<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیش لیس معیشت کی طرف بڑا قدم، بجلی، گیس اور فون بلز پر ڈیجیٹل ادائیگی کیلئے کیو آر کوڈز پرنٹ کئے جائینگے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275158/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ کیش لیس معیشت کی جانب ایک بڑے اقدام کے طور پر حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام بجلی، ٹیلیفون اور گیس کے بلوں پر کیو آر کوڈز پرنٹ کیے جائیں گے تاکہ ادائیگی ڈیجیٹل ذرائع سے ممکن ہو سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیرِصدارت حالیہ اجلاس میں کیا گیا، جس میں تمام متعلقہ وزارتوں اور اداروں نے شرکت کی۔ وزیرِاعظم اگلے ماہ ’’ڈیجیٹل پیمنٹ انڈیکس پاکستان‘‘ کا افتتاح کریں گے، جس کے لیے گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان  اور سی ای او کارانداز کو انتظامات کی ہدایت دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق سیکرٹری پیٹرولیم اور نیچرل ریسورسز کی سربراہی میں قائم ٹیم، جس میں سیکرٹری پاور، سیکرٹری وزارتِ آئی ٹی اینڈ ٹی اور چیئرمین کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) شامل ہیں، ایک ماہ میں اس کا طریقہ کار وضع کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکرٹری پیٹرولیم اور چیئرمین آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایک ماہ میں ایسا نظام تیار کریں جس کے تحت  کیو آر کوڈز، پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) ٹرمینلز، سافٹ پی او ایس کے ذریعے ادائیگی کی لازمی قبولیت ہو اور یہ سہولیات پورے ملک میں، بشمول آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور موٹرویز پر، تمام پیٹرول پمپس پر دستیاب ہوں گی۔ یہ ان کے لائسنس کی لازمی شرط ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین سی ڈی اے کو قانون و انصاف ڈویژن کے مشاورت سے قانونی فریم ورک کا جائزہ لینے کا ٹاسک دیا گیا ہے تاکہ  کیو آر کوڈز، پی او ایس ٹرمینلز، سافٹ پی او ایس یا دیگر منظور شدہ ڈیجیٹل ادائیگی کے ذرائع کے استعمال کو لازمی قرار دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے لیے سب کمیٹی برائے ڈیجیٹل پیمنٹس انوویشن اینڈ ایڈاپشن کی سفارشات کے مطابق نئے اہداف منظور کیے گئے:
(i) فعال ڈیجیٹل کامرس ادائیگی پوائنٹس، جن میں  کیو آر کوڈز شامل ہیں، کو موجودہ 0.5 ملین سے بڑھا کر 2 ملین کیا جائے؛
(ii) فعال مرچنٹ — کم از کم ماہانہ 1 ٹرانزیکشن؛
(iii) موبائل/انٹرنیٹ ایپ اور ڈیجیٹل بینکنگ صارفین کی تعداد مالی سال 2026 میں 95 ملین سے بڑھا کر 120 ملین کی جائے؛
(iv) ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کی تعداد 7.5 بلین سے دوگنی کر کے 15 بلین کی جائے؛ اور
(v) ریمٹنسز کی ادائیگی 100 فیصد ڈیجیٹل ذرائع سے اکاؤنٹس یا والیٹس میں ہو (کیش ادائیگی ختم) جو اس وقت 80 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکرٹری خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک کو ہدایت دی گئی ہے کہ کیش لیس لین دین کے لیے سالانہ سبسڈی کا حدِ اعلٰی 3.5 ارب روپے مقرر کریں (راست پلیٹ فارم پر مرچنٹس کی آن بورڈنگ پر بینکوں کے لیے 0.5 فیصد انسینٹو)۔ بینک مرچنٹس سے زیادہ سے زیادہ 0.25 فیصد ایم ڈی آر چارج کر سکیں گے، اس سے زائد اخراجات سروس فراہم کنندگان برداشت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنمنٹ پیمنٹ سب کمیٹی صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد اپنی سفارشات پر عملدرآمد کے لیے تجویز کردہ ٹائم لائنز کا جائزہ لے گی۔ ریاستی ملکیتی اداروں (ایس او ایز) اور پی ٹو جی اہداف کے منصوبے پیش کرنے کے لیے نظرثانی شدہ ٹائم لائنز، جنہیں کم از کم ایک چوتھائی کم کیا جائے گا، آئندہ اجلاس میں شیئر کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر اسٹیٹ بینک کو ہدایت دی گئی ہے کہ راست پیمنٹ پاکستان کے بورڈ میں شامل نجی شعبے کے اراکین ڈیجیٹل پیمنٹس کے شعبے میں شاندار پیشہ ورانہ کارکردگی رکھنے والے ماہرین ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر اسٹیٹ بینک کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ستمبر 2025 کے اختتام تک راست پیمنٹ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کی تقرری مکمل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام کو کہا گیا ہے کہ وہ اسلام آباد آئی ٹی پارک کے افتتاح کے لیے تمام ضروری انتظامات تیسرے ہفتے اگست 2025 تک بلا تاخیر مکمل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ رائٹ آف وے (آر او ڈبلیو) چارجز ختم کیے جائیں گے، آغاز سی ڈی اے، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے) اور پاکستان ریلوے سے ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ڈی اے کو ہدایت دی گئی ہے کہ نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے لیے این او سی یا منظوری دیتے وقت شرط رکھی جائے کہ وہ آئی ٹی اور متعلقہ انفراسٹرکچر/فائبرازیشن کی تنصیب کے لیے کوئی رائٹ آف وے چارج عائد نہیں کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون و انصاف ڈویژن اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے قانونی ڈھانچوں کا جائزہ لے گا۔ یہ ماڈل صوبائی حکومتوں کے لیے مثال کے طور پر کام کرے گا جس کے لیے اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ کیش لیس معیشت کی جانب ایک بڑے اقدام کے طور پر حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام بجلی، ٹیلیفون اور گیس کے بلوں پر کیو آر کوڈز پرنٹ کیے جائیں گے تاکہ ادائیگی ڈیجیٹل ذرائع سے ممکن ہو سکے۔</strong></p>
<p>یہ فیصلہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیرِصدارت حالیہ اجلاس میں کیا گیا، جس میں تمام متعلقہ وزارتوں اور اداروں نے شرکت کی۔ وزیرِاعظم اگلے ماہ ’’ڈیجیٹل پیمنٹ انڈیکس پاکستان‘‘ کا افتتاح کریں گے، جس کے لیے گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان  اور سی ای او کارانداز کو انتظامات کی ہدایت دی گئی ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق سیکرٹری پیٹرولیم اور نیچرل ریسورسز کی سربراہی میں قائم ٹیم، جس میں سیکرٹری پاور، سیکرٹری وزارتِ آئی ٹی اینڈ ٹی اور چیئرمین کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) شامل ہیں، ایک ماہ میں اس کا طریقہ کار وضع کرے گی۔</p>
<p>سیکرٹری پیٹرولیم اور چیئرمین آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایک ماہ میں ایسا نظام تیار کریں جس کے تحت  کیو آر کوڈز، پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) ٹرمینلز، سافٹ پی او ایس کے ذریعے ادائیگی کی لازمی قبولیت ہو اور یہ سہولیات پورے ملک میں، بشمول آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور موٹرویز پر، تمام پیٹرول پمپس پر دستیاب ہوں گی۔ یہ ان کے لائسنس کی لازمی شرط ہوگی۔</p>
