<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیل کی عارضی جنگ بندی کے بعد غزہ میں خوراک کی ترسیل شروع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275191/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیل کی جانب سے محفوظ امدادی راستے کھولنے کا وعدہ کرنے پر پیر کے روز غذائی سامان سے لدے ٹرک بھوک سے پریشان فلسطینیوں تک پہنچے، تاہم انسانی ہمدردی کی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ قحط سے بچاؤ کے لیے بڑی مقدار میں مزید امداد کی فوری ضرورت ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کی 20 لاکھ سے زائد آبادی قحط اور غذائی قلت کے خطرے سے دوچار ہے۔ بین الاقوامی دباؤ کے تحت اسرائیل نے اختتامِ ہفتہ پر بعض علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر ”تزویراتی جنگ بندی“ کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;37 سالہ جمیل صفدی، جو اپنی بیوی، چھ بچوں اور بیمار والد کے ساتھ تل الہوی میں القدس اسپتال کے قریب ایک خیمے میں مقیم ہیں، نے کہا کہ پہلی بار مجھے تقریباً پانچ کلو آٹا ملا، جو میں نے اپنے ہمسائے کے ساتھ بانٹ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صفدی، جو پچھلے دو ہفتوں سے روزانہ طلوعِ فجر سے قبل خوراک کی تلاش میں نکلتے رہے، نے کہا کہ پیر ان کی پہلی کامیابی کا دن تھا۔ دیگر شہری اس قدر خوش نصیب نہ تھے؛ کچھ نے شکایت کی کہ امدادی ٹرک لوٹ لیے گئے یا امریکی حمایت یافتہ مراکز کے قریب محافظوں نے ان پر فائرنگ کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;33 سالہ عامر الرش، جو اب بھی خوراک سے محروم ہیں اور خیمے میں مقیم ہیں، نے کہا کہ میں نے زخمیوں اور لاشوں کو دیکھا۔ لوگوں کے پاس روزانہ آٹے کے لیے کوشش کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ مصر سے جو امداد آئی وہ بہت محدود تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے 2 مارچ کو اس وقت غزہ پر ناکہ بندی کی تھی جب چھ ہفتے کی جنگ بندی کے مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔ اس کے بعد مئی کے آخر تک کسی قسم کی امداد کی اجازت نہیں دی گئی، اور بعد ازاں معمولی مقدار میں امداد کی آمد دوبارہ شروع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اسرائیلی وزارتِ دفاع کی سول امور کی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ اور دیگر امدادی ادارے اتوار کے روز 120 ٹرکوں پر مشتمل امداد حاصل کر کے اسے غزہ کے اندر تقسیم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور مزید امدادی ٹرک پیر کے روز پہنچنے والے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنیادی ضروریات کا سامان&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اردن اور متحدہ عرب امارات نے غزہ میں پیراشوٹ کے ذریعے امدادی پیکج گرانا شروع کر دیے ہیں جبکہ مصر نے رفح بارڈر کراسنگ کے ذریعے امدادی ٹرک ایک اسرائیلی چیک پوسٹ تک بھیجے ہیں جو غزہ کے اندر واقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی انروا ( UNRWA) نے اسرائیل کے ”انسانی ہمدردی کے (جنگی) وقفوں“ کا محتاط خیرمقدم کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غزہ کو روزانہ کم از کم 500 سے 600 ٹرک خوراک، ادویات اور صفائی کا سامان درکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنسی کا کہنا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ انروا ( UNRWA) کو آخرکار ہزاروں ٹرک، جو خوراک، ادویات اور صفائی کا سامان لے کر تیار کھڑے ہیں، اندر لانے کی اجازت مل جائے گی۔ یہ اس وقت اردن اور مصر میں اجازت کے انتظار میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنسی نے مزید کہا ہے کہ تمام راستے کھول دینا اور غزہ میں امداد کو بڑی مقدار میں پہنچانا ہی وہاں کے عوام میں بھوک کی شدت کو مزید بڑھنے سے روکنے کا واحد راستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ان الزامات کی  سختی سے تردید کی ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر فلسطینی شہریوں کو بھوکا رکھ رہا ہے تاکہ فلسطینی گروپ حماس کو کچلنے کی اپنی 21 ماہ پرانی شدید جنگ میں کامیابی حاصل کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ اور امدادی اداروں کو لڑائی میں وقفے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امدادی راستے محفوظ بنانے چاہیے اور غزہ کی سرحدی گذرگاہوں پر پہنچنے والی امداد کو فوراً لے کر تقسیم کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفاعی وزارت کی ایک ایجنسی (سی او جی اے ٹی) ، جو فلسطینی امور کی نگرانی کرتی ہے، نے کہا ہے کہ مزید 180 ٹرک غزہ میں داخل ہو چکے ہیں اور اب انہیں لے کر تقسیم کیا جانا ہے، اس کے علاوہ سیکڑوں ٹرک اقوامِ متحدہ کی منتظر قطار میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے امداد کی زیادہ مستقل تقسیم کا مطلب ہے کہ زیادہ سے زیادہ امداد ان لوگوں تک پہنچے گی جنہیں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انروا (UNRWA) نے تصدیق کی ہے کہ وہ تقسیم میں اضافہ کرنے کے لیے تیار ہے، اس کے 10,000 عملے کے ارکان غزہ میں موجود ہیں اور ترسیلات کا انتظار کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنسی کے بیان کے مطابق ہماری تازہ ترین معلومات کے مطابق غزہ شہر میں ہر پانچ بچوں میں سے ایک غذائی قلت کا شکار ہے۔ بھوک کی وجہ سے مزید بچوں کی موت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس سے بھوکے مریضوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے اختتام پر امدادی ٹرک مصر اور اردن سے پہنچنا شروع ہو گئے اور غزہ کے اندر تقسیم کے مراکز پر اپنا سامان اتار دیا، جہاں سے علاقے میں کام کرنے والی تنظیمیں اسے لے کر تقسیم کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم امدادی ادارے خبردار کرتے ہیں کہ امدادی سامان کی یہ مقدار اب  بھی ضرورت سے بہت کم ہے اور مستقل جنگ بندی، مزید سرحدی گذرگاہوں کے کھلنے اور ایک طویل مدتی وسیع پیمانے پر انسانی امدادی آپریشن کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیلڈ اسپتال میں سی سیکشن&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصر، قطر اور امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی مذاکرات رک گئے ہیں اور نیتن یاہو حماس کو تباہ کرنے اور غزہ میں قید اسرائیلی یرغمالیوں کو بازیاب کرانے کی مہم جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے کہا ہے کہ پیر کو اسرائیلی فائرنگ سے 16 افراد شہید ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنسی کے ترجمان محمود بسال کے مطابق ان میں سے پانچ افراد کی شہادت رات کے وقت جنوبی غزہ کے علاقے المواسی میں ایک رہائشی عمارت پر حملے میں ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلسطینی ہلال احمر( ریڈ کریسنٹ) کے مطابق شہداء میں ایک حاملہ خاتون  بھی شامل تھی، جن کی جان بچانے کے لیے ان کے جنین (نامولود بچے) کو فیلڈ اسپتال میں آپریشن (سیزیرین سیکشن) کے ذریعے نکالا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ میں اس وقت بھی تشدد جاری ہے جب اقوامِ متحدہ کی نیویارک کانفرنس میں فرانس اور سعودی عرب اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان دو ریاستی امن معاہدے کی معطل کوششوں کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیل کی جانب سے محفوظ امدادی راستے کھولنے کا وعدہ کرنے پر پیر کے روز غذائی سامان سے لدے ٹرک بھوک سے پریشان فلسطینیوں تک پہنچے، تاہم انسانی ہمدردی کی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ قحط سے بچاؤ کے لیے بڑی مقدار میں مزید امداد کی فوری ضرورت ہے۔