<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 04:50:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 04:50:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی وارننگ کے باوجود بھارتی کمپنی نے روس کو دھماکہ خیز مواد برآمد کیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275059/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک بھارتی کمپنی نے دسمبر میں روس کو 14 لاکھ ڈالر مالیت کا ایسا دھماکہ خیز کیمیائی مرکب برآمد کیا جو عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، حالانکہ امریکہ نے روس کی یوکرین جنگ میں مدد کرنے والے کسی بھی فریق پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دے رکھی تھی۔ یہ انکشاف خبر رساں ادارے روئٹرز نے بھارتی کسٹمز کا ریکارڈ دیکھنے کی بنیاد پر کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی کسٹمز ریکارڈ کے مطابق جس دھماکہ خیز مرکب، ایچ ایم ایکس یا آکٹوجن، کو دسمبر میں روس بھیجا گیا، اس کے وصول کنندگان میں روسی کمپنی پروم سنٹیز بھی شامل ہے، جو ایک معروف دھماکہ خیز مواد بنانے والی فیکٹری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین کی سیکورٹی سروس (ایس بی یو) کے ایک اہلکار کے مطابق اس کمپنی کے روسی فوج سے قریبی روابط ہیں اور اپریل میں یوکرین نے اس کی ایک فیکٹری پر ڈرون حملہ بھی کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی پینٹاگون کے ڈیفنس ٹیکنیکل انفارمیشن سینٹر اور متعلقہ تحقیقی اداروں کے مطابق ایچ ایم ایکس ایک انتہائی طاقتور دھماکہ خیز مادہ ہے جو میزائل اور ٹارپیڈو وار ہیڈز، راکٹ موٹرز، دھماکہ خیز گولہ بارود اور جدید فوجی نظاموں میں استعمال ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکومت نے ایچ ایم ایکس کو روس کی جنگی صلاحیت کے لیے ”انتہائی اہم“ قرار دیا ہے، اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس مادے کی ماسکو کو فروخت میں کسی بھی قسم کی مالی معاونت سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس کوایچ ایم ایکس کی فروخت سے متعلق یہ انکشاف پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسی دفاعی صنعت، خاص طور پر 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد سے، مسلسل اور پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہے تاکہ صدر ولادیمیر پیوٹن کی جنگی مہم کو جاری رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر بھارت، جو حالیہ برسوں میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے میں امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کر رہا ہے، اس کے باوجود روس کے ساتھ اپنے دیرینہ فوجی و اقتصادی روابط کو ترک نہیں کر سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت اور روس کے درمیان تجارت، خاص طور پر روسی تیل کی خریداری، مغربی پابندیوں کے باوجود مستحکم رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی ماہ کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر کسی ملک نے روسی خام تیل کی خریداری جاری رکھی تو اس پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی پابندیوں کے تین ماہر وکلاء کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایچ ایم ایکس یا اس جیسے دیگر دھماکہ خیز مواد روس کو فروخت کرنے والوں پر پابندیاں عائد کر سکے۔
ایچ ایم ایکس ایک ”ہائی ایکسپلوسیو“ (انتہائی دھماکہ خیز) مادہ ہے، جو انتہائی تیز رفتاری سے پھٹتا ہے اور زیادہ سے زیادہ تباہی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روئٹرز کو ایسی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی جس سے ظاہر ہو کہ یہ ترسیلات بھارتی حکومت کی پالیسی کی خلاف ورزی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بھارتی سرکاری اہلکار، جو ان ترسیلات سے واقف ہے، کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس مرکب کا بنیادی استعمال عسکری نوعیت کا ہے، لیکن اس کے بعض محدود سول استعمالات