<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:54:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:54:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان روپے پر دباؤ کم کرنے کے لیے ڈالر کی خریداری بتدریج کم کرے گا، رپورٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275106/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بلومبرگ کے مطابق سٹی گروپ کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) روپے پر غیر ضروری دباؤ ڈالے بغیر ڈالر کے ذخائر میں اضافہ بتدریج اور محتاط انداز میں جاری رکھے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ زرِمبادلہ کے ذخائر 2023 کے آغاز کی نچلی سطح سے بہتر ہوئے ہیں، ہم اب بھی مرکزی بینک کی زرِمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی حکمت عملی کا خیرمقدم کرتے ہیں کیونکہ بیرونی مالیاتی ذخائر اب بھی کم ہیں ۔  یہ بات ایمرجنگ مارکیٹس کی ماہر معاشیات اور سٹی گروپ کی میکرو اسٹریٹیجسٹ کیٹی کیرونڈے نے ایک نوٹ میں لکھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اس ہفتے مرکزی بینک نے اپنے زرِمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی حکمت عملی میں نرمی کی، جس سے بینکوں کے درمیان لیکویڈیٹی بہتر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی روپے پر دباؤ گزشتہ تین تجارتی سیشنز میں کم ہوا ہے۔ تاہم، سال کے آغاز سے اب تک یہ کرنسی ایشیا کے بیشتر ہم پلہ کرنسیوں کے مقابلے میں کمزور رہی ہے اور ڈالر کے مقابلے میں 2 فیصد سے زائد کی گراوٹ کا شکار ہے۔ دوسری جانب ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 11 جولائی تک 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.53 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.27 فیصد بڑھ گئی اور 283.45 پر بند ہوئی، جو پچھلے بند ہونے والے نرخ 284.22 کے مقابلے میں77 پیسے کا اضافہ ہے۔ یہ گزشتہ ہفتے کے دوران کرنسی کی مضبوطی کے رجحان کا تسلسل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ روپے کی کارکردگی میں بہتری کی ایک وجہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے غیر ملکی کرنسی کی اسمگلنگ کے خلاف مبینہ سخت کارروائی بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی اے پی کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے اسمگلرز کے خلاف کارروائیوں کے بعد اوپن مارکیٹ اور انٹربینک دونوں میں ڈالر کی قیمت میں کمی دیکھی گئی۔ بدھ کے روز انٹربینک مارکیٹ میں روپیہ  21 پیسے بہتر ہو کر 284.76 پر بند ہوا، جو منگل کے بند ہونے والے نرخ 284.97 سے کم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک بوستان نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ڈی جی کاؤنٹر انٹیلی جنس جنرل فیصل نصیر سے ملاقات کے لیے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) ہیڈکوارٹرز میں ایک وفد کی قیادت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے بعد اطلاعات کے مطابق افغانستان اور ایران جانے والے راستوں پر سرگرم کرنسی اسمگلرز کے خلاف ہدفی کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک بوستان نے کہا کہ ”کالے دھن کی منڈی میں بہتر نرخوں کی وجہ سے ڈالر کی قانونی ذرائع میں فراہمی سکڑ گئی تھی۔ تاہم اس کریک ڈاؤن کے بعد اسمگلر مافیا زیر زمین چلا گیا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امید ظاہر کی کہ ”اگر کریک ڈاؤن جاری رہا تو ڈالر کی قدر میں مزید کمی ممکن ہے اور ریٹ 270 یا حتیٰ کہ 250 روپے تک بھی آ سکتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر عالمی کرنسی مارکیٹوں نے بھی حالیہ دنوں میں روپے کی کارکردگی کو سہارا دیا۔ جمعہ کے روز امریکی ڈالر دو ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب مستحکم رہا جبکہ ڈالر انڈیکس گزشتہ ایک ماہ کی سب سے کمزور ہفتہ وار کارکردگی کی جانب گامزن دکھائی دیا۔ اس دوران تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی وجہ تجارتی امکانات میں بہتری اور روس کی ممکنہ پیٹرول برآمدی پابندیوں سے متعلق قیاس آرائیاں تھیں، جس نے مجموعی سرمایہ کاری کی فضا کو مزید تقویت بخشی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں مالیاتی حالات میں بہتری آئی ہے، جہاں مرکزی بینک نے اقتصادی نمو کو سہارا دینے کے لیے گزشتہ سال سے اب تک پالیسی شرحِ سود میں نصف فیصد کمی کر کے اسے 11 فیصد تک لایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی ایشیائی ملک پاکستان نے 2023 میں ڈیفالٹ کے خطرے سے بچتے ہوئے شہباز شریف کی قیادت میں آئی ایم ایف پروگرامز کے تحت مالیاتی فنڈز کی بحالی ممکن بنائی اور ایسا بجٹ پیش کیا جس میں مالیاتی نظم و ضبط پر قائم رہنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بلومبرگ کے مطابق سٹی گروپ کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) روپے پر غیر ضروری دباؤ ڈالے بغیر ڈالر کے ذخائر میں اضافہ بتدریج اور محتاط انداز میں جاری رکھے گا۔</strong></p>
