<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:27:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:27:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیرونی سرمایہ کاری پر منافع کی منتقلی جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275122/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ملک میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں نے سال 2025 میں منافع اور ڈیوڈنڈ کی مد میں 2.220 ارب ڈالر بیرونِ ملک منتقل کیے جو 2024 میں منتقل کیے گئے 2.215 ارب ڈالر کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہے، اس رقم کا 90 فیصد حصہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  سے حاصل شدہ منافع پر مشتمل تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امر قابل غور ہے کہ ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کے باوجود پاکستان اب بھی زرمبادلہ ذخائر کے بحران سے دوچار ہے، جس کے باعث ایف ڈی آئی سے متعلق واجبات کی بروقت ادائیگی ایک مسلسل چیلنج بنی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یکم جولائی 2025 تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر 94 کروڑ 23 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 145 کروڑ 25 لاکھ ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، تاہم یہ اضافہ اعتماد کی بحالی کے لیے کافی نہیں کیونکہ اس میں تین دوست ممالک — چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات — سے حاصل کردہ 16 ارب ڈالر کے رول اوور شامل ہیں، جب کہ کثیرالجہتی اور دو طرفہ قرض دہندگان سے حاصل کردہ قرضے اس کے علاوہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں یہ بات خاصی اہم ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت قائم کوئلے اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کے چینی چیف ایگزیکٹو افسران نے بارہا پاکستانی حکام کو خطوط لکھ کر تقریباً 500 ارب روپے (1.72 ارب ڈالر) کی واجب الادا رقوم کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں پاکستان مٹیاری-لاہور ٹرانسمیشن کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے سی ای او، شیونگ فینگ نے نیشنل گرڈ کمپنی (سابقہ این ٹی ڈی سی) کو لکھے گئے ایک خط میں اس امر کی نشاندہی کی کہ دسمبر 2024 کے انوائس کی ادائیگی تاحال التوا کا شکار ہے، جو 31 جنوری 2024 کو واجب الادا ہو چکا تھا۔ مزید برآں، جنوری تا مئی 2025 کے تمام انوائسز بھی غیر ادا شدہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً، پاکستان مٹیاری-لاہور ٹرانسمیشن کمپنی کے واجبات 55.071 ارب روپے (سیلز ٹیکس کے بغیر) تک پہنچ چکے ہیں، جن میں سے 47.076 ارب روپے طویل مدتی بقایاجات ہیں، اور ان پر تاخیر کی صورت میں سود بھی لاگو ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، حکومت نے حال ہی میں چینی پاور پروڈیوسرز کو اسکرو اکاؤنٹ کے ذریعے 5 ارب روپے کی ادائیگی کی ہے، جب کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کے آئندہ دورۂ چین سے قبل مزید ادائیگیاں متوقع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ڈویژن کی جون اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک کے مطابق جولائی تا مئی کی مدت میں پورٹ فولیو سرمایہ کاری منفی 624.4 ملین ڈالر رہی، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں منفی 559.5 ملین ڈالر تھی۔ ایف ڈی آئی میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی — جو 2024 کے 1.582 ارب ڈالر کے مقابلے میں 2025 میں گھٹ کر 1.354 ارب ڈالر رہ گئی، حالانکہ حکومت نے بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے متعدد فعال اقدامات کیے۔ اس کمی کی ایک بڑی وجہ بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کو مسلسل غیر سرمایہ کاری گریڈ میں رکھنا ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثر انداز ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام اعداد و شمار اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ مہنگائی میں کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس جیسی مثبت پیش رفت کے باوجود معیشت اب بھی ایک نازک مرحلے میں ہے۔ تاہم اس نازک صورتحال کو مایوسی کے بجائے ایک موقع تصور کرتے ہوئے معقول اور دیرپا اصلاحات کی راہ اپنائی جانی چاہیے، بالخصوص ٹیکس نیٹ کے پھیلاؤ، توانائی کے شعبے میں شفافیت اور غیر ترقیاتی اخراجات میں مؤثر کمی کے ذریعے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں پاکستان ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا میں اپنے جغرافیائی و نظریاتی مقام کے باعث ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ اقتصادی ٹیم کے ذمہ داران بروقت اور سنجیدہ اصلاحات متعارف کرائیں تاکہ پائیدار اور جامع ترقی کے سفر کو نہ صرف جاری رکھا جا سکے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کو باوقار مقام بھی دلایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ملک میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں نے سال 2025 میں منافع اور ڈیوڈنڈ کی مد میں 2.220 ارب ڈالر بیرونِ ملک منتقل کیے جو 2024 میں منتقل کیے گئے 2.215 ارب ڈالر کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہے، اس رقم کا 90 فیصد حصہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  سے حاصل شدہ منافع پر مشتمل تھا۔</strong></p>
