<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 02:05:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 13 Aug 2026 02:05:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیرِاعظم کا جی ایس پی پلس اسکیم سے وابستگی کے عزم کا اعادہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275088/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِاعظم شہباز شریف نے جمعہ کو یورپی یونین (ای یو) کی پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں حیثیت کو اجاگر کرتے ہوئے جی ایس پی پلس اسکیم کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات وزیرِاعظم نے یورپی یونین کی سفیر رِینا کیونکا سے ملاقات کے دوران کہی، جنہوں نے وزیرِاعظم ہاؤس میں ان سے الوداعی ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ایس پی پلس (جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس) پاکستان کی برآمدات پر مبنی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، جس کے تحت اس کی 76 فیصد سے زائد برآمدات — زیادہ تر ٹیکسٹائل اور ملبوسات — یورپی یونین میں ٹیرف سے مستثنیٰ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے 2014 میں اسکیم میں شمولیت کے بعد سے یورپی یونین کو برآمدات دوگنی سے زیادہ ہو کر 2023 میں 8 ارب یورو تک پہنچ گئی ہیں، جن میں سے 2.4 ارب یورو جرمنی کو برآمد کیے گئے۔ اس پیشرفت نے یورپی یونین کو پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی بنا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران وزیرِاعظم نے سفیر کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور بالخصوص 2022 کے سیلاب کے دوران یورپی یونین کی نمایاں امداد کو یقینی بنانے میں ان کی کوششوں کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم آفس کے مطابق، پاکستان اور یورپی یونین کے مابین اہم امور، جن میں ملکی سیاسی پیشرفت بھی شامل ہے، زیرِبحث آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین کی سفیر نے وزیرِاعظم کا ان کے قیام کے دوران مکمل تعاون فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یورپی یونین پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم کی نیک تمناؤں پر اظہارِتشکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنے اگلے عہدے پر برسلز میں بھی پاکستان-یورپی یونین تعلقات کو مزید فروغ دیتی رہیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِاعظم شہباز شریف نے جمعہ کو یورپی یونین (ای یو) کی پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں حیثیت کو اجاگر کرتے ہوئے جی ایس پی پلس اسکیم کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔</strong></p>
<p>یہ بات وزیرِاعظم نے یورپی یونین کی سفیر رِینا کیونکا سے ملاقات کے دوران کہی، جنہوں نے وزیرِاعظم ہاؤس میں ان سے الوداعی ملاقات کی۔</p>
<p>جی ایس پی پلس (جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس) پاکستان کی برآمدات پر مبنی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، جس کے تحت اس کی 76 فیصد سے زائد برآمدات — زیادہ تر ٹیکسٹائل اور ملبوسات — یورپی یونین میں ٹیرف سے مستثنیٰ ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے 2014 میں اسکیم میں شمولیت کے بعد سے یورپی یونین کو برآمدات دوگنی سے زیادہ ہو کر 2023 میں 8 ارب یورو تک پہنچ گئی ہیں، جن میں سے 2.4 ارب یورو جرمنی کو برآمد کیے گئے۔ اس پیشرفت نے یورپی یونین کو پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی بنا دیا ہے۔</p>
<p>ملاقات کے دوران وزیرِاعظم نے سفیر کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور بالخصوص 2022 کے سیلاب کے دوران یورپی یونین کی نمایاں امداد کو یقینی بنانے میں ان کی کوششوں کو سراہا۔</p>
<p>وزیرِاعظم آفس کے مطابق، پاکستان اور یورپی یونین کے مابین اہم امور، جن میں ملکی سیاسی پیشرفت بھی شامل ہے، زیرِبحث آئے۔</p>
<p>یورپی یونین کی سفیر نے وزیرِاعظم کا ان کے قیام کے دوران مکمل تعاون فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یورپی یونین پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p>وزیرِاعظم کی نیک تمناؤں پر اظہارِتشکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنے اگلے عہدے پر برسلز میں بھی پاکستان-یورپی یونین تعلقات کو مزید فروغ دیتی رہیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275088</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Jul 2025 13:44:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/251343251e0a6fd.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1260" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/251343251e0a6fd.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