<p>چیئرمین سی ڈی اے کو قانون و انصاف ڈویژن کے مشاورت سے قانونی فریم ورک کا جائزہ لینے کا ٹاسک دیا گیا ہے تاکہ  کیو آر کوڈز، پی او ایس ٹرمینلز، سافٹ پی او ایس یا دیگر منظور شدہ ڈیجیٹل ادائیگی کے ذرائع کے استعمال کو لازمی قرار دیا جا سکے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے لیے سب کمیٹی برائے ڈیجیٹل پیمنٹس انوویشن اینڈ ایڈاپشن کی سفارشات کے مطابق نئے اہداف منظور کیے گئے:
(i) فعال ڈیجیٹل کامرس ادائیگی پوائنٹس، جن میں  کیو آر کوڈز شامل ہیں، کو موجودہ 0.5 ملین سے بڑھا کر 2 ملین کیا جائے؛
(ii) فعال مرچنٹ — کم از کم ماہانہ 1 ٹرانزیکشن؛
(iii) موبائل/انٹرنیٹ ایپ اور ڈیجیٹل بینکنگ صارفین کی تعداد مالی سال 2026 میں 95 ملین سے بڑھا کر 120 ملین کی جائے؛
(iv) ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کی تعداد 7.5 بلین سے دوگنی کر کے 15 بلین کی جائے؛ اور
(v) ریمٹنسز کی ادائیگی 100 فیصد ڈیجیٹل ذرائع سے اکاؤنٹس یا والیٹس میں ہو (کیش ادائیگی ختم) جو اس وقت 80 فیصد ہے۔</p>
<p>سیکرٹری خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک کو ہدایت دی گئی ہے کہ کیش لیس لین دین کے لیے سالانہ سبسڈی کا حدِ اعلٰی 3.5 ارب روپے مقرر کریں (راست پلیٹ فارم پر مرچنٹس کی آن بورڈنگ پر بینکوں کے لیے 0.5 فیصد انسینٹو)۔ بینک مرچنٹس سے زیادہ سے زیادہ 0.25 فیصد ایم ڈی آر چارج کر سکیں گے، اس سے زائد اخراجات سروس فراہم کنندگان برداشت کریں گے۔</p>
<p>گورنمنٹ پیمنٹ سب کمیٹی صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد اپنی سفارشات پر عملدرآمد کے لیے تجویز کردہ ٹائم لائنز کا جائزہ لے گی۔ ریاستی ملکیتی اداروں (ایس او ایز) اور پی ٹو جی اہداف کے منصوبے پیش کرنے کے لیے نظرثانی شدہ ٹائم لائنز، جنہیں کم از کم ایک چوتھائی کم کیا جائے گا، آئندہ اجلاس میں شیئر کی جائیں گی۔</p>
<p>گورنر اسٹیٹ بینک کو ہدایت دی گئی ہے کہ راست پیمنٹ پاکستان کے بورڈ میں شامل نجی شعبے کے اراکین ڈیجیٹل پیمنٹس کے شعبے میں شاندار پیشہ ورانہ کارکردگی رکھنے والے ماہرین ہوں۔</p>
<p>گورنر اسٹیٹ بینک کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ستمبر 2025 کے اختتام تک راست پیمنٹ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کی تقرری مکمل کریں۔</p>
<p>سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام کو کہا گیا ہے کہ وہ اسلام آباد آئی ٹی پارک کے افتتاح کے لیے تمام ضروری انتظامات تیسرے ہفتے اگست 2025 تک بلا تاخیر مکمل کریں۔</p>
<p>اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ رائٹ آف وے (آر او ڈبلیو) چارجز ختم کیے جائیں گے، آغاز سی ڈی اے، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے) اور پاکستان ریلوے سے ہوگا۔</p>
<p>سی ڈی اے کو ہدایت دی گئی ہے کہ نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے لیے این او سی یا منظوری دیتے وقت شرط رکھی جائے کہ وہ آئی ٹی اور متعلقہ انفراسٹرکچر/فائبرازیشن کی تنصیب کے لیے کوئی رائٹ آف وے چارج عائد نہیں کریں گی۔</p>
<p>قانون و انصاف ڈویژن اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے قانونی ڈھانچوں کا جائزہ لے گا۔ یہ ماڈل صوبائی حکومتوں کے لیے مثال کے طور پر کام کرے گا جس کے لیے اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275158</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Jul 2025 08:35:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/28083400ffeab76.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/28083400ffeab76.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
