<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:41:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 12:41:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور ترکیہ کا غزہ میں سنگین ہوتے انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار، فوری جنگ بندی کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275185/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈپٹی وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خارجہ  نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ دونوں رہنماؤں نے غزہ میں اسرائیل کے جاری مظالم کی شدید مذمت کی اور گہرے انسانی بحران، بشمول قحط، جبری بے دخلی اور بے گناہ جانوں کے ضیاع پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے انسانی ہمدردی کی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی، فوری جنگ بندی اور منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے لیے متحدہ بین الاقوامی کوششوں کی فوری ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق فلسطینی عوام اور ان کے جائز موقف کی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ دو ریاستی حل کے نفاذ سے متعلق پیر کو اقوام متحدہ میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس سے بامعنی نتائج برآمد ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار آج اقوام متحدہ میں فلسطین اور دو ریاستی حل کے نفاذ پر اعلیٰ سطح بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک روز قبل انہوں نے کہا تھا کہ انہیں اپنے سعودی عرب اور فرانسیسی ہم منصبوں فیصل بن فرحان اور ژاں نوئل بارو نے اس ایونٹ میں شرکت کی دعوت دی ہے، جس کا باضابطہ عنوان ”فلسطین کے مسئلے کے پرامن حل اور دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے اعلیٰ سطح بین الاقوامی کانفرنس“ ہے جو 28 سے 29 جولائی تک سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ صدارت میں منعقد ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ
کانفرنس میں میں فلسطین کے لیے پاکستان کی دیرینہ، اصولی اور مستقل حمایت کا اعادہ کروں گا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ کانفرنس سے بامعنی نتائج حاصل ہوں گے، جن میں 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت بنانا، فلسطینی عوام کی مشکلات کا ازالہ اور بین الاقوامی تعاون سے جنگ زدہ غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ٹھوس اقدامات شامل ہوں۔ پاکستان ان تمام کاوشوں میں اپنا کردار جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈپٹی وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔</strong></p>
<p>وزارتِ خارجہ  نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ دونوں رہنماؤں نے غزہ میں اسرائیل کے جاری مظالم کی شدید مذمت کی اور گہرے انسانی بحران، بشمول قحط، جبری بے دخلی اور بے گناہ جانوں کے ضیاع پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔</p>
<p>انہوں نے انسانی ہمدردی کی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی، فوری جنگ بندی اور منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے لیے متحدہ بین الاقوامی کوششوں کی فوری ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>بیان کے مطابق فلسطینی عوام اور ان کے جائز موقف کی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ دو ریاستی حل کے نفاذ سے متعلق پیر کو اقوام متحدہ میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس سے بامعنی نتائج برآمد ہوں گے۔</p>
<p>وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار آج اقوام متحدہ میں فلسطین اور دو ریاستی حل کے نفاذ پر اعلیٰ سطح بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔</p>
<p>ایک روز قبل انہوں نے کہا تھا کہ انہیں اپنے سعودی عرب اور فرانسیسی ہم منصبوں فیصل بن فرحان اور ژاں نوئل بارو نے اس ایونٹ میں شرکت کی دعوت دی ہے، جس کا باضابطہ عنوان ”فلسطین کے مسئلے کے پرامن حل اور دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے اعلیٰ سطح بین الاقوامی کانفرنس“ ہے جو 28 سے 29 جولائی تک سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ صدارت میں منعقد ہو رہی ہے۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ
کانفرنس میں میں فلسطین کے لیے پاکستان کی دیرینہ، اصولی اور مستقل حمایت کا اعادہ کروں گا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ کانفرنس سے بامعنی نتائج حاصل ہوں گے، جن میں 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت بنانا، فلسطینی عوام کی مشکلات کا ازالہ اور بین الاقوامی تعاون سے جنگ زدہ غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ٹھوس اقدامات شامل ہوں۔ پاکستان ان تمام کاوشوں میں اپنا کردار جاری رکھے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275185</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Jul 2025 13:32:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/28133111974b507.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/28133111974b507.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
