<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی اے سے نجکاری کے بعد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی وصول کی جائیگی، ایف بی آر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275140/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری کے بعد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کی واجب الادا رقم وصول کرے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو (آپریشنز) ڈاکٹر حمید عتیق سرور آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کے ایک آڈٹ اعتراض کا جواب دے رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ گزشتہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس کے دوران سامنے آیا، جو گزشتہ 10 سے 15 برسوں سے زیرِ التوا ایف بی آر کے آڈٹ پیراز پر منعقد ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آڈیٹر جنرل کے حکام کا مؤقف تھا کہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولی ضروری ہے کیونکہ یہ صارفین سے وصول کی گئی تھی۔ عوام نے یہ رقم ادا کی تھی جو قومی ایئرلائن کو دی جانے والی کوئی حکومتی گرانٹ نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو (آپریشنز) نے کہا کہ اگر ہم اس مرحلے پر پی آئی اے سے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی وصول کریں تو ایئرلائن کے آپریشنز بند ہونے کا خطرہ ہے۔ اس لیے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی پی آئی اے کی نجکاری کے بعد وصول کی جانی چاہیے۔ ممبر ایف بی آر نے مزید کہا کہ  نجکاری کمیشن اس ایئرلائن کی نجکاری کی حیثیت اور عمل سے متعلق تازہ معلومات فراہم کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آڈیٹر جنرل کے حکام کے مطابق پی آئی اے پر تقریباً 920 ملین روپے کی واجب الادا رقم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری کے بعد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کی واجب الادا رقم وصول کرے گا۔</strong></p>
<p>ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو (آپریشنز) ڈاکٹر حمید عتیق سرور آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کے ایک آڈٹ اعتراض کا جواب دے رہے تھے۔</p>
<p>یہ معاملہ گزشتہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس کے دوران سامنے آیا، جو گزشتہ 10 سے 15 برسوں سے زیرِ التوا ایف بی آر کے آڈٹ پیراز پر منعقد ہوا تھا۔</p>
<p>آڈیٹر جنرل کے حکام کا مؤقف تھا کہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولی ضروری ہے کیونکہ یہ صارفین سے وصول کی گئی تھی۔ عوام نے یہ رقم ادا کی تھی جو قومی ایئرلائن کو دی جانے والی کوئی حکومتی گرانٹ نہیں تھی۔</p>
<p>ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو (آپریشنز) نے کہا کہ اگر ہم اس مرحلے پر پی آئی اے سے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی وصول کریں تو ایئرلائن کے آپریشنز بند ہونے کا خطرہ ہے۔ اس لیے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی پی آئی اے کی نجکاری کے بعد وصول کی جانی چاہیے۔ ممبر ایف بی آر نے مزید کہا کہ  نجکاری کمیشن اس ایئرلائن کی نجکاری کی حیثیت اور عمل سے متعلق تازہ معلومات فراہم کر سکتا ہے۔</p>
<p>آڈیٹر جنرل کے حکام کے مطابق پی آئی اے پر تقریباً 920 ملین روپے کی واجب الادا رقم ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275140</guid>
      <pubDate>Sun, 27 Jul 2025 09:44:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/270944068d12b6e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/270944068d12b6e.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
