<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 07:39:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 07:39:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکس فراڈ کی تعریف اور گرفتاری کے طریقۂ کار پر ترمیم نہیں ہوگی، وزیرِ مملکت خزانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275062/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے جمعرات کو کہا کہ حکومت فنانس ایکٹ 2025 میں ٹیکس فراڈ کی تعریف یا گرفتاری کے طریقۂ کار میں مزید ترمیم نہیں کرے گی، تاہم فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کاروباری برادری کے تمام تحفظات دور کرنے کے لیے سیلز ٹیکس پر وضاحتی سرکلر جاری کرے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلال اظہر کیانی نے جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا کہ وزیراعظم نے ایف بی آر کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ ٹیکس دہندگان، بالخصوص کاروباری اور تجارتی طبقے کو ہراساں نہ کیا جائے۔ وفاق اور چیمبرز کے ساتھ تفصیلی ملاقاتوں کے بعد حکومت نے ان مسائل کے حل کے لیے داخلی ہوم ورک شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں مخصوص تفصیلات شیئر نہیں کر سکتا کیونکہ ہم آئی ایم ایف پروگرام میں ہیں، تاہم کاروباری طبقے کے تمام تحفظات دور کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ٹیکس افسران قانون کا غلط استعمال نہ کریں، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اُن کے مطابق ٹیکس نادہندگان کی گرفتاری کا قانون کوئی نیا قانون نہیں ہے بلکہ اس حوالے سے غلط فہمی پائی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدور صورتحال سے آگاہ ہیں، اور مسائل کے حل کے لیے 30 دن میں کام مکمل کرنے کی غرض سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد جاوید بلوانی نے کمیٹی سے سیکشن 37A کی شق 9 ختم کرنے کی درخواست کی، جو ٹیکس چوری کی تحقیقات اور ملزم کی گرفتاری کا اختیار دیتی ہے۔ انہوں نے ’’شک‘‘ کی بنیاد پر ٹیکس دہندگان کی گرفتاری کو بھی چیلنج کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کمیٹی کے اراکین نے کہا کہ ٹیکس افسران کے اختیارات کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات رکھے گئے ہیں۔ ان کے مطابق ’’شک‘‘ کی صورت میں گرفتاری کے لیے ٹیکس فراڈ سے متعلق واضح معلومات ہونا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ مملکت نے کہا کہ ایف بی آر اور کاروباری برادری کے درمیان کسی حد تک غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ فنانس ایکٹ 2025 میں گرفتاری کے اختیارات کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مزید حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ پہلے گرفتاری کا اختیار ایڈیشنل کمشنرز کے پاس تھا، اب ایف بی آر کے سینیئر ممبران پر مشتمل کمیٹی گرفتاری کی منظوری دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلال اظہر کیانی نے کہا کہ کاروباری برادری کے ساتھ ہر ماہ ملاقات کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ قانون کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو (آپریشنز) ڈاکٹر حمید عتیق سرور نے کہا کہ فنانس ایکٹ 2025 کو اس کے نفاذ کے ابتدائی مرحلے میں ہی تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔ پارلیمان کے لیے یہ شرمندگی کا باعث ہو گا کہ نفاذ کے فوراً بعد سیلز ٹیکس قانون میں اچانک تبدیلی کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس قانون کا مقصد جعلی/فلائنگ انوائسز کے فراڈ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔ 25-2024 میں ایف بی آر نے جعلی انوائسز کے باعث 837 ارب روپے کے ریونیو نقصان کو روکا جبکہ 24-2023 میں 1,373 ارب روپے کا ٹیکس فراڈ روکا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ کاروباری طبقے کے تمام تحفظات سیلز ٹیکس سرکلر کے ذریعے دور کر دیے گئے ہیں اور واضح کیا جائے گا کہ کسی ٹیکس دہندہ کو ٹھوس ثبوت کے بغیر گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ ایف بی آر نے کاروباری طبقے کے مسائل حل کرنے کے لیے شکایات ازالہ کمیٹی بھی قائم کی ہے، اور اگر کوئی ٹیکس افسر کسی کے خلاف غلط کیس بنائے گا تو اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ ایف بی آر بدعنوان ٹیکس افسران کے خلاف کارروائی نہیں کرتا۔ ایف بی آر کی ویب سائٹ (ایڈمن وِنگ-ایچ آر ایم ایس) دیکھ لیں، سزا پانے والے افسران کے اعداد و شمار عوامی کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر ممبر نے کہا کہ فنانس ایکٹ 2025 کے ذریعے کاروباری طبقے کو کسی بھی طرح نشانہ نہیں بنایا گیا۔ اب ٹیکس فراڈ ثابت کرنے کی ذمہ داری ایف بی آر پر عائد ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ حکومت کا کاروباری طبقے کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اگر ایف بی آر کی وضاحت کاروباری طبقے کو قابلِ قبول ہے تو یہ قانون مالی سال 26-2025 کے لیے نافذ رہے گا اور فنانس ایکٹ 2025 میں ترمیم کی ضرورت نہیں ہو گی۔ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندے نے کہا کہ ہم گرفتاری کے قانون سے نہیں ڈرتے، ہمیں فیلڈ فارمیشنز میں ٹیکس افسران کی جانب سے بلیک میلنگ پر تحفظات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے جمعرات کو کہا کہ حکومت فنانس ایکٹ 2025 میں ٹیکس فراڈ کی تعریف یا گرفتاری کے طریقۂ کار میں مزید ترمیم نہیں کرے گی، تاہم فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کاروباری برادری کے تمام تحفظات دور کرنے کے لیے سیلز ٹیکس پر وضاحتی سرکلر جاری کرے گا۔</strong></p>
