<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کی جنگ بندی کی اپیل کے باوجود تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی سرحد پر گولہ باری جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275149/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کمبوڈیا اور تھائی لینڈ نے اتوار کی صبح دعویٰ کیا کہ ایک دوسرے نے متنازعہ سرحدی علاقوں پر توپ خانے سے حملے کیے ہیں،اس سے چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے جنگ بندی پر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوب مشرقی ایشیا کے ان دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان ایک دہائی سے زائد عرصے میں بدترین جھڑپوں کے چار دن بعد ہلاکتوں کی تعداد 30 سے تجاوز کر گئی، جن میں زیادہ تر عام شہری شامل ہیں، جبکہ 1,30,000 سے زائد افراد کو سرحدی علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمبوڈیا کی وزارت دفاع نے کہا کہ تھائی لینڈ نے صبح کے وقت متعدد مقامات پر گولہ باری اور زمینی حملے کیے، جن میں پھنوم کموچ شامل ہے جو تھائی لینڈ کے ساحلی صوبے ترات سے متصل ہے، اور مندروں کے احاطوں کو بھاری توپ خانے سے نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب تھائی فوج نے الزام لگایا کہ کمبوڈیا نے کئی علاقوں میں فائرنگ کی، جن میں رہائشی مکانات کے قریب مقامات بھی شامل ہیں۔ صوبہ سورین کے گورنر نے تصدیق کی کہ گولے گرنے سے ایک گھر کو نقصان پہنچا اور مویشی ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھائی صوبے سساکیت میں خبر رساں ادارے رائٹرز کے نمائندوں نے اتوار کی صبح گولہ باری کی آوازیں سنیں لیکن یہ واضح نہ ہو سکا کہ گولے کس طرف سے فائر کیے گئے۔ مقامی باشندے تھاورن توسوان نے کہا کہ اگر جنگ بندی ہو جائے تو حالات بہتر ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے دونوں وزرائے اعظم سے رابطہ کیا ہے جو فوری طور پر جنگ بندی پر بات چیت پر تیار ہیں۔ کمبوڈین وزیراعظم ہن مانیت نے جنگ بندی کی غیر مشروط حمایت کی، جبکہ تھائی لینڈ نے کہا کہ مذاکرات سے قبل کمبوڈیا کی مخلص نیت ظاہر ہونا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات عشروں سے جاری ہیں اور حالیہ لڑائی مئی کے آخر میں ایک کمبوڈین فوجی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کمبوڈیا اور تھائی لینڈ نے اتوار کی صبح دعویٰ کیا کہ ایک دوسرے نے متنازعہ سرحدی علاقوں پر توپ خانے سے حملے کیے ہیں،اس سے چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے جنگ بندی پر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔</strong></p>
<p>جنوب مشرقی ایشیا کے ان دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان ایک دہائی سے زائد عرصے میں بدترین جھڑپوں کے چار دن بعد ہلاکتوں کی تعداد 30 سے تجاوز کر گئی، جن میں زیادہ تر عام شہری شامل ہیں، جبکہ 1,30,000 سے زائد افراد کو سرحدی علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔</p>
<p>کمبوڈیا کی وزارت دفاع نے کہا کہ تھائی لینڈ نے صبح کے وقت متعدد مقامات پر گولہ باری اور زمینی حملے کیے، جن میں پھنوم کموچ شامل ہے جو تھائی لینڈ کے ساحلی صوبے ترات سے متصل ہے، اور مندروں کے احاطوں کو بھاری توپ خانے سے نشانہ بنایا۔</p>
<p>دوسری جانب تھائی فوج نے الزام لگایا کہ کمبوڈیا نے کئی علاقوں میں فائرنگ کی، جن میں رہائشی مکانات کے قریب مقامات بھی شامل ہیں۔ صوبہ سورین کے گورنر نے تصدیق کی کہ گولے گرنے سے ایک گھر کو نقصان پہنچا اور مویشی ہلاک ہوئے۔</p>
<p>تھائی صوبے سساکیت میں خبر رساں ادارے رائٹرز کے نمائندوں نے اتوار کی صبح گولہ باری کی آوازیں سنیں لیکن یہ واضح نہ ہو سکا کہ گولے کس طرف سے فائر کیے گئے۔ مقامی باشندے تھاورن توسوان نے کہا کہ اگر جنگ بندی ہو جائے تو حالات بہتر ہو جائیں گے۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے دونوں وزرائے اعظم سے رابطہ کیا ہے جو فوری طور پر جنگ بندی پر بات چیت پر تیار ہیں۔ کمبوڈین وزیراعظم ہن مانیت نے جنگ بندی کی غیر مشروط حمایت کی، جبکہ تھائی لینڈ نے کہا کہ مذاکرات سے قبل کمبوڈیا کی مخلص نیت ظاہر ہونا ضروری ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات عشروں سے جاری ہیں اور حالیہ لڑائی مئی کے آخر میں ایک کمبوڈین فوجی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275149</guid>
      <pubDate>Sun, 27 Jul 2025 11:24:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/2711230109d212e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/2711230109d212e.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
