<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگائی، بلند شرح سود اور ٹیکسز نے رہائشی جائیدادوں کی فروخت منجمد کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275178/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بڑھتی ہوئی مہنگائی، بلند شرح سود اور جائیداد کے لین دین پر بڑھتے ہوئے ٹیکسز کے باعث پاکستان کا ہاؤسنگ سیکٹر شدید سست روی کا شکار ہے، فروخت اور بکنگ تقریباً بند ہو چکی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات، خصوصاً کمرشل بینکوں کے ذریعے حکومت کی پشت پناہی میں سبسڈی والے ہاؤسنگ فنانسنگ اسکیم متعارف نہ کرائی گئی تو یہ شعبہ طویل جمود اور خریداروں کے اعتماد میں مزید کمی کے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن لمیٹڈ (ایچ بی ایف سی) کی ایک تحقیق کے مطابق، موجودہ تعمیراتی لاگت 4,300 روپے فی مربع فٹ ہے۔ حتیٰ کہ 1,000 مربع فٹ کے گھر کی قیمت 4.3 ملین روپے ہونے کی صورت میں 15 فیصد سود پر ماہانہ قسط 57,139 روپے بنتی ہے، جو کم آمدنی والے طبقے کے رہائش کے لیے مختص 9,165 روپے سے کہیں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر 30 فیصد ڈاؤن پیمنٹ کے طور پر 1.3 ملین روپے بھی ادا کیے جائیں تو باقی کے 3 ملین روپے پر ماہانہ قسط 39,997 روپے ہو گی، جو ان کی مجموعی آمدنی سے بھی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومتوں کو فعال اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ کچی آبادیوں کے رسمی درجے کے باعث نظر انداز کیے گئے کمزور طبقوں کے لیے معیاری اور سستی رہائش دستیاب ہو سکے۔ مالی گنجائش پیدا ہوتے ہی صوبائی حکومتوں کو ایسے کرائے کے مکانات تیار کرنے چاہئیں جو قانونی ملکیت اور تعمیراتی معیارات پر پورا اتریں اور ان میں تعلیم، صحت، پبلک ٹرانسپورٹ اور یوٹیلٹیز جیسی سہولیات بھی شامل ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریئل اسٹیٹ ویلیوایشن کنسلٹنٹ ابراہیم امین کا کہنا تھا کہ بلند شرح سود، جائیداد کی بڑھتی قیمتوں، تعمیراتی اور زمین کے اخراجات میں اضافے کے باعث عوام کی بڑی تعداد کے لیے چھوٹا فلیٹ خریدنا بھی ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ بڑے شہروں میں متعدد رہائشی سوسائٹیز اور اپارٹمنٹس فروخت نہ ہو سکے کیونکہ عوام کے لیے سستی فنانسنگ سہولت میسر نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے تجویز دی کہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کے ذریعے طویل المدتی سبسڈی والی ہاؤسنگ فنانس اسکیم ضروری ہے تاکہ معاشرے کے ایک حصے کو گھر کے مالک بننے کا موقع دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اکتوبر 2020 میں ہاؤسنگ فنانس اسکیم کے لیے مارک اپ سبسڈی متعارف کرائی تھی، جو جون 2022 میں معطل کر دی گئی۔ اس وقت مڈل کلاس کے لیے کوئی سستی ہاؤسنگ اسکیم موجود نہیں جبکہ مارک اپ ریٹ بلند سطح پر ہے۔ حکومت نے بجٹ 2026 میں ہاؤسنگ فنانس اسکیم کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے ہیں لیکن اعلان ابھی تک نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق، پاکستان میں 1 کروڑ 20 لاکھ سے زائد گھروں کی کمی ہے جبکہ شہری آبادی کا 56 فیصد، تقریباً 52.57 ملین افراد، کچی آبادیوں میں رہتے ہیں۔ شہری علاقوں میں آبادی کی کثافت کے باعث حکومتوں کے لیے یہ ممکن ہے کہ غیر رسمی رہائش اختیار کرنے والوں کو سستی رہائش فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بڑھتی ہوئی مہنگائی، بلند شرح سود اور جائیداد کے لین دین پر بڑھتے ہوئے ٹیکسز کے باعث پاکستان کا ہاؤسنگ سیکٹر شدید سست روی کا شکار ہے، فروخت اور بکنگ تقریباً بند ہو چکی ہیں۔