<p>یہ امر قابل غور ہے کہ ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کے باوجود پاکستان اب بھی زرمبادلہ ذخائر کے بحران سے دوچار ہے، جس کے باعث ایف ڈی آئی سے متعلق واجبات کی بروقت ادائیگی ایک مسلسل چیلنج بنی ہوئی ہے۔</p>
<p>اگرچہ یکم جولائی 2025 تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر 94 کروڑ 23 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 145 کروڑ 25 لاکھ ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، تاہم یہ اضافہ اعتماد کی بحالی کے لیے کافی نہیں کیونکہ اس میں تین دوست ممالک — چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات — سے حاصل کردہ 16 ارب ڈالر کے رول اوور شامل ہیں، جب کہ کثیرالجہتی اور دو طرفہ قرض دہندگان سے حاصل کردہ قرضے اس کے علاوہ ہیں۔</p>
<p>اس تناظر میں یہ بات خاصی اہم ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت قائم کوئلے اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کے چینی چیف ایگزیکٹو افسران نے بارہا پاکستانی حکام کو خطوط لکھ کر تقریباً 500 ارب روپے (1.72 ارب ڈالر) کی واجب الادا رقوم کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>حال ہی میں پاکستان مٹیاری-لاہور ٹرانسمیشن کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے سی ای او، شیونگ فینگ نے نیشنل گرڈ کمپنی (سابقہ این ٹی ڈی سی) کو لکھے گئے ایک خط میں اس امر کی نشاندہی کی کہ دسمبر 2024 کے انوائس کی ادائیگی تاحال التوا کا شکار ہے، جو 31 جنوری 2024 کو واجب الادا ہو چکا تھا۔ مزید برآں، جنوری تا مئی 2025 کے تمام انوائسز بھی غیر ادا شدہ ہیں۔</p>
<p>نتیجتاً، پاکستان مٹیاری-لاہور ٹرانسمیشن کمپنی کے واجبات 55.071 ارب روپے (سیلز ٹیکس کے بغیر) تک پہنچ چکے ہیں، جن میں سے 47.076 ارب روپے طویل مدتی بقایاجات ہیں، اور ان پر تاخیر کی صورت میں سود بھی لاگو ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، حکومت نے حال ہی میں چینی پاور پروڈیوسرز کو اسکرو اکاؤنٹ کے ذریعے 5 ارب روپے کی ادائیگی کی ہے، جب کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کے آئندہ دورۂ چین سے قبل مزید ادائیگیاں متوقع ہیں۔</p>
<p>فنانس ڈویژن کی جون اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک کے مطابق جولائی تا مئی کی مدت میں پورٹ فولیو سرمایہ کاری منفی 624.4 ملین ڈالر رہی، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں منفی 559.5 ملین ڈالر تھی۔ ایف ڈی آئی میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی — جو 2024 کے 1.582 ارب ڈالر کے مقابلے میں 2025 میں گھٹ کر 1.354 ارب ڈالر رہ گئی، حالانکہ حکومت نے بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے متعدد فعال اقدامات کیے۔ اس کمی کی ایک بڑی وجہ بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کو مسلسل غیر سرمایہ کاری گریڈ میں رکھنا ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثر انداز ہو رہا ہے۔</p>
<p>یہ تمام اعداد و شمار اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ مہنگائی میں کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس جیسی مثبت پیش رفت کے باوجود معیشت اب بھی ایک نازک مرحلے میں ہے۔ تاہم اس نازک صورتحال کو مایوسی کے بجائے ایک موقع تصور کرتے ہوئے معقول اور دیرپا اصلاحات کی راہ اپنائی جانی چاہیے، بالخصوص ٹیکس نیٹ کے پھیلاؤ، توانائی کے شعبے میں شفافیت اور غیر ترقیاتی اخراجات میں مؤثر کمی کے ذریعے۔</p>
<p>آخر میں پاکستان ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا میں اپنے جغرافیائی و نظریاتی مقام کے باعث ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ اقتصادی ٹیم کے ذمہ داران بروقت اور سنجیدہ اصلاحات متعارف کرائیں تاکہ پائیدار اور جامع ترقی کے سفر کو نہ صرف جاری رکھا جا سکے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کو باوقار مقام بھی دلایا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275122</guid>
      <pubDate>Sat, 26 Jul 2025 14:58:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/2614461273d5f7c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1067" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/2614461273d5f7c.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
