<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ اور آسٹریلیا کا آوکس شراکت داری اور معاشی تعلقات مزید گہرے کرنے کا عزم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275096/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانیہ کے وزیر دفاع جان ہیلی نے جمعہ کو کہا کہ آسٹریلیا کے ساتھ برطانیہ کا عزم ’’مکمل اور غیر متزلزل‘‘ ہے۔ یہ بیان سڈنی میں برطانیہ اور آسٹریلیا کے وزرائے دفاع و خارجہ کے مابین ہونے والے مذاکرات کے دوران سامنے آیا، جن میں باہمی تعاون بڑھانے اور آوکس جوہری آبدوز شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر بات چیت ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جان ہیلی اور برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے سڈنی میں آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیس سے ملاقات کی۔ مذاکرات میں تجارتی تعلقات کے فروغ اور برطانیہ و آسٹریلیا کے درمیان نئی کلاس کی جوہری طاقت سے چلنے والی آبدوزوں کی تعمیر کے منصوبے پر پیشرفت پر توجہ مرکوز رہی۔ امریکہ اس سہ فریقی معاہدے کا جائزہ لے رہا ہے جو 2021 میں طے پایا تھا اور آسٹریلیا پر زور دے رہا ہے کہ وہ انڈو پیسفک خطے میں چین کی فوجی تیاریوں کے مقابلے کے لیے دفاعی اخراجات بڑھائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیلی نے کہا کہ آوکس برطانیہ کی سب سے اہم دفاعی شراکت داریوں میں سے ایک ہے اور آسٹریلیا کے ساتھ طے پایا جانے والا معاہدہ اگلے نصف صدی تک اس عزم کو مستحکم کرے گا۔ برطانوی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کے آبدوز پروگراموں کی بنیاد بنے گا، جو آئندہ 25 برسوں میں برطانیہ کے لیے 20 ارب پاؤنڈ (27 ارب ڈالر) تک کی برآمدات کا باعث اور ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے افتتاحی کلمات میں کہا کہ دونوں ممالک انڈو پیسفک میں اجتماعی سلامتی کو مستحکم کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آوکمن اجلاس کے بعد وزرا میلبورن اور ڈارون کا دورہ کریں گے جہاں برطانوی طیارہ بردار جہاز ایچ ایم ایس پرنس آف ویلز مشترکہ فوجی مشقوں ٹالیسمان سیبر میں شریک ہے۔ 13 جولائی سے 4 اگست تک جاری ان مشقوں میں 19 ممالک کے 40,000 فوجی حصہ لے رہے ہیں، جنہیں خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ جنگی تیاریوں کا مظاہرہ قرار دیا گیا ہے۔ برطانیہ نے اپنی شمولیت میں اضافہ کیا ہے اور 3,000 فوجی تعینات کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانیہ کے وزیر دفاع جان ہیلی نے جمعہ کو کہا کہ آسٹریلیا کے ساتھ برطانیہ کا عزم ’’مکمل اور غیر متزلزل‘‘ ہے۔ یہ بیان سڈنی میں برطانیہ اور آسٹریلیا کے وزرائے دفاع و خارجہ کے مابین ہونے والے مذاکرات کے دوران سامنے آیا، جن میں باہمی تعاون بڑھانے اور آوکس جوہری آبدوز شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر بات چیت ہوئی۔</strong></p>
<p>جان ہیلی اور برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے سڈنی میں آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیس سے ملاقات کی۔ مذاکرات میں تجارتی تعلقات کے فروغ اور برطانیہ و آسٹریلیا کے درمیان نئی کلاس کی جوہری طاقت سے چلنے والی آبدوزوں کی تعمیر کے منصوبے پر پیشرفت پر توجہ مرکوز رہی۔ امریکہ اس سہ فریقی معاہدے کا جائزہ لے رہا ہے جو 2021 میں طے پایا تھا اور آسٹریلیا پر زور دے رہا ہے کہ وہ انڈو پیسفک خطے میں چین کی فوجی تیاریوں کے مقابلے کے لیے دفاعی اخراجات بڑھائے۔</p>
<p>ہیلی نے کہا کہ آوکس برطانیہ کی سب سے اہم دفاعی شراکت داریوں میں سے ایک ہے اور آسٹریلیا کے ساتھ طے پایا جانے والا معاہدہ اگلے نصف صدی تک اس عزم کو مستحکم کرے گا۔ برطانوی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کے آبدوز پروگراموں کی بنیاد بنے گا، جو آئندہ 25 برسوں میں برطانیہ کے لیے 20 ارب پاؤنڈ (27 ارب ڈالر) تک کی برآمدات کا باعث اور ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔</p>
<p>آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے افتتاحی کلمات میں کہا کہ دونوں ممالک انڈو پیسفک میں اجتماعی سلامتی کو مستحکم کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>آوکمن اجلاس کے بعد وزرا میلبورن اور ڈارون کا دورہ کریں گے جہاں برطانوی طیارہ بردار جہاز ایچ ایم ایس پرنس آف ویلز مشترکہ فوجی مشقوں ٹالیسمان سیبر میں شریک ہے۔ 13 جولائی سے 4 اگست تک جاری ان مشقوں میں 19 ممالک کے 40,000 فوجی حصہ لے رہے ہیں، جنہیں خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ جنگی تیاریوں کا مظاہرہ قرار دیا گیا ہے۔ برطانیہ نے اپنی شمولیت میں اضافہ کیا ہے اور 3,000 فوجی تعینات کیے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275096</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Jul 2025 14:47:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/25144543b4a3e92.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/25144543b4a3e92.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
