<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:10:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 12:10:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روبیو کی پاکستان کے انسدادِ دہشتگردی کردار کی تعریف، اسحاق ڈار سے ملاقات میں تعلقات مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275107/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعے کے روز پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیوں کو سراہا اور علاقائی استحکام کے فروغ میں اس کے تعمیری کردار کی تعریف کی  ہے۔ یہ بات آج نیوز نے اپنی رپورٹ میں کہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبصرہ ان کی پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے پہلی بالمشافہ ملاقات کے دوران سامنے آیا، جو ان دنوں سرکاری دورے پر امریکہ میں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران دونوں جانب سے زراعت، معدنیات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد کی سطح کے ان مذاکرات میں دونوں جانب سے سینئر حکام نے شرکت کی، جن میں امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار کی آمد پر پرتپاک خیرمقدم کیا گیا، جبکہ انہوں نے علاقائی امن کے لیے امریکی قیادت کی کوششوں کو سراہا۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کیا اور تجارت و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائب وزیر اعظم امریکہ کے معروف تھنک ٹینک دی اٹلانٹک کونسل میں بھی خطاب کریں گے، جہاں وہ علاقائی و عالمی امور پر پاکستان کا موقف اور پاک امریکہ تعلقات کے مستقبل پر روشنی ڈالیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ اور سفارت خانے کے سینئر حکام نے اسحاق ڈار کو امریکی دارالحکومت کے ریلوے اسٹیشن پر خوش آمدید کہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے اپنے ہفتہ بھر کے سرکاری دورے کے دوران نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) میں پاکستان کی صدارت کے تحت ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں شرکت کی، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی ہائی لیول پولیٹیکل فورم (ایچ ایل پی ایف) آن سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ کے موقع پر ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بلومبرگ نے امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس کے حوالے سے بتایا ہے کہ جلد ہی ایک پاکستانی وفد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے تجارتی معاہدے پر بات چیت کے لیے ملاقات کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خارجہ کی بریفنگ میں بدھ کے روز ٹیمی بروس نے تصدیق کی کہ وہ خود بھی اس ملاقات میں شرکت کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کے مطابق اسلام آباد 29 فیصد جوابی ٹیرف کے خاتمے کا خواہاں ہے، جو سابقہ ٹرمپ انتظامیہ نے ابتدائی طور پر عائد کیے تھے۔ جواباً پاکستان نے سویا بین اور کپاس کی امریکی درآمدات میں اضافے کی پیشکش کی ہے۔ پاکستان چین کے بعد امریکی کپاس کا دوسرا بڑا خریدار ہے جبکہ امریکہ پاکستان کی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جس کی ایک مثال فیلڈ مارشل عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ایک غیر معمولی ملاقات ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا حالیہ دورۂ امریکہ، پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا مظہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی حال ہی میں امریکہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے واشنگٹن میں امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک اور یو ایس ٹریڈ رپریزنٹیٹو جیمیسن گریئر سے ملاقاتیں کیں، تاکہ معاشی تعاون کو فروغ دیا جا سکے، جیسا کہ وزارت خزانہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز نے گزشتہ ہفتے رپورٹ کیا ہے کہ یہ مذاکرات، جو جوابی ٹیرف محصولات پر مرکوز ہیں، ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہیں جس کا مقصد بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی حالات کے تناظر میں پاکستان اور امریکہ کے اقتصادی تعلقات کو ازسرِنو ترتیب دینا ہے، جبکہ پاکستان کی یہ بھی کوشش ہے کہ وہ امریکی برآمدات پر ممکنہ بھاری ڈیوٹیز سے بچ سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعے کے روز پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیوں کو سراہا اور علاقائی استحکام کے فروغ میں اس کے تعمیری کردار کی تعریف کی  ہے۔ یہ بات آج نیوز نے اپنی رپورٹ میں کہی ہے۔</strong></p>