بھی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”بھارت دہرے استعمال کی اشیاء کی برآمدات بین الاقوامی عدم پھیلاؤ (نان پرولیفریشن) کے اصولوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے کرتا ہے اور ہمارے پاس اس حوالے سے ایک مضبوط قانونی و ضابطہ جاتی نظام موجود ہے، جو ایسی برآمدات کے تمام متعلقہ پہلوؤں کا جامع جائزہ لیتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خارجہ نے اگرچہ روئٹرز کی نشاندہی کردہ مخصوص ترسیلات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم اس کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھارت کو بارہا خبردار کیا ہے کہ عسکری نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث کمپنیوں کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کا کہنا تھا کہ ”بھارت ہمارا ایک اسٹریٹجک شراکت دار ہے، اور ہم اس کے ساتھ کھلے اور دیانتدارانہ مکالمے میں مصروف رہتے ہیں، جن میں بھارت اور روس کے باہمی تعلقات بھی شامل ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”ہم نے تمام شراکت داروں، بشمول بھارت، کو بار بار یہ واضح کیا ہے کہ کوئی بھی غیر ملکی کمپنی یا مالیاتی ادارہ جو روس کے دفاعی صنعتی ڈھانچے سے وابستہ ہو، اسے امریکی پابندیوں کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس کی وزارت دفاع نے اس معاملے پر ردعمل دینے سے انکار کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے اعلیٰ مشیر برائے پابندیاں، ولادیسلاو وِلاسُیوک نے روئٹرز کو بتایا کہ ”اگرچہ بھارت عام طور پر ان ممالک میں شامل نہیں جو پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، لیکن ہم جانتے ہیں کہ انفرادی واقعات پیش آ سکتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا ہے کہ ”ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ روسی کمپنی پروم سنٹیز ماضی میں ہماری نظر میں آئی ہے، بشمول بھارت سے متعلق بعض تعاون کے معاملات میں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;واشنگٹن کی نئی دہلی کو قریب لانے کی کوششیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روئٹرز کی تحقیقات کے مطابق بھارتی کمپنی آئیڈیل ڈیٹونیٹرز پرائیویٹ لمیٹڈ نے دسمبر میں ایچ ایم ایکس کے دو شپمنٹس روس روانہ کیے، جو بھارتی کسٹمز ڈیٹا کے مطابق سینٹ پیٹرزبرگ میں اتارے گئے۔ ایک بھارتی سرکاری اہلکار، جو ان ترسیلات سے براہِ راست واقف ہے، نے ان کی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق پہلی شپمنٹ، جس کی مالیت 4 لاکھ 5 ہزار 200 ڈالر تھی، روسی کمپنی ہائی ٹیکنالوجی انیشی ایشن سسٹم نے خریدا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری شپمنٹ، جس کی مالیت 10 لاکھ ڈالر سے زائد تھی، پروم سنٹیز  کو بھیجا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں کمپنیاں روس کے جنوبی علاقے سامارا اوبلاست میں واقع ہیں، جو قازقستان کی سرحد کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تلنگانہ میں قائم کمپنی آئیڈیل ڈیٹونیٹرز پرائیویٹ لمیٹڈ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جبکہ پروم سنٹیز اور ہائی ٹیکنالوجی انیشی ایشن سسٹم نے بھی رابطے کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو امریکی حکام کے مطابق جو سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ میں پابندیوں سے متعلق امور پر کام کرتے رہے، چند بھارتی اداروں پر روس کی جنگی کوششوں میں مدد کے الزام میں پابندیاں عائد کی گئیں،تاہم جیوپولیٹیکل مصلحتوں کے تحت ان پابندیوں کا اطلاق محدود رکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں روس سے متعلق پابندیوں کا عمل تقریباً رک چکا ہے، یہ واضح نہیں کہ امریکہ بھارتی کمپنیوں کے خلاف مزید کوئی کارروائی کرے گا یا نہیں، جو روسی دفاعی صنعت سے تجارتی تعلقات رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ طویل عرصے سے بھارت کو چین سے دور کرنے کے لیے اس کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسن