<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی لڑائی میں شدت، بھاری فائرنگ کا تبادلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275118/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان کشیدگی دوسرے روز بھی جاری رہی، جہاں دونوں جانب سے بھاری توپخانوں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ کمبوڈیا کے وزیرِ اعظم ہن منیت نے دعویٰ کیا کہ تھائی لینڈ نے مالدیوی قیادت والی جنگ بندی کی پیشکش قبول کی تھی لیکن پھر اچانک اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ 13 سالوں کی سب سے شدید لڑائی میں اب تک کم از کم 20 افراد جان سے گئے اور 1 لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک ایک دوسرے پر تنازع کی شروعات کا الزام لگا رہے ہیں اور جمعہ کو بیانات میں بھی سختی دیکھی گئی۔ تھائی حکومت نے کمبوڈیا پر شہریوں پر جان بوجھ کر حملے کرنے کا الزام لگایا ہے، جب کہ کمبوڈیا نے تھائی فوج پر کلسٹر بم کے استعمال کی سخت مذمت کی ہے، جو عالمی سطح پر متنازع اور ممنوعہ ہتھیار سمجھے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنگ بندی کی تجویز&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھائی لینڈ کے قائم مقام وزیرِاعظم پھمتھم ویچایچائی نے کہا کہ کمبوڈیا نے متعدد محاذوں پر حملے کیے ہیں اور صورتحال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ یہ جنگ میں بدل سکتی ہے، کیونکہ اب جھڑپوں میں بھاری ہتھیار بھی استعمال ہورہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمبوڈین وزیرِ اعظم ہن منیت نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ایسین سربراہ اور ملائشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم کی تجویز کردہ جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، جس میں تھائی رہنما کی بھی رضامندی شامل تھی، مگر تھائی حکومت نے ایک گھنٹے کے اندر اپنی پوزیشن واپس لے لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ، ملائشیا اور چین کی ثالثی کی پیشکشوں کے باوجود تھائی لینڈ نے دوطرفہ مذاکرات کو ترجیح دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تھائی لینڈ کا وحشیانہ اقدامات  کا الزام&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھائی فوج نے الزام لگایا کہ کمبوڈیا نے اسکولوں اور اسپتالوں سمیت مختلف علاقوں پر توپخانے اور روسی ساختہ BM-21 راکٹس سے حملے کیے، جو شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے ظالمانہ اقدام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو نشانہ بنانا جنگی جرم ہے اور ذمہ داروں کو سزا دی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوج نے کہا کہ یہ ظالمانہ کارروائیاں بے گناہ شہریوں کی جانوں کے ضیاع اور زخمیوں کا سبب بنی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پریہ ویہر مندر کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل 11ویں صدی کے پریہ ویہر مندر کو بھی اس جھڑپ میں ر واضح نقصان پہنچا ہے، جس پر دونوں ممالک نے صدیوں سے دعویٰ کیا ہے۔ تھائی فوج نے اس الزام کو حقائق کی تحریف قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب تھائی لینڈ نے پنوم پین سے اپنا سفیر واپس بلا لیا اور کمبوڈیا کے سفیر کو نکال دیا، بعد ازاں تھائی فوجی کو بارودی سرنگ سے زخمی ہونے کا واقعہ پیش آیا جس پر دونوں ممالک ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان کشیدگی دوسرے روز بھی جاری رہی، جہاں دونوں جانب سے بھاری توپخانوں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ کمبوڈیا کے وزیرِ اعظم ہن منیت نے دعویٰ کیا کہ تھائی لینڈ نے مالدیوی قیادت والی جنگ بندی کی پیشکش قبول کی تھی لیکن پھر اچانک اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گیا۔</strong></p>
<p>گزشتہ 13 سالوں کی سب سے شدید لڑائی میں اب تک کم از کم 20 افراد جان سے گئے اور 1 لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔</p>
<p>دونوں ممالک ایک دوسرے پر تنازع کی شروعات کا الزام لگا رہے ہیں اور جمعہ کو بیانات میں بھی سختی دیکھی گئی۔ تھائی حکومت نے کمبوڈیا پر شہریوں پر جان بوجھ کر حملے کرنے کا الزام لگایا ہے، جب کہ کمبوڈیا نے تھائی فوج پر کلسٹر بم کے استعمال کی سخت مذمت کی ہے، جو عالمی سطح پر متنازع اور ممنوعہ ہتھیار سمجھے جاتے ہیں۔</p>
<p><strong>جنگ بندی کی تجویز</strong></p>
<p>تھائی لینڈ کے قائم مقام وزیرِاعظم پھمتھم ویچایچائی نے کہا کہ کمبوڈیا نے متعدد محاذوں پر حملے کیے ہیں اور صورتحال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ یہ جنگ میں بدل سکتی ہے، کیونکہ اب جھڑپوں میں بھاری ہتھیار بھی استعمال ہورہے ہیں۔</p>
<p>کمبوڈین وزیرِ اعظم ہن منیت نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ایسین سربراہ اور ملائشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم کی تجویز کردہ جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، جس میں تھائی رہنما کی بھی رضامندی شامل تھی، مگر تھائی حکومت نے ایک گھنٹے کے اندر اپنی پوزیشن واپس لے لی۔</p>
<p>امریکہ، ملائشیا اور چین کی ثالثی کی پیشکشوں کے باوجود تھائی لینڈ نے دوطرفہ مذاکرات کو ترجیح دی ہے۔</p>
<p><strong>تھائی لینڈ کا وحشیانہ اقدامات  کا الزام</strong></p>
<p>تھائی فوج نے الزام لگایا کہ کمبوڈیا نے اسکولوں اور اسپتالوں سمیت مختلف علاقوں پر توپخانے اور روسی ساختہ BM-21 راکٹس سے حملے کیے، جو شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے ظالمانہ اقدام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو نشانہ بنانا جنگی جرم ہے اور ذمہ داروں کو سزا دی جانی چاہیے۔</p>
<p>فوج نے کہا کہ یہ ظالمانہ کارروائیاں بے گناہ شہریوں کی جانوں کے ضیاع اور زخمیوں کا سبب بنی ہیں۔</p>
<p><strong>پریہ ویہر مندر کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات</strong></p>
<p>یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل 11ویں صدی کے پریہ ویہر مندر کو بھی اس جھڑپ میں ر واضح نقصان پہنچا ہے، جس پر دونوں ممالک نے صدیوں سے دعویٰ کیا ہے۔ تھائی فوج نے اس الزام کو حقائق کی تحریف قرار دیا ہے۔</p>
<p>یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب تھائی لینڈ نے پنوم پین سے اپنا سفیر واپس بلا لیا اور کمبوڈیا کے سفیر کو نکال دیا، بعد ازاں تھائی فوجی کو بارودی سرنگ سے زخمی ہونے کا واقعہ پیش آیا جس پر دونوں ممالک ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275118</guid>
      <pubDate>Sat, 26 Jul 2025 12:57:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/261303585e09515.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/261303585e09515.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
