<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جولائی میں موٹرسائیکلوں کی اجرک پلیٹس کی درخواستیں ایک لاکھ سے متجاوز ہونے کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275189/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سندھ کے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے موٹر رجسٹریشن وِنگ نے جولائی کے پہلے تین ہفتوں میں موٹرسائیکلوں کے لیے نئی ”اجرک“ نمبر پلیٹس کی 60 ہزار درخواستیں وصول کی ہیں جبکہ 90 ہزار گاڑیوں کی تیار کردہ پلیٹس، جو 2022 سے دفتر میں پڑی ہیں، تاحال مالکان کے انتظار میں دھری ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تضاد قابلِ غور ہے: جہاں ایک جانب ہزاروں موٹرسائیکل سوار سرکاری مہم کے باعث پریشان ہیں، وہیں گاڑی مالکان کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو نامعلوم وجوہات کی بنا پر اپنی نمبر پلیٹس وصول کرنے سے گریزاں ہے۔ ممکنہ طور پر ان میں سے کئی افراد اپنی گاڑیاں بیچنے کے خواہاں ہوں اور رجسٹریشن کے جھنجھٹ کو آئندہ مالک کے سر ڈالنا چاہتے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف موٹرسائیکلوں کے لیے پلیٹس کی بڑھتی ہوئی طلب اس مہم کا نتیجہ ہے جو سندھ ٹریفک پولیس نے ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کے لیے شروع کر رکھی ہے۔ اس میں اصلی، سیکورٹی فیچرز سے لیس نمبر پلیٹ اور موٹر وہیکل ریکارڈ (ایم وی آر) اسمارٹ کارڈ کی لازمی شرائط شامل ہیں۔ پلیٹ کی قیمت 1850 روپے اور اسمارٹ کارڈ کی لاگت 1600 روپے ہے، ایک ایسی قیمت جو متوسط طبقے کے لیے بظاہر معمولی ہے، مگر روزمرہ کے مالی دباؤ میں خاصی تکلیف دہ بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے میں اگر کسی شہری نے پہلے پلیٹ فیس ادا کر رکھی ہو، تو اسے اس نئی فیس میں رعایت کی صورت میں کچھ ریلیف ضرور ملے گا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ آیا یہ نظام شہری سہولت کے لیے بنایا جا رہا ہے یا صرف محصولات کے حصول کا ایک نیا ذریعہ بن چکا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تمام تر صورتحال میں سب سے نمایاں تصویر وہ بے رخی ہے جو رجسٹریشن محکمے کے دفاتر میں برسوں سے پڑی ان ہزاروں پلیٹس پر ثبت ہو چکی ہے، جیسے ریاست نے اپنی ہی مہمات کو سنبھالنے کی سکت کھو دی ہو، اور شہری الجھن میں پھنستے جا رہے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے نئی اجرک ڈیزائن کی موٹرسائیکل نمبر پلیٹس کے لیے درخواستیں وصول کرنے کی آخری تاریخ 14 اگست تک بڑھا دی ہے اور بظاہر یہ مہلت مزید توسیع بھی حاصل کر سکتی ہے۔ دوسری طرف درخواستوں کا سیلاب ایسا ہے کہ محکمہ اپنے ہی اہداف سے پیچھے ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمے کے مطابق 1970 کی دہائی سے اب تک صوبے میں نو ملین (90 لاکھ) گاڑیاں، دو اور چار پہیوں والی، رجسٹر ہو چکی ہیں۔ 14 اپریل 2022 سے اب تک دو ملین (20 لاکھ) سے زائد سیکورٹی فیچر والی نئی نمبر پلیٹس جاری کی جا چکی ہیں، جن میں اجرک ڈیزائن والی پلیٹس بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نمبر پلیٹس اور شہری تحفظ کے سلسلے میں نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این آر ٹی سی)، جو وزارت دفاعی پیداوار کے ماتحت ادارہ ہے، کراچی سیف سٹی منصوبے سمیت نمبر پلیٹس کی تیاری میں بھی شریک ہے۔ یہ ادارہ جدید ہائی ریزولوشن کیمروں سے لیس ہے جو سیکورٹی فیچرز والی پلیٹس کی شناخت کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بڑی تعداد میں درخواستوں سے نمٹنے کی حکمت عملی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے محکمے کے ایک افسر نے بتایا کہ مئی 2025 میں محض 295 موٹرسائیکل مالکان نے نمبر پلیٹس کی درخواست دی، جون میں یہ تعداد 10,000 تک پہنچی، جب کہ جولائی کے ابتدائی تین ہفتوں میں 61,000 مزید درخواستیں موصول ہوئیں۔ ان کے مطابق رواں ماہ کے اختتام تک درخواستوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنے سارے آرڈرز بیک وقت مکمل کیے جا سکیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمے کی یومیہ پیداواری صلاحیت محض 2,500 سے 5,000 پلیٹس کی ہے۔ اس میں پرانی (زائد التواء) اور نئی رجسٹریشن والی پلیٹس دونوں شامل ہیں۔ افسر کا کہنا ہے کہ ”ایک ہی وقت میں اتنے آرڈرز مکمل کرنا ممکن نہیں“۔ چنانچہ کراچی، لاہور اور ہری پور میں پلیٹس کی چھپائی کا عمل جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیک لاگ( زیر التواء کام) سے نمٹنے کے لیے کراچی کے بوٹ بیسن میں 24/7 سروس سینٹر قائم کیا گیا ہے جبکہ عوامی مرکز (شارعِ فیصل) اور سِوک سینٹر میں پہلے سے موجود دفاتر صبح 9 سے شام 5 بجے تک (ہفتہ، اتوار کے علاوہ) کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں کراچی پریس کلب میں بھی صحافیوں کی سہولت کے لیے ایک خصوصی کاؤنٹر قائم کیا گیا ہے جہاں کار اور موٹرسائیکل کی نمبر پلیٹس جاری کی جا رہی ہیں اور سالانہ ٹیکس کی ادائیگی کی سہولت بھی دستیاب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ دعویٰ کرتا ہے کہ ایک سے دو سال کے اندر اندر نظام کو مکمل طور پر خودکار اور منظم بنا دیا جائے گا، جس کے بعد مزید نئے مراکز کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اس وقت شہریوں کو آن لائن درخواست اور ٹیکس ادائیگی کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عملے کی کمی سے نمٹنے کے لیے دیگر شعبہ جات سے تقریباً 200 ملازمین کو موٹر رجسٹریشن ونگ میں شامل کیا گیا ہے، جن میں پراپرٹی ٹیکس، پروفیشنل ٹیکس اور انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی والے محکمے شامل ہیں۔ ان شعبوں کے فرائض یا تو معطل کر دیے گئے ہیں یا مقامی حکومتوں کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سندھ کے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے موٹر رجسٹریشن وِنگ نے جولائی کے پہلے تین ہفتوں میں موٹرسائیکلوں کے لیے نئی ”اجرک“ نمبر پلیٹس کی 60 ہزار درخواستیں وصول کی ہیں جبکہ 90 ہزار گاڑیوں کی تیار کردہ پلیٹس، جو 2022 سے دفتر میں پڑی ہیں، تاحال مالکان کے انتظار میں دھری ہیں۔</strong></p>
<p>یہ تضاد قابلِ غور ہے: جہاں ایک جانب ہزاروں موٹرسائیکل سوار سرکاری مہم کے باعث پریشان ہیں، وہیں گاڑی مالکان کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو نامعلوم وجوہات کی بنا پر اپنی نمبر پلیٹس وصول کرنے سے گریزاں ہے۔ ممکنہ طور پر ان میں سے کئی افراد اپنی گاڑیاں بیچنے کے خواہاں ہوں اور رجسٹریشن کے جھنجھٹ کو آئندہ مالک کے سر ڈالنا چاہتے ہوں۔</p>
<p>دوسری طرف موٹرسائیکلوں کے لیے پلیٹس کی بڑھتی ہوئی طلب اس مہم کا نتیجہ ہے جو سندھ ٹریفک پولیس نے ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کے لیے شروع کر رکھی ہے۔ اس میں اصلی، سیکورٹی فیچرز سے لیس نمبر پلیٹ اور موٹر وہیکل ریکارڈ (ایم وی آر) اسمارٹ کارڈ کی لازمی شرائط شامل ہیں۔ پلیٹ کی قیمت 1850 روپے اور اسمارٹ کارڈ کی لاگت 1600 روپے ہے، ایک ایسی قیمت جو متوسط طبقے کے لیے بظاہر معمولی ہے، مگر روزمرہ کے مالی دباؤ میں خاصی تکلیف دہ بن سکتی ہے۔</p>
<p>ایسے میں اگر کسی شہری نے پہلے پلیٹ فیس ادا کر رکھی ہو، تو اسے اس نئی فیس میں رعایت کی صورت میں کچھ ریلیف ضرور ملے گا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ آیا یہ نظام شہری سہولت کے لیے بنایا جا رہا ہے یا صرف محصولات کے حصول کا ایک نیا ذریعہ بن چکا ہے؟</p>