</strong></p>
<p>غزہ کی 20 لاکھ سے زائد آبادی قحط اور غذائی قلت کے خطرے سے دوچار ہے۔ بین الاقوامی دباؤ کے تحت اسرائیل نے اختتامِ ہفتہ پر بعض علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر ”تزویراتی جنگ بندی“ کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>37 سالہ جمیل صفدی، جو اپنی بیوی، چھ بچوں اور بیمار والد کے ساتھ تل الہوی میں القدس اسپتال کے قریب ایک خیمے میں مقیم ہیں، نے کہا کہ پہلی بار مجھے تقریباً پانچ کلو آٹا ملا، جو میں نے اپنے ہمسائے کے ساتھ بانٹ لیا۔</p>
<p>صفدی، جو پچھلے دو ہفتوں سے روزانہ طلوعِ فجر سے قبل خوراک کی تلاش میں نکلتے رہے، نے کہا کہ پیر ان کی پہلی کامیابی کا دن تھا۔ دیگر شہری اس قدر خوش نصیب نہ تھے؛ کچھ نے شکایت کی کہ امدادی ٹرک لوٹ لیے گئے یا امریکی حمایت یافتہ مراکز کے قریب محافظوں نے ان پر فائرنگ کی۔</p>
<p>33 سالہ عامر الرش، جو اب بھی خوراک سے محروم ہیں اور خیمے میں مقیم ہیں، نے کہا کہ میں نے زخمیوں اور لاشوں کو دیکھا۔ لوگوں کے پاس روزانہ آٹے کے لیے کوشش کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ مصر سے جو امداد آئی وہ بہت محدود تھی۔</p>
<p>اسرائیل نے 2 مارچ کو اس وقت غزہ پر ناکہ بندی کی تھی جب چھ ہفتے کی جنگ بندی کے مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔ اس کے بعد مئی کے آخر تک کسی قسم کی امداد کی اجازت نہیں دی گئی، اور بعد ازاں معمولی مقدار میں امداد کی آمد دوبارہ شروع ہوئی۔</p>
<p>اب اسرائیلی وزارتِ دفاع کی سول امور کی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ اور دیگر امدادی ادارے اتوار کے روز 120 ٹرکوں پر مشتمل امداد حاصل کر کے اسے غزہ کے اندر تقسیم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور مزید امدادی ٹرک پیر کے روز پہنچنے والے ہیں۔</p>
<p><strong>بنیادی ضروریات کا سامان</strong></p>
<p>اردن اور متحدہ عرب امارات نے غزہ میں پیراشوٹ کے ذریعے امدادی پیکج گرانا شروع کر دیے ہیں جبکہ مصر نے رفح بارڈر کراسنگ کے ذریعے امدادی ٹرک ایک اسرائیلی چیک پوسٹ تک بھیجے ہیں جو غزہ کے اندر واقع ہے۔</p>
<p>فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی انروا ( UNRWA) نے اسرائیل کے ”انسانی ہمدردی کے (جنگی) وقفوں“ کا محتاط خیرمقدم کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غزہ کو روزانہ کم از کم 500 سے 600 ٹرک خوراک، ادویات اور صفائی کا سامان درکار ہے۔</p>
<p>ایجنسی کا کہنا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ انروا ( UNRWA) کو آخرکار ہزاروں ٹرک، جو خوراک، ادویات اور صفائی کا سامان لے کر تیار کھڑے ہیں، اندر لانے کی اجازت مل جائے گی۔ یہ اس وقت اردن اور مصر میں اجازت کے انتظار میں ہیں۔</p>
<p>ایجنسی نے مزید کہا ہے کہ تمام راستے کھول دینا اور غزہ میں امداد کو بڑی مقدار میں پہنچانا ہی وہاں کے عوام میں بھوک کی شدت کو مزید بڑھنے سے روکنے کا واحد راستہ ہے۔</p>
