<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے رہنما امن مذاکرات کیلئے ملائیشیا جائینگے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275162/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے رہنما پیر کو ملائیشیا میں اہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاکہ اپنی خونریز سرحدی جھڑپوں میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچ سکیں۔ امریکا نے تصدیق کی ہے کہ اس کے حکام امن عمل میں معاونت فراہم کریں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھائی لینڈ کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات ملائیشیا کی میزبانی میں منعقد ہو رہے ہیں جو خطے کی آسیان  تنظیم کی سربراہی کر رہا ہے، جبکہ کمبوڈیا کے وزیرِاعظم ہن مانیت کے مطابق یہ بات چیت امریکا اور چین کی شراکت سے ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ وزارتِ خارجہ کے حکام ملائیشیا میں امن کوششوں میں مدد کے لیے موجود ہیں۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یقین ظاہر کیا تھا کہ دونوں ممالک کے رہنما تنازع ختم کرنے کے خواہاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی کے آخر میں ایک مختصر جھڑپ میں کمبوڈین فوجی کی ہلاکت کے بعد کشیدگی میں شدت آئی۔ حالیہ دشمنی جمعرات کو شروع ہوئی اور بڑھتے بڑھتے ایک دہائی میں تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سب سے شدید لڑائی میں تبدیل ہو گئی، جس میں ہلاکتوں کی تعداد 30 سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں 20 سے زیادہ عام شہری شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق 2 لاکھ سے زیادہ افراد کو سرحدی علاقوں سے نکالا گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی جھڑپوں نے تھائی لینڈ کی نازک مخلوط حکومت کو بحران میں ڈال دیا ہے، اور دونوں طرف سرحدی دستوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملائیشیا کے وزیرِاعظم انور ابراہیم نے تنازع کے بھڑکنے کے بعد جنگ بندی مذاکرات کی تجویز دی تھی اور چین و امریکا نے اس عمل میں مدد کی پیشکش کی تھی۔ انور ابراہیم نے کہا کہ وہ مذاکرات کی صدارت کریں گے کیونکہ دونوں ممالک نے ان سے امن معاہدے میں مدد کی درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال سب سے اہم بات فوری جنگ بندی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے رہنما پیر کو ملائیشیا میں اہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاکہ اپنی خونریز سرحدی جھڑپوں میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچ سکیں۔ امریکا نے تصدیق کی ہے کہ اس کے حکام امن عمل میں معاونت فراہم کریں گے۔</strong></p>
<p>تھائی لینڈ کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات ملائیشیا کی میزبانی میں منعقد ہو رہے ہیں جو خطے کی آسیان  تنظیم کی سربراہی کر رہا ہے، جبکہ کمبوڈیا کے وزیرِاعظم ہن مانیت کے مطابق یہ بات چیت امریکا اور چین کی شراکت سے ہو رہی ہے۔</p>
<p>امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ وزارتِ خارجہ کے حکام ملائیشیا میں امن کوششوں میں مدد کے لیے موجود ہیں۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یقین ظاہر کیا تھا کہ دونوں ممالک کے رہنما تنازع ختم کرنے کے خواہاں ہیں۔</p>
<p>مئی کے آخر میں ایک مختصر جھڑپ میں کمبوڈین فوجی کی ہلاکت کے بعد کشیدگی میں شدت آئی۔ حالیہ دشمنی جمعرات کو شروع ہوئی اور بڑھتے بڑھتے ایک دہائی میں تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سب سے شدید لڑائی میں تبدیل ہو گئی، جس میں ہلاکتوں کی تعداد 30 سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں 20 سے زیادہ عام شہری شامل ہیں۔</p>
<p>حکام کے مطابق 2 لاکھ سے زیادہ افراد کو سرحدی علاقوں سے نکالا گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی جھڑپوں نے تھائی لینڈ کی نازک مخلوط حکومت کو بحران میں ڈال دیا ہے، اور دونوں طرف سرحدی دستوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>ملائیشیا کے وزیرِاعظم انور ابراہیم نے تنازع کے بھڑکنے کے بعد جنگ بندی مذاکرات کی تجویز دی تھی اور چین و امریکا نے اس عمل میں مدد کی پیشکش کی تھی۔ انور ابراہیم نے کہا کہ وہ مذاکرات کی صدارت کریں گے کیونکہ دونوں ممالک نے ان سے امن معاہدے میں مدد کی درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال سب سے اہم بات فوری جنگ بندی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275162</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Jul 2025 09:16:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/2809140203ec8b0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/2809140203ec8b0.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