<p>یہ تبصرہ ان کی پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے پہلی بالمشافہ ملاقات کے دوران سامنے آیا، جو ان دنوں سرکاری دورے پر امریکہ میں موجود ہیں۔</p>
<p>ملاقات کے دوران دونوں جانب سے زراعت، معدنیات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔</p>
<p>وفد کی سطح کے ان مذاکرات میں دونوں جانب سے سینئر حکام نے شرکت کی، جن میں امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ بھی شامل تھے۔</p>
<p>اسحاق ڈار کی آمد پر پرتپاک خیرمقدم کیا گیا، جبکہ انہوں نے علاقائی امن کے لیے امریکی قیادت کی کوششوں کو سراہا۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کیا اور تجارت و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا۔</p>
<p>نائب وزیر اعظم امریکہ کے معروف تھنک ٹینک دی اٹلانٹک کونسل میں بھی خطاب کریں گے، جہاں وہ علاقائی و عالمی امور پر پاکستان کا موقف اور پاک امریکہ تعلقات کے مستقبل پر روشنی ڈالیں گے۔</p>
<p>اس موقع پر پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ اور سفارت خانے کے سینئر حکام نے اسحاق ڈار کو امریکی دارالحکومت کے ریلوے اسٹیشن پر خوش آمدید کہا۔</p>
<p>نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے اپنے ہفتہ بھر کے سرکاری دورے کے دوران نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) میں پاکستان کی صدارت کے تحت ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں شرکت کی، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی ہائی لیول پولیٹیکل فورم (ایچ ایل پی ایف) آن سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ کے موقع پر ملاقات کی۔</p>
<p>دوسری جانب بلومبرگ نے امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس کے حوالے سے بتایا ہے کہ جلد ہی ایک پاکستانی وفد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے تجارتی معاہدے پر بات چیت کے لیے ملاقات کرے گا۔</p>
<p>امریکی محکمہ خارجہ کی بریفنگ میں بدھ کے روز ٹیمی بروس نے تصدیق کی کہ وہ خود بھی اس ملاقات میں شرکت کریں گی۔</p>
<p>بلومبرگ کے مطابق اسلام آباد 29 فیصد جوابی ٹیرف کے خاتمے کا خواہاں ہے، جو سابقہ ٹرمپ انتظامیہ نے ابتدائی طور پر عائد کیے تھے۔ جواباً پاکستان نے سویا بین اور کپاس کی امریکی درآمدات میں اضافے کی پیشکش کی ہے۔ پاکستان چین کے بعد امریکی کپاس کا دوسرا بڑا خریدار ہے جبکہ امریکہ پاکستان کی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی بھی ہے۔</p>
<p>حال ہی میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جس کی ایک مثال فیلڈ مارشل عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ایک غیر معمولی ملاقات ہے۔</p>
<p>دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا حالیہ دورۂ امریکہ، پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا مظہر ہے۔</p>
<p>مزید یہ کہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی حال ہی میں امریکہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے واشنگٹن میں امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک اور یو ایس ٹریڈ رپریزنٹیٹو جیمیسن گریئر سے ملاقاتیں کیں، تاکہ معاشی تعاون کو فروغ دیا جا سکے، جیسا کہ وزارت خزانہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے۔</p>
<p>رائٹرز نے گزشتہ ہفتے رپورٹ کیا ہے کہ یہ مذاکرات، جو جوابی ٹیرف محصولات پر مرکوز ہیں، ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہیں جس کا مقصد بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی حالات کے تناظر میں پاکستان اور امریکہ کے اقتصادی تعلقات کو ازسرِنو ترتیب دینا ہے، جبکہ پاکستان کی یہ بھی کوشش ہے کہ وہ امریکی برآمدات پر ممکنہ بھاری ڈیوٹیز سے بچ سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275107</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Jul 2025 23:19:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/25230045234eecd.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/25230045234eecd.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
