب کہ امریکہ اور کینیڈا نے مئی 2024 میں یہ تبدیلی کی۔ یورپ، برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ نے بھی 2027 تک T+1 نظام اپنانے کے منصوبوں کا اعلان کر رکھا ہے، جب کہ چین اور ہانگ کانگ پہلے ہی اسی دن سیٹلمنٹ کے نظام پر کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’’پاکستان کا اس عالمی گروپ میں شامل ہونا صرف بروقت نہیں بلکہ ایک حکمت عملی کا حصہ ہے، جو ہماری مارکیٹ کو دنیا کے نقشے پر ایک مسابقتی، جدید اور قائدانہ مارکیٹ کے طور پر پیش کرتا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے اپنے نقد لین دین کے نظام کو جدید بنانے کے لیے کام کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت فروری 2026 سے حصص کی خرید و فروخت کی ادائیگی کا دورانیہ موجودہ دو دن (T+2) سے کم کر کے ایک دن (T+1) کر دیا جائے گا۔</strong></p>
<p>اس تبدیلی سے نہ صرف مارکیٹ میں لیکویڈیٹی (نقدی کی دستیابی) بہتر ہوگی بلکہ سرمایہ کار تیزی سے فیصلے کر سکیں گے اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ اس اقدام سے پاکستان کیپٹل مارکیٹ، خاص طور پر عالمی سرمایہ کاروں کی نظر میں، مزید بااعتماد اور جدید تصور کی جائے گی۔</p>
<p>پیر کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ٹریڈنگ ہال میں منعقدہ تقریب میں سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین عاکف سعید نے اعلان کیا کہ 9 فروری 2026 سے پی ایس ایکس میں T+1 سیٹلمنٹ سائیکل کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا۔</p>
<p>یہ تقریب نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (این سی سی پی ایل) نے منعقد کی، جو پی ایس ایکس میں حصص کی کلیئرنگ اور سیٹلمنٹ کا مرکزی ادارہ ہے۔ اس نظام میں سینٹرل ڈپازٹری کمپنی (سی ڈی سی) اور مقامی و غیر ملکی بینکوں سمیت دیگر شراکت دار بھی شامل ہیں۔</p>
<p>عاکف سعید نے کہا کہ اس تبدیلی کے لیے تمام فریقین کو ایک مربوط ماڈل اور تصور پر متفق ہونے میں تقریباً ایک سال لگا، اور اب اس کے نفاذ کا مرحلہ بھی وقت طلب ہوگا۔ ’’9 فروری 2026 وہ دن ہوگا جب ہم T+2 سے T+1 کی جانب باقاعدہ منتقل ہو جائیں گے۔‘‘</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ اس نظام سے بروکرز اور سرمایہ کاروں دونوں کے لیے لیکویڈیٹی میں بہتری آئے گی۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی دیکھی گئی ہے، تاہم اب بھی عالمی سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔</p>
<p>پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی چیئرپرسن ڈاکٹر شمشاد اختر نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹ کا T+1 سیٹلمنٹ نظام کی جانب بڑھنا ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔ ’’یہ قدم جدت، کارکردگی اور عالمی انضمام کے لیے ہمارے اجتماعی عزم کی علامت ہے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ T+1 نظام کو اختیار کرنے سے پی ایس ایکس عالمی ہم پلہ مارکیٹوں کے برابر آ جائے گا۔ ’’یہ فیصلہ پاکستان کا تنہا قدم نہیں بلکہ دنیا بھر میں تیزی اور موثر مالیاتی مارکیٹ کے قیام کی جاری مہم کا حصہ ہے۔‘‘</p>
<p>ڈاکٹر شمشاد اختر نے یاد دلایا کہ بھارت نے 2023 کے اوائل میں T+1 نظام مکمل طور پر اپنا لیا تھا، جب کہ امریکہ اور کینیڈا نے مئی 2024 میں یہ تبدیلی کی۔ یورپ، برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ نے بھی 2027 تک T+1 نظام اپنانے کے منصوبوں کا اعلان کر رکھا ہے، جب کہ چین اور ہانگ کانگ پہلے ہی اسی دن سیٹلمنٹ کے نظام پر کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ’’پاکستان کا اس عالمی گروپ میں شامل ہونا صرف بروقت نہیں بلکہ ایک حکمت عملی کا حصہ ہے، جو ہماری مارکیٹ کو دنیا کے نقشے پر ایک مسابقتی، جدید اور قائدانہ مارکیٹ کے طور پر پیش کرتا ہے۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275194</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Jul 2025 21:43:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/282129557a6f6ef.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/282129557a6f6ef.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