<p>اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ان الزامات کی  سختی سے تردید کی ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر فلسطینی شہریوں کو بھوکا رکھ رہا ہے تاکہ فلسطینی گروپ حماس کو کچلنے کی اپنی 21 ماہ پرانی شدید جنگ میں کامیابی حاصل کرے۔</p>
<p>فوجی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ اور امدادی اداروں کو لڑائی میں وقفے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امدادی راستے محفوظ بنانے چاہیے اور غزہ کی سرحدی گذرگاہوں پر پہنچنے والی امداد کو فوراً لے کر تقسیم کرنا چاہیے۔</p>
<p>دفاعی وزارت کی ایک ایجنسی (سی او جی اے ٹی) ، جو فلسطینی امور کی نگرانی کرتی ہے، نے کہا ہے کہ مزید 180 ٹرک غزہ میں داخل ہو چکے ہیں اور اب انہیں لے کر تقسیم کیا جانا ہے، اس کے علاوہ سیکڑوں ٹرک اقوامِ متحدہ کی منتظر قطار میں ہیں۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے امداد کی زیادہ مستقل تقسیم کا مطلب ہے کہ زیادہ سے زیادہ امداد ان لوگوں تک پہنچے گی جنہیں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔</p>
<p>انروا (UNRWA) نے تصدیق کی ہے کہ وہ تقسیم میں اضافہ کرنے کے لیے تیار ہے، اس کے 10,000 عملے کے ارکان غزہ میں موجود ہیں اور ترسیلات کا انتظار کر رہے ہیں۔</p>
<p>ایجنسی کے بیان کے مطابق ہماری تازہ ترین معلومات کے مطابق غزہ شہر میں ہر پانچ بچوں میں سے ایک غذائی قلت کا شکار ہے۔ بھوک کی وجہ سے مزید بچوں کی موت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس سے بھوکے مریضوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔</p>
<p>ہفتے کے اختتام پر امدادی ٹرک مصر اور اردن سے پہنچنا شروع ہو گئے اور غزہ کے اندر تقسیم کے مراکز پر اپنا سامان اتار دیا، جہاں سے علاقے میں کام کرنے والی تنظیمیں اسے لے کر تقسیم کریں گی۔</p>
<p>تاہم امدادی ادارے خبردار کرتے ہیں کہ امدادی سامان کی یہ مقدار اب  بھی ضرورت سے بہت کم ہے اور مستقل جنگ بندی، مزید سرحدی گذرگاہوں کے کھلنے اور ایک طویل مدتی وسیع پیمانے پر انسانی امدادی آپریشن کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔</p>
<p><strong>فیلڈ اسپتال میں سی سیکشن</strong></p>
<p>مصر، قطر اور امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی مذاکرات رک گئے ہیں اور نیتن یاہو حماس کو تباہ کرنے اور غزہ میں قید اسرائیلی یرغمالیوں کو بازیاب کرانے کی مہم جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہیں۔</p>
<p>غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے کہا ہے کہ پیر کو اسرائیلی فائرنگ سے 16 افراد شہید ہوئے۔</p>
<p>ایجنسی کے ترجمان محمود بسال کے مطابق ان میں سے پانچ افراد کی شہادت رات کے وقت جنوبی غزہ کے علاقے المواسی میں ایک رہائشی عمارت پر حملے میں ہوئی ہے۔</p>
<p>فلسطینی ہلال احمر( ریڈ کریسنٹ) کے مطابق شہداء میں ایک حاملہ خاتون  بھی شامل تھی، جن کی جان بچانے کے لیے ان کے جنین (نامولود بچے) کو فیلڈ اسپتال میں آپریشن (سیزیرین سیکشن) کے ذریعے نکالا گیا۔</p>
<p>غزہ میں اس وقت بھی تشدد جاری ہے جب اقوامِ متحدہ کی نیویارک کانفرنس میں فرانس اور سعودی عرب اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان دو ریاستی امن معاہدے کی معطل کوششوں کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275191</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Jul 2025 19:45:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/28190512de1adf7.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/28190512de1adf7.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