<p>بلال اظہر کیانی نے جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا کہ وزیراعظم نے ایف بی آر کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ ٹیکس دہندگان، بالخصوص کاروباری اور تجارتی طبقے کو ہراساں نہ کیا جائے۔ وفاق اور چیمبرز کے ساتھ تفصیلی ملاقاتوں کے بعد حکومت نے ان مسائل کے حل کے لیے داخلی ہوم ورک شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں مخصوص تفصیلات شیئر نہیں کر سکتا کیونکہ ہم آئی ایم ایف پروگرام میں ہیں، تاہم کاروباری طبقے کے تمام تحفظات دور کیے جائیں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ٹیکس افسران قانون کا غلط استعمال نہ کریں، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اُن کے مطابق ٹیکس نادہندگان کی گرفتاری کا قانون کوئی نیا قانون نہیں ہے بلکہ اس حوالے سے غلط فہمی پائی جاتی ہے۔</p>
<p>چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدور صورتحال سے آگاہ ہیں، اور مسائل کے حل کے لیے 30 دن میں کام مکمل کرنے کی غرض سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد جاوید بلوانی نے کمیٹی سے سیکشن 37A کی شق 9 ختم کرنے کی درخواست کی، جو ٹیکس چوری کی تحقیقات اور ملزم کی گرفتاری کا اختیار دیتی ہے۔ انہوں نے ’’شک‘‘ کی بنیاد پر ٹیکس دہندگان کی گرفتاری کو بھی چیلنج کیا۔</p>
<p>تاہم کمیٹی کے اراکین نے کہا کہ ٹیکس افسران کے اختیارات کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات رکھے گئے ہیں۔ ان کے مطابق ’’شک‘‘ کی صورت میں گرفتاری کے لیے ٹیکس فراڈ سے متعلق واضح معلومات ہونا ضروری ہے۔</p>
<p>وزیرِ مملکت نے کہا کہ ایف بی آر اور کاروباری برادری کے درمیان کسی حد تک غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ فنانس ایکٹ 2025 میں گرفتاری کے اختیارات کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مزید حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ پہلے گرفتاری کا اختیار ایڈیشنل کمشنرز کے پاس تھا، اب ایف بی آر کے سینیئر ممبران پر مشتمل کمیٹی گرفتاری کی منظوری دے گی۔</p>
<p>بلال اظہر کیانی نے کہا کہ کاروباری برادری کے ساتھ ہر ماہ ملاقات کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ قانون کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔</p>
<p>ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو (آپریشنز) ڈاکٹر حمید عتیق سرور نے کہا کہ فنانس ایکٹ 2025 کو اس کے نفاذ کے ابتدائی مرحلے میں ہی تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔ پارلیمان کے لیے یہ شرمندگی کا باعث ہو گا کہ نفاذ کے فوراً بعد سیلز ٹیکس قانون میں اچانک تبدیلی کی جائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس قانون کا مقصد جعلی/فلائنگ انوائسز کے فراڈ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔ 25-2024 میں ایف بی آر نے جعلی انوائسز کے باعث 837 ارب روپے کے ریونیو نقصان کو روکا جبکہ 24-2023 میں 1,373 ارب روپے کا ٹیکس فراڈ روکا گیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ کاروباری طبقے کے تمام تحفظات سیلز ٹیکس سرکلر کے ذریعے دور کر دیے گئے ہیں اور واضح کیا جائے گا کہ کسی ٹیکس دہندہ کو ٹھوس ثبوت کے بغیر گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ ایف بی آر نے کاروباری طبقے کے مسائل حل کرنے کے لیے شکایات ازالہ کمیٹی بھی قائم کی ہے، اور اگر کوئی ٹیکس افسر کسی کے خلاف غلط کیس بنائے گا تو اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔</p>
<p>انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ ایف بی آر بدعنوان ٹیکس افسران کے خلاف کارروائی نہیں کرتا۔ ایف بی آر کی ویب سائٹ (ایڈمن وِنگ-ایچ آر ایم ایس) دیکھ لیں، سزا پانے والے افسران کے اعداد و شمار عوامی کر دیے گئے ہیں۔</p>
<p>ایف بی آر ممبر نے کہا کہ فنانس ایکٹ 2025 کے ذریعے کاروباری طبقے کو کسی بھی طرح نشانہ نہیں بنایا گیا۔ اب ٹیکس فراڈ ثابت کرنے کی ذمہ داری ایف بی آر پر عائد ہو گی۔</p>
<p>فنانس کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ حکومت کا کاروباری طبقے کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اگر ایف بی آر کی وضاحت کاروباری طبقے کو قابلِ قبول ہے تو یہ قانون مالی سال 26-2025 کے لیے نافذ رہے گا اور فنانس ایکٹ 2025 میں ترمیم کی ضرورت نہیں ہو گی۔ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندے نے کہا کہ ہم گرفتاری کے قانون سے نہیں ڈرتے، ہمیں فیلڈ فارمیشنز میں ٹیکس افسران کی جانب سے بلیک میلنگ پر تحفظات ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275062</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Jul 2025 08:54:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/25085322a02685f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/25085322a02685f.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