<p>اگرچہ زرِمبادلہ کے ذخائر 2023 کے آغاز کی نچلی سطح سے بہتر ہوئے ہیں، ہم اب بھی مرکزی بینک کی زرِمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی حکمت عملی کا خیرمقدم کرتے ہیں کیونکہ بیرونی مالیاتی ذخائر اب بھی کم ہیں ۔  یہ بات ایمرجنگ مارکیٹس کی ماہر معاشیات اور سٹی گروپ کی میکرو اسٹریٹیجسٹ کیٹی کیرونڈے نے ایک نوٹ میں لکھی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اس ہفتے مرکزی بینک نے اپنے زرِمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی حکمت عملی میں نرمی کی، جس سے بینکوں کے درمیان لیکویڈیٹی بہتر ہوئی۔</p>
<p>مرکزی بینک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی روپے پر دباؤ گزشتہ تین تجارتی سیشنز میں کم ہوا ہے۔ تاہم، سال کے آغاز سے اب تک یہ کرنسی ایشیا کے بیشتر ہم پلہ کرنسیوں کے مقابلے میں کمزور رہی ہے اور ڈالر کے مقابلے میں 2 فیصد سے زائد کی گراوٹ کا شکار ہے۔ دوسری جانب ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 11 جولائی تک 23 ملین ڈالر بڑھ کر 14.53 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔</p>
<p>جمعہ کو انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.27 فیصد بڑھ گئی اور 283.45 پر بند ہوئی، جو پچھلے بند ہونے والے نرخ 284.22 کے مقابلے میں77 پیسے کا اضافہ ہے۔ یہ گزشتہ ہفتے کے دوران کرنسی کی مضبوطی کے رجحان کا تسلسل ہے۔</p>
<p>کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ روپے کی کارکردگی میں بہتری کی ایک وجہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے غیر ملکی کرنسی کی اسمگلنگ کے خلاف مبینہ سخت کارروائی بھی ہے۔</p>
<p>ای سی اے پی کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے اسمگلرز کے خلاف کارروائیوں کے بعد اوپن مارکیٹ اور انٹربینک دونوں میں ڈالر کی قیمت میں کمی دیکھی گئی۔ بدھ کے روز انٹربینک مارکیٹ میں روپیہ  21 پیسے بہتر ہو کر 284.76 پر بند ہوا، جو منگل کے بند ہونے والے نرخ 284.97 سے کم تھا۔</p>
<p>ملک بوستان نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ڈی جی کاؤنٹر انٹیلی جنس جنرل فیصل نصیر سے ملاقات کے لیے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) ہیڈکوارٹرز میں ایک وفد کی قیادت کی ہے۔</p>
<p>ملاقات کے بعد اطلاعات کے مطابق افغانستان اور ایران جانے والے راستوں پر سرگرم کرنسی اسمگلرز کے خلاف ہدفی کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کیے گئے۔</p>
<p>ملک بوستان نے کہا کہ ”کالے دھن کی منڈی میں بہتر نرخوں کی وجہ سے ڈالر کی قانونی ذرائع میں فراہمی سکڑ گئی تھی۔ تاہم اس کریک ڈاؤن کے بعد اسمگلر مافیا زیر زمین چلا گیا ہے۔“</p>
<p>انہوں نے امید ظاہر کی کہ ”اگر کریک ڈاؤن جاری رہا تو ڈالر کی قدر میں مزید کمی ممکن ہے اور ریٹ 270 یا حتیٰ کہ 250 روپے تک بھی آ سکتا ہے۔“</p>
<p>ادھر عالمی کرنسی مارکیٹوں نے بھی حالیہ دنوں میں روپے کی کارکردگی کو سہارا دیا۔ جمعہ کے روز امریکی ڈالر دو ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب مستحکم رہا جبکہ ڈالر انڈیکس گزشتہ ایک ماہ کی سب سے کمزور ہفتہ وار کارکردگی کی جانب گامزن دکھائی دیا۔ اس دوران تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی وجہ تجارتی امکانات میں بہتری اور روس کی ممکنہ پیٹرول برآمدی پابندیوں سے متعلق قیاس آرائیاں تھیں، جس نے مجموعی سرمایہ کاری کی فضا کو مزید تقویت بخشی۔</p>
<p>پاکستان میں مالیاتی حالات میں بہتری آئی ہے، جہاں مرکزی بینک نے اقتصادی نمو کو سہارا دینے کے لیے گزشتہ سال سے اب تک پالیسی شرحِ سود میں نصف فیصد کمی کر کے اسے 11 فیصد تک لایا ہے۔</p>
<p>جنوبی ایشیائی ملک پاکستان نے 2023 میں ڈیفالٹ کے خطرے سے بچتے ہوئے شہباز شریف کی قیادت میں آئی ایم ایف پروگرامز کے تحت مالیاتی فنڈز کی بحالی ممکن بنائی اور ایسا بجٹ پیش کیا جس میں مالیاتی نظم و ضبط پر قائم رہنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275106</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Jul 2025 22:32:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/25220701a34f95d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/25220701a34f95d.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