</strong></p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات، خصوصاً کمرشل بینکوں کے ذریعے حکومت کی پشت پناہی میں سبسڈی والے ہاؤسنگ فنانسنگ اسکیم متعارف نہ کرائی گئی تو یہ شعبہ طویل جمود اور خریداروں کے اعتماد میں مزید کمی کے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن لمیٹڈ (ایچ بی ایف سی) کی ایک تحقیق کے مطابق، موجودہ تعمیراتی لاگت 4,300 روپے فی مربع فٹ ہے۔ حتیٰ کہ 1,000 مربع فٹ کے گھر کی قیمت 4.3 ملین روپے ہونے کی صورت میں 15 فیصد سود پر ماہانہ قسط 57,139 روپے بنتی ہے، جو کم آمدنی والے طبقے کے رہائش کے لیے مختص 9,165 روپے سے کہیں زیادہ ہے۔</p>
<p>اگر 30 فیصد ڈاؤن پیمنٹ کے طور پر 1.3 ملین روپے بھی ادا کیے جائیں تو باقی کے 3 ملین روپے پر ماہانہ قسط 39,997 روپے ہو گی، جو ان کی مجموعی آمدنی سے بھی زیادہ ہے۔</p>
<p>تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومتوں کو فعال اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ کچی آبادیوں کے رسمی درجے کے باعث نظر انداز کیے گئے کمزور طبقوں کے لیے معیاری اور سستی رہائش دستیاب ہو سکے۔ مالی گنجائش پیدا ہوتے ہی صوبائی حکومتوں کو ایسے کرائے کے مکانات تیار کرنے چاہئیں جو قانونی ملکیت اور تعمیراتی معیارات پر پورا اتریں اور ان میں تعلیم، صحت، پبلک ٹرانسپورٹ اور یوٹیلٹیز جیسی سہولیات بھی شامل ہوں۔</p>
<p>ریئل اسٹیٹ ویلیوایشن کنسلٹنٹ ابراہیم امین کا کہنا تھا کہ بلند شرح سود، جائیداد کی بڑھتی قیمتوں، تعمیراتی اور زمین کے اخراجات میں اضافے کے باعث عوام کی بڑی تعداد کے لیے چھوٹا فلیٹ خریدنا بھی ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ بڑے شہروں میں متعدد رہائشی سوسائٹیز اور اپارٹمنٹس فروخت نہ ہو سکے کیونکہ عوام کے لیے سستی فنانسنگ سہولت میسر نہیں۔</p>
<p>انہوں نے تجویز دی کہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کے ذریعے طویل المدتی سبسڈی والی ہاؤسنگ فنانس اسکیم ضروری ہے تاکہ معاشرے کے ایک حصے کو گھر کے مالک بننے کا موقع دیا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اکتوبر 2020 میں ہاؤسنگ فنانس اسکیم کے لیے مارک اپ سبسڈی متعارف کرائی تھی، جو جون 2022 میں معطل کر دی گئی۔ اس وقت مڈل کلاس کے لیے کوئی سستی ہاؤسنگ اسکیم موجود نہیں جبکہ مارک اپ ریٹ بلند سطح پر ہے۔ حکومت نے بجٹ 2026 میں ہاؤسنگ فنانس اسکیم کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے ہیں لیکن اعلان ابھی تک نہیں کیا گیا۔</p>
<p>ورلڈ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق، پاکستان میں 1 کروڑ 20 لاکھ سے زائد گھروں کی کمی ہے جبکہ شہری آبادی کا 56 فیصد، تقریباً 52.57 ملین افراد، کچی آبادیوں میں رہتے ہیں۔ شہری علاقوں میں آبادی کی کثافت کے باعث حکومتوں کے لیے یہ ممکن ہے کہ غیر رسمی رہائش اختیار کرنے والوں کو سستی رہائش فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کریں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275178</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Jul 2025 12:13:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/28121033ba3c885.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/28121033ba3c885.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
