<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:10:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:10:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کی مسلم دشمنی، بنگالی بولنے والوں مسلمانوں کو جبری بے دخل کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275077/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت نے سیکڑوں  بنگالی زبان بولنے والے مسلمانوں کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے بنگلہ دیش میں دھکیل دیا ہے، انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے جمعرات کو الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت قوانین کو نظر انداز کر رہی ہے اور مذہبی بنیادوں پر تعصب کو ہوا دے رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت طویل عرصے سے امیگریشن، خاص طور پر مسلم اکثریتی ملک بنگلہ دیش سے آنے والے افراد کے خلاف سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے، اور اعلیٰ حکام اکثر انہیں دیمک اور درانداز قرار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناقدین حکومت پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ بھارت کے تقریباً 200 ملین مسلمانوں، خاص طور پر بنگالی بولنے والے افراد میں خوف پیدا کر رہی ہے، جو بھارت کے مشرقی حصے اور بنگلہ دیش میں بڑے پیمانے پر بولی جانے والی زبان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویارک میں قائم غیر منافع بخش تنظیم ایچ آر ڈبلیو نے کہا کہ بھارت نے 7 مئی سے 15 جون کے درمیان 1,500 سے زیادہ مسلم مردوں، خواتین اور بچوں کو زبردستی بنگلہ دیش بھیج دیا، یہ اعداد و شمار بنگلہ دیشی حکام کے حوالے سے بیان کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیومن رائٹس واچ کی ایشیا ڈائریکٹر ایلین پیرسن نے کہا کہ بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بنگالی مسلمانوں کو بلا جواز ملک سے نکال کر، جن میں بھارتی شہری بھی شامل ہیں، امتیازی سلوک کو ہوا دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی حکومت غیر مجاز تارکین وطن کا پیچھا کرنے کے بہانے ہزاروں کمزور افراد کو خطرے میں ڈال رہی ہے، لیکن ان کے اقدامات مسلمانوں کے خلاف وسیع تر امتیازی پالیسیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیرسن نے مزید کہا کہ نئی دہلی کا اصرار ہے کہ نکالے گئے افراد غیر قانونی تارکین وطن ہیں۔ تاہم، حکام کا یہ مؤقف کہ یہ اقدامات غیر قانونی امیگریشن کو کنٹرول کرنے کے لیے کیے گئے ہیں، ناقابلِ یقین’’ ہیں، کیونکہ وہ قانونی تقاضوں، ملکی ضمانتوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کو نظر انداز کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت نے سیکڑوں  بنگالی زبان بولنے والے مسلمانوں کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے بنگلہ دیش میں دھکیل دیا ہے، انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے جمعرات کو الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت قوانین کو نظر انداز کر رہی ہے اور مذہبی بنیادوں پر تعصب کو ہوا دے رہی ہے۔</strong></p>
<p>وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت طویل عرصے سے امیگریشن، خاص طور پر مسلم اکثریتی ملک بنگلہ دیش سے آنے والے افراد کے خلاف سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے، اور اعلیٰ حکام اکثر انہیں دیمک اور درانداز قرار دیتے ہیں۔</p>
<p>ناقدین حکومت پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ بھارت کے تقریباً 200 ملین مسلمانوں، خاص طور پر بنگالی بولنے والے افراد میں خوف پیدا کر رہی ہے، جو بھارت کے مشرقی حصے اور بنگلہ دیش میں بڑے پیمانے پر بولی جانے والی زبان ہے۔</p>
<p>نیویارک میں قائم غیر منافع بخش تنظیم ایچ آر ڈبلیو نے کہا کہ بھارت نے 7 مئی سے 15 جون کے درمیان 1,500 سے زیادہ مسلم مردوں، خواتین اور بچوں کو زبردستی بنگلہ دیش بھیج دیا، یہ اعداد و شمار بنگلہ دیشی حکام کے حوالے سے بیان کیے گئے ہیں۔</p>
<p>ہیومن رائٹس واچ کی ایشیا ڈائریکٹر ایلین پیرسن نے کہا کہ بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بنگالی مسلمانوں کو بلا جواز ملک سے نکال کر، جن میں بھارتی شہری بھی شامل ہیں، امتیازی سلوک کو ہوا دے رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی حکومت غیر مجاز تارکین وطن کا پیچھا کرنے کے بہانے ہزاروں کمزور افراد کو خطرے میں ڈال رہی ہے، لیکن ان کے اقدامات مسلمانوں کے خلاف وسیع تر امتیازی پالیسیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
<p>پیرسن نے مزید کہا کہ نئی دہلی کا اصرار ہے کہ نکالے گئے افراد غیر قانونی تارکین وطن ہیں۔ تاہم، حکام کا یہ مؤقف کہ یہ اقدامات غیر قانونی امیگریشن کو کنٹرول کرنے کے لیے کیے گئے ہیں، ناقابلِ یقین’’ ہیں، کیونکہ وہ قانونی تقاضوں، ملکی ضمانتوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کو نظر انداز کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275077</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Jul 2025 11:13:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/2511104492a0271.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="682" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/2511104492a0271.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