<p>اس تمام تر صورتحال میں سب سے نمایاں تصویر وہ بے رخی ہے جو رجسٹریشن محکمے کے دفاتر میں برسوں سے پڑی ان ہزاروں پلیٹس پر ثبت ہو چکی ہے، جیسے ریاست نے اپنی ہی مہمات کو سنبھالنے کی سکت کھو دی ہو، اور شہری الجھن میں پھنستے جا رہے ہوں۔</p>
<p>سندھ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے نئی اجرک ڈیزائن کی موٹرسائیکل نمبر پلیٹس کے لیے درخواستیں وصول کرنے کی آخری تاریخ 14 اگست تک بڑھا دی ہے اور بظاہر یہ مہلت مزید توسیع بھی حاصل کر سکتی ہے۔ دوسری طرف درخواستوں کا سیلاب ایسا ہے کہ محکمہ اپنے ہی اہداف سے پیچھے ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>محکمے کے مطابق 1970 کی دہائی سے اب تک صوبے میں نو ملین (90 لاکھ) گاڑیاں، دو اور چار پہیوں والی، رجسٹر ہو چکی ہیں۔ 14 اپریل 2022 سے اب تک دو ملین (20 لاکھ) سے زائد سیکورٹی فیچر والی نئی نمبر پلیٹس جاری کی جا چکی ہیں، جن میں اجرک ڈیزائن والی پلیٹس بھی شامل ہیں۔</p>
<p>نمبر پلیٹس اور شہری تحفظ کے سلسلے میں نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این آر ٹی سی)، جو وزارت دفاعی پیداوار کے ماتحت ادارہ ہے، کراچی سیف سٹی منصوبے سمیت نمبر پلیٹس کی تیاری میں بھی شریک ہے۔ یہ ادارہ جدید ہائی ریزولوشن کیمروں سے لیس ہے جو سیکورٹی فیچرز والی پلیٹس کی شناخت کر سکتے ہیں۔</p>
<p><strong>بڑی تعداد میں درخواستوں سے نمٹنے کی حکمت عملی</strong></p>
<p>بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے محکمے کے ایک افسر نے بتایا کہ مئی 2025 میں محض 295 موٹرسائیکل مالکان نے نمبر پلیٹس کی درخواست دی، جون میں یہ تعداد 10,000 تک پہنچی، جب کہ جولائی کے ابتدائی تین ہفتوں میں 61,000 مزید درخواستیں موصول ہوئیں۔ ان کے مطابق رواں ماہ کے اختتام تک درخواستوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنے سارے آرڈرز بیک وقت مکمل کیے جا سکیں؟</p>
<p>محکمے کی یومیہ پیداواری صلاحیت محض 2,500 سے 5,000 پلیٹس کی ہے۔ اس میں پرانی (زائد التواء) اور نئی رجسٹریشن والی پلیٹس دونوں شامل ہیں۔ افسر کا کہنا ہے کہ ”ایک ہی وقت میں اتنے آرڈرز مکمل کرنا ممکن نہیں“۔ چنانچہ کراچی، لاہور اور ہری پور میں پلیٹس کی چھپائی کا عمل جاری ہے۔</p>
<p>بیک لاگ( زیر التواء کام) سے نمٹنے کے لیے کراچی کے بوٹ بیسن میں 24/7 سروس سینٹر قائم کیا گیا ہے جبکہ عوامی مرکز (شارعِ فیصل) اور سِوک سینٹر میں پہلے سے موجود دفاتر صبح 9 سے شام 5 بجے تک (ہفتہ، اتوار کے علاوہ) کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>حال ہی میں کراچی پریس کلب میں بھی صحافیوں کی سہولت کے لیے ایک خصوصی کاؤنٹر قائم کیا گیا ہے جہاں کار اور موٹرسائیکل کی نمبر پلیٹس جاری کی جا رہی ہیں اور سالانہ ٹیکس کی ادائیگی کی سہولت بھی دستیاب ہے۔</p>
<p>محکمہ دعویٰ کرتا ہے کہ ایک سے دو سال کے اندر اندر نظام کو مکمل طور پر خودکار اور منظم بنا دیا جائے گا، جس کے بعد مزید نئے مراکز کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اس وقت شہریوں کو آن لائن درخواست اور ٹیکس ادائیگی کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔</p>
<p>عملے کی کمی سے نمٹنے کے لیے دیگر شعبہ جات سے تقریباً 200 ملازمین کو موٹر رجسٹریشن ونگ میں شامل کیا گیا ہے، جن میں پراپرٹی ٹیکس، پروفیشنل ٹیکس اور انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی والے محکمے شامل ہیں۔ ان شعبوں کے فرائض یا تو معطل کر دیے گئے ہیں یا مقامی حکومتوں کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275189</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Jul 2025 16:07:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/28153910306af64.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/28153910306af64.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
