<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:25:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:25:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف بی آر بیک وقت جج، جیوری اور جلاد نہیں بن سکتا، کراچی چیمبر کی سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275067/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) نے جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو واضح طور پر بتایا کہ کاروباری برادری فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ٹیکس دہندگان کے لیے بیک وقت جج، جیوری اور جلاد کا کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس جمعرات کو مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں موجود بے ضابطگیوں پر غور کے لیے منعقد ہوا۔ کمیٹی میں بجٹ کی متعدد خامیوں پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جہاں مختلف چیمبرز آف کامرس کے اراکین نے ایف بی آر کو محض شک کی بنیاد پر گرفتاری کے اختیارات دینے والے شقوں پر خصوصی تشویش کا اظہار کیا اور انتباہ کیا کہ ایسے اختیارات کاروباری برادری کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو دی گئی بریفنگ میں کے سی سی آئی کے صدر محمد جاوید بلوانی نے کہا کہ ایف بی آر نے ان لینڈ ریونیو افسران کو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی شق 37A کے تحت ڈائریکٹرز، سی ای اوز، سی ایف اوز اور ٹیکس فراڈ میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کے اختیارات دے دیے ہیں۔ ہم ایف بی آر کو ٹیکس دہندگان کا جج، جیوری اور جلاد بننے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ یہ ایک جمہوری ملک ہے جہاں شہریوں کے حقوق عدلیہ کے ذریعے محفوظ ہیں۔ یہ اقدام بے مثال ہراسانی اور کرپشن کا باعث بنے گا، جس سے ٹیکس دہندگان اپنے کاروبار بند کر کے سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنے پر مجبور ہوں گے اور ایز آف ڈوئنگ بزنس انڈیکس تاریخ کی نچلی سطح پر آ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ٹیکس فراڈ کی تعریف انتہائی مبہم اور کھلی ہوئی ہے، اس کا اطلاق صرف جعلی یا فرضی انوائسز کے اجرا کے معاملات تک محدود کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے سی سی آئی کے صدر نے مزید کہا کہ نئی شق 14AE ایف بی آر کو ٹیکس دہندگان کو زبردستی سیلز ٹیکس رجسٹریشن پر مجبور کرنے کے خطرناک اختیارات دیتی ہے، جسے نرم کیا جائے۔ اس قانون کی زبان اتنی سخت ہے کہ یہ کسی بھی شخص کو سیلز ٹیکس فائلر کے طور پر رجسٹر ہونے سے روک سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ سیکشن 40C کے تحت ای-بِلٹی کو ختم کیا جائے تاکہ پاکستان کے اندر مال کی مقامی نقل و حمل اس ایکٹ سے مستثنیٰ ہو۔ ڈیجیٹل انوائسنگ کا نفاذ مرحلہ وار کیا جائے، پہلے کثیرالقومی اور بڑی پبلک لمیٹڈ کمپنیوں پر جن کا ٹرن اوور 10 ارب روپے سے زائد ہے، پھر درمیانے اور آخر میں چھوٹے ٹیکس دہندگان پراس کا نفاذ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ نظام مکمل طور پر مفت ہونا چاہیے کیونکہ اس وقت ایف بی آر سے منظور شدہ صرف ایک انٹیگریٹر مفت ہے جبکہ دیگر پر اخراجات آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) نے جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو واضح طور پر بتایا کہ کاروباری برادری فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ٹیکس دہندگان کے لیے بیک وقت جج، جیوری اور جلاد کا کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔</strong></p>
<p>سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس جمعرات کو مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں موجود بے ضابطگیوں پر غور کے لیے منعقد ہوا۔ کمیٹی میں بجٹ کی متعدد خامیوں پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جہاں مختلف چیمبرز آف کامرس کے اراکین نے ایف بی آر کو محض شک کی بنیاد پر گرفتاری کے اختیارات دینے والے شقوں پر خصوصی تشویش کا اظہار کیا اور انتباہ کیا کہ ایسے اختیارات کاروباری برادری کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>کمیٹی کو دی گئی بریفنگ میں کے سی سی آئی کے صدر محمد جاوید بلوانی نے کہا کہ ایف بی آر نے ان لینڈ ریونیو افسران کو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی شق 37A کے تحت ڈائریکٹرز، سی ای اوز، سی ایف اوز اور ٹیکس فراڈ میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کے اختیارات دے دیے ہیں۔ ہم ایف بی آر کو ٹیکس دہندگان کا جج، جیوری اور جلاد بننے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ یہ ایک جمہوری ملک ہے جہاں شہریوں کے حقوق عدلیہ کے ذریعے محفوظ ہیں۔ یہ اقدام بے مثال ہراسانی اور کرپشن کا باعث بنے گا، جس سے ٹیکس دہندگان اپنے کاروبار بند کر کے سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنے پر مجبور ہوں گے اور ایز آف ڈوئنگ بزنس انڈیکس تاریخ کی نچلی سطح پر آ جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ٹیکس فراڈ کی تعریف انتہائی مبہم اور کھلی ہوئی ہے، اس کا اطلاق صرف جعلی یا فرضی انوائسز کے اجرا کے معاملات تک محدود کیا جائے۔</p>
<p>کے سی سی آئی کے صدر نے مزید کہا کہ نئی شق 14AE ایف بی آر کو ٹیکس دہندگان کو زبردستی سیلز ٹیکس رجسٹریشن پر مجبور کرنے کے خطرناک اختیارات دیتی ہے، جسے نرم کیا جائے۔ اس قانون کی زبان اتنی سخت ہے کہ یہ کسی بھی شخص کو سیلز ٹیکس فائلر کے طور پر رجسٹر ہونے سے روک سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ سیکشن 40C کے تحت ای-بِلٹی کو ختم کیا جائے تاکہ پاکستان کے اندر مال کی مقامی نقل و حمل اس ایکٹ سے مستثنیٰ ہو۔ ڈیجیٹل انوائسنگ کا نفاذ مرحلہ وار کیا جائے، پہلے کثیرالقومی اور بڑی پبلک لمیٹڈ کمپنیوں پر جن کا ٹرن اوور 10 ارب روپے سے زائد ہے، پھر درمیانے اور آخر میں چھوٹے ٹیکس دہندگان پراس کا نفاذ کیا جائے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ یہ نظام مکمل طور پر مفت ہونا چاہیے کیونکہ اس وقت ایف بی آر سے منظور شدہ صرف ایک انٹیگریٹر مفت ہے جبکہ دیگر پر اخراجات آتے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275067</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Jul 2025 09:33:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/25093130ecb84b6.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/25093130ecb84b6.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