پرنس، جو واشنگٹن کی لاء فرم Akin کے شراکت دار ہیں، کے مطابق“امریکی حکومت عموماً اپنے اتحادیوں سے تحفظات کا اظہار نجی سطح پر کرتی ہے اور صرف آخری حربے کے طور پر تادیبی اقدامات اختیار کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک بھارتی کمپنی نے دسمبر میں روس کو 14 لاکھ ڈالر مالیت کا ایسا دھماکہ خیز کیمیائی مرکب برآمد کیا جو عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، حالانکہ امریکہ نے روس کی یوکرین جنگ میں مدد کرنے والے کسی بھی فریق پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دے رکھی تھی۔ یہ انکشاف خبر رساں ادارے روئٹرز نے بھارتی کسٹمز کا ریکارڈ دیکھنے کی بنیاد پر کیا ہے۔</strong></p>
<p>بھارتی کسٹمز ریکارڈ کے مطابق جس دھماکہ خیز مرکب، ایچ ایم ایکس یا آکٹوجن، کو دسمبر میں روس بھیجا گیا، اس کے وصول کنندگان میں روسی کمپنی پروم سنٹیز بھی شامل ہے، جو ایک معروف دھماکہ خیز مواد بنانے والی فیکٹری ہے۔</p>
<p>یوکرین کی سیکورٹی سروس (ایس بی یو) کے ایک اہلکار کے مطابق اس کمپنی کے روسی فوج سے قریبی روابط ہیں اور اپریل میں یوکرین نے اس کی ایک فیکٹری پر ڈرون حملہ بھی کیا تھا۔</p>
<p>امریکی پینٹاگون کے ڈیفنس ٹیکنیکل انفارمیشن سینٹر اور متعلقہ تحقیقی اداروں کے مطابق ایچ ایم ایکس ایک انتہائی طاقتور دھماکہ خیز مادہ ہے جو میزائل اور ٹارپیڈو وار ہیڈز، راکٹ موٹرز، دھماکہ خیز گولہ بارود اور جدید فوجی نظاموں میں استعمال ہوتا ہے۔</p>
<p>امریکی حکومت نے ایچ ایم ایکس کو روس کی جنگی صلاحیت کے لیے ”انتہائی اہم“ قرار دیا ہے، اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس مادے کی ماسکو کو فروخت میں کسی بھی قسم کی مالی معاونت سے گریز کریں۔</p>
<p>روس کوایچ ایم ایکس کی فروخت سے متعلق یہ انکشاف پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے۔</p>
<p>روسی دفاعی صنعت، خاص طور پر 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد سے، مسلسل اور پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہے تاکہ صدر ولادیمیر پیوٹن کی جنگی مہم کو جاری رکھا جا سکے۔</p>
<p>ادھر بھارت، جو حالیہ برسوں میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے میں امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کر رہا ہے، اس کے باوجود روس کے ساتھ اپنے دیرینہ فوجی و اقتصادی روابط کو ترک نہیں کر سکا۔</p>
<p>بھارت اور روس کے درمیان تجارت، خاص طور پر روسی تیل کی خریداری، مغربی پابندیوں کے باوجود مستحکم رہی ہے۔</p>
<p>اسی ماہ کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر کسی ملک نے روسی خام تیل کی خریداری جاری رکھی تو اس پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔</p>
<p>بین الاقوامی پابندیوں کے تین ماہر وکلاء کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایچ ایم ایکس یا اس جیسے دیگر دھماکہ خیز مواد روس کو فروخت کرنے والوں پر پابندیاں عائد کر سکے۔
ایچ ایم ایکس ایک ”ہائی ایکسپلوسیو“ (انتہائی دھماکہ خیز) مادہ ہے، جو انتہائی تیز رفتاری سے پھٹتا ہے اور زیادہ سے زیادہ تباہی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔</p>
<p>روئٹرز کو ایسی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی جس سے ظاہر ہو کہ یہ ترسیلات بھارتی حکومت کی پالیسی کی خلاف ورزی تھیں۔</p>
<p>ایک بھارتی سرکاری اہلکار، جو ان ترسیلات سے واقف ہے، کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس مرکب کا بنیادی استعمال عسکری نوعیت کا ہے، لیکن اس کے بعض محدود سول استعمالات بھی موجود ہیں۔</p>
<p>بھارت کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”بھارت دہرے استعمال کی اشیاء کی برآمدات بین الاقوامی عدم پھیلاؤ (نان پرولیفریشن) کے اصولوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے کرتا ہے اور ہمارے پاس اس حوالے سے ایک مضبوط قانونی و ضابطہ جاتی نظام موجود ہے، جو ایسی برآمدات کے تمام متعلقہ پہلوؤں کا جامع جائزہ لیتا ہے۔“</p>
