<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:59:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:59:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ سے تجارتی معاہدہ چند دن کی دوری پر، وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275115/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ ایک اہم تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں اور یہ معاہدہ آئندہ چند روز میں طے پا سکتا ہے، تاہم امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد جاری کردہ امریکی بیان میں اس حوالے سے کسی واضح ٹائم لائن کا ذکر نہیں کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہم امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے کو حتمی شکل دینے کے بہت قریب ہیں۔ ہماری ٹیمیں یہاں واشنگٹن میں موجود رہی ہیں، ملاقاتیں اور ورچوئل اجلاس جاری ہیں اور وزیرِاعظم نے ایک کمیٹی کو اس معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہ کہ یہ معاملہ مہینوں یا ہفتوں کا نہیں بلکہ صرف چند دنوں کی بات ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں واشنگٹن نے متعدد ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر نظرِثانی کی کوشش کی اور انہیں غیرمنصفانہ تجارتی تعلقات قرار دیتے ہوئے محصولات (ٹیرف) کی دھمکیاں بھی دیں۔ تاہم کئی ماہرینِ معیشت ٹرمپ کے اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SecRubio/status/1948807676496150888?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1948807676496150888%7Ctwgr%5E1a9b0822ceadcc1e06639107c0acf16c47bc065d%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40374672"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روبیو اور اسحاق ڈار کی ملاقات کے بعد امریکی محکمہ خارجہ اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ علیحدہ علیحدہ بیانات میں بتایا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے تجارت، اہم معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ تاہم نہ تو روبیو کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کی گئی پوسٹ میں اور نہ ہی امریکی بیان میں کسی ممکنہ تجارتی معاہدے کی ٹائم لائن کا ذکر کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں  صدر ٹرمپ نے 10 مئی کو بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا کریڈٹ لیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ اُن کی مداخلت اور تجارتی دباؤ کا نتیجہ  ہے، تاہم بھارت نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ نئی دہلی اور اسلام آباد اپنے مسائل بیرونی مداخلت کے بغیر براہِ راست بات چیت کے ذریعے حل کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ ایک اہم تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں اور یہ معاہدہ آئندہ چند روز میں طے پا سکتا ہے، تاہم امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد جاری کردہ امریکی بیان میں اس حوالے سے کسی واضح ٹائم لائن کا ذکر نہیں کیا گیا۔</strong></p>
<p>اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہم امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے کو حتمی شکل دینے کے بہت قریب ہیں۔ ہماری ٹیمیں یہاں واشنگٹن میں موجود رہی ہیں، ملاقاتیں اور ورچوئل اجلاس جاری ہیں اور وزیرِاعظم نے ایک کمیٹی کو اس معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہ کہ یہ معاملہ مہینوں یا ہفتوں کا نہیں بلکہ صرف چند دنوں کی بات ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں واشنگٹن نے متعدد ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر نظرِثانی کی کوشش کی اور انہیں غیرمنصفانہ تجارتی تعلقات قرار دیتے ہوئے محصولات (ٹیرف) کی دھمکیاں بھی دیں۔ تاہم کئی ماہرینِ معیشت ٹرمپ کے اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SecRubio/status/1948807676496150888?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1948807676496150888%7Ctwgr%5E1a9b0822ceadcc1e06639107c0acf16c47bc065d%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40374672"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>روبیو اور اسحاق ڈار کی ملاقات کے بعد امریکی محکمہ خارجہ اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ علیحدہ علیحدہ بیانات میں بتایا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے تجارت، اہم معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ تاہم نہ تو روبیو کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کی گئی پوسٹ میں اور نہ ہی امریکی بیان میں کسی ممکنہ تجارتی معاہدے کی ٹائم لائن کا ذکر کیا گیا۔</p>
<p>علاوہ ازیں  صدر ٹرمپ نے 10 مئی کو بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا کریڈٹ لیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ اُن کی مداخلت اور تجارتی دباؤ کا نتیجہ  ہے، تاہم بھارت نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ نئی دہلی اور اسلام آباد اپنے مسائل بیرونی مداخلت کے بغیر براہِ راست بات چیت کے ذریعے حل کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275115</guid>
      <pubDate>Sat, 26 Jul 2025 11:45:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/26113612ab20af9.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/26113612ab20af9.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