<p>امریکی محکمہ خارجہ نے اگرچہ روئٹرز کی نشاندہی کردہ مخصوص ترسیلات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم اس کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھارت کو بارہا خبردار کیا ہے کہ عسکری نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث کمپنیوں کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>ترجمان کا کہنا تھا کہ ”بھارت ہمارا ایک اسٹریٹجک شراکت دار ہے، اور ہم اس کے ساتھ کھلے اور دیانتدارانہ مکالمے میں مصروف رہتے ہیں، جن میں بھارت اور روس کے باہمی تعلقات بھی شامل ہیں۔“</p>
<p>”ہم نے تمام شراکت داروں، بشمول بھارت، کو بار بار یہ واضح کیا ہے کہ کوئی بھی غیر ملکی کمپنی یا مالیاتی ادارہ جو روس کے دفاعی صنعتی ڈھانچے سے وابستہ ہو، اسے امریکی پابندیوں کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔“</p>
<p>روس کی وزارت دفاع نے اس معاملے پر ردعمل دینے سے انکار کر دیا۔</p>
<p>یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے اعلیٰ مشیر برائے پابندیاں، ولادیسلاو وِلاسُیوک نے روئٹرز کو بتایا کہ ”اگرچہ بھارت عام طور پر ان ممالک میں شامل نہیں جو پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، لیکن ہم جانتے ہیں کہ انفرادی واقعات پیش آ سکتے ہیں۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا ہے کہ ”ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ روسی کمپنی پروم سنٹیز ماضی میں ہماری نظر میں آئی ہے، بشمول بھارت سے متعلق بعض تعاون کے معاملات میں۔“</p>
<p><strong>واشنگٹن کی نئی دہلی کو قریب لانے کی کوششیں</strong></p>
<p>روئٹرز کی تحقیقات کے مطابق بھارتی کمپنی آئیڈیل ڈیٹونیٹرز پرائیویٹ لمیٹڈ نے دسمبر میں ایچ ایم ایکس کے دو شپمنٹس روس روانہ کیے، جو بھارتی کسٹمز ڈیٹا کے مطابق سینٹ پیٹرزبرگ میں اتارے گئے۔ ایک بھارتی سرکاری اہلکار، جو ان ترسیلات سے براہِ راست واقف ہے، نے ان کی تصدیق کی ہے۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق پہلی شپمنٹ، جس کی مالیت 4 لاکھ 5 ہزار 200 ڈالر تھی، روسی کمپنی ہائی ٹیکنالوجی انیشی ایشن سسٹم نے خریدا۔</p>
<p>دوسری شپمنٹ، جس کی مالیت 10 لاکھ ڈالر سے زائد تھی، پروم سنٹیز  کو بھیجا گیا۔</p>
<p>دونوں کمپنیاں روس کے جنوبی علاقے سامارا اوبلاست میں واقع ہیں، جو قازقستان کی سرحد کے قریب ہے۔</p>
<p>تلنگانہ میں قائم کمپنی آئیڈیل ڈیٹونیٹرز پرائیویٹ لمیٹڈ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جبکہ پروم سنٹیز اور ہائی ٹیکنالوجی انیشی ایشن سسٹم نے بھی رابطے کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا۔</p>
<p>دو امریکی حکام کے مطابق جو سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ میں پابندیوں سے متعلق امور پر کام کرتے رہے، چند بھارتی اداروں پر روس کی جنگی کوششوں میں مدد کے الزام میں پابندیاں عائد کی گئیں،تاہم جیوپولیٹیکل مصلحتوں کے تحت ان پابندیوں کا اطلاق محدود رکھا گیا۔</p>
<p>اب جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں روس سے متعلق پابندیوں کا عمل تقریباً رک چکا ہے، یہ واضح نہیں کہ امریکہ بھارتی کمپنیوں کے خلاف مزید کوئی کارروائی کرے گا یا نہیں، جو روسی دفاعی صنعت سے تجارتی تعلقات رکھتی ہیں۔</p>
<p>امریکہ طویل عرصے سے بھارت کو چین سے دور کرنے کے لیے اس کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔</p>
<p>جیسن پرنس، جو واشنگٹن کی لاء فرم Akin کے شراکت دار ہیں، کے مطابق“امریکی حکومت عموماً اپنے اتحادیوں سے تحفظات کا اظہار نجی سطح پر کرتی ہے اور صرف آخری حربے کے طور پر تادیبی اقدامات اختیار کیے جاتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275059</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Jul 2025 22:56:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/24221549d8b1ac6.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/24221549d8b1ac6.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
