<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:59:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:59:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی خونریز سرحدی جھڑپ، طیاروں اور راکٹوں کا استعمال</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275052/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جمعرات کے روز گزشتہ ایک دہائی کی سب سے خونریز فوجی جھڑپ ہوئی، جس میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے۔ دونوں ممالک نے متنازع سرحدی علاقے میں شدید لڑائی کے دوران  ٹینکوں، توپ خانے اور زمینی افواج کا استعمال کیا جس سے خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جمعرات کو ہونے والی شدید جھڑپیں ایک طویل عرصے سے جاری سرحدی تنازع میں غیرمعمولی شدت کی علامت ہیں۔ یہ جھڑپیں اُس متنازعہ علاقے میں ہوئیں جسے ”ایمرلڈ ٹرائینگل“ کے نام سے جانا جاتا ہے — جہاں تھائی لینڈ، کمبوڈیا اور لاؤس کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دہائیوں پرانا تنازع 15 سال قبل خونریز جھڑپوں کی صورت اختیار کر چکا تھا، اور رواں سال مئی میں بھی اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب ایک کمبوڈین فوجی فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کی لڑائی میں کمبوڈیا نے تھائی لینڈ کی حدود میں راکٹ اور توپ خانے سے گولہ باری کی، جس کے جواب میں تھائی فوج نے ایف-16 لڑاکا طیارے روانہ کیے اور فضائی حملے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھائی لینڈ کی وزارتِ صحت کے مطابق جھڑپوں میں ایک فوجی اور کم از کم 11 شہری ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت اُن افراد کی تھی جو سیساکیت صوبے میں ایک پٹرول پمپ کے قریب راکٹ حملے کی زد میں آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کی منظرعام پر آنے والی ویڈیو میں دیکھا گیا ہے کہ پٹرول اسٹیشن کے ساتھ واقع کنوینینس اسٹور سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ مقامی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد زیادہ تر وہ طلبہ تھے جو حملے کے وقت اسٹور کے اندر موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;53 سالہ مالی، پرافاس انتراچیون، جو سساکیت صوبے کا رہائشی ہے، نے اے ایف پی کو بتایا کہ ”میں نے تین یا چار بار بہت زور دار آواز سنی، اور جب میں نے پلٹ کر دیکھا تو ایک بہت بڑا دھوئیں کا بادل نظر آیا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرافاس اُس وقت قریبی ایک اور پٹرول پمپ پر ایندھن بھروا رہا تھا، جو حملے کا نشانہ بننے والے مقام سے تقریباً 300 میٹر (984 فٹ) کے فاصلے پر واقع تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جس میں اب تک 12 افراد ہلاک اور کم از کم 35 شہری زخمی ہو چکے ہیں۔ لڑائی جمعرات کو اس وقت شدت اختیار کر گئی جب دونوں جانب سے ٹینک، زمینی افواج اور لڑاکا طیارے متنازع علاقے میں ایک دوسرے پر حملہ آور ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی پرافاس انتراچیون، جو حملے کے وقت قریبی پیٹرول پمپ پر موجود تھا، نے بتایا کہ “میں مکمل طور پر ہکا بکا رہ گیا۔ زندگی میں پہلی بار اس قسم کا کچھ دیکھا۔ مجھے خوف ہے کہ رات کے اندھیرے میں یہ سب مزید بگڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سونے کی ہمت بھی جاتی رہی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھائی وزارتِ صحت کے مطابق زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں اور راکٹ حملے خاص طور پر سیساکیت اور سورن صوبوں میں کیے گئے، جہاں ایک پیٹرول اسٹیشن کے قریب راکٹ حملے میں متعدد افراد مارے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھائی فوج کے مطابق لڑائی چھ مختلف مقامات پر ہوتی رہی، جہاں کمبوڈین فورسز سے زمینی اور فضائی لڑائی جاری رہی۔ چھ تھائی ایئر فورس کے ایف-16 طیارے کارروائی کے لیے روانہ کیے گئے، جنہوں نے کمبوڈیا میں دو ”فوجی اہداف“ کو نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کمبوڈیا کی وزارتِ دفاع نے تاحال اپنے جانی نقصانات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ وزارت کی ترجمان مالی سوچیتا نے پریس کانفرنس میں اس حوالے سے سوالات کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک نے لڑائی شروع کرنے کا الزام ایک دوسرے پر عائد کیا ہے، جو دو سرحدی مندروں کے قریب پھوٹی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمبوڈین وزارتِ دفاع نے کہا کہ انہوں نے ایک ”مسلح حملے“ کے جواب میں اپنے دفاع میں کارروائی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم ہُن مانیت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی، اور کمبوڈین وزارتِ خارجہ نے اس جھڑپ کو ”بلا جواز فوجی جارحیت“ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر تھائی حکومت نے کمبوڈیا کو ”غیر انسانی، ظالم اور جنگ کے بھوکے“ ملک کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تمام سرحدی راستے بند کر دیے گئے ہیں اور قریبی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھائی فوج کا کہنا ہے کہ لڑائی کا آغاز کمبوڈین فورسز کی جانب سے فائرنگ سے ہوا، اور بعد میں کمبوڈیا پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا گیا۔ فوجی حکام کے مطابق، دو BM-21 راکٹ سورن صوبے میں ایک رہائشی علاقے پر گرے، جس میں تین افراد زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھائی لینڈ کے دارالحکومت نوم پنہ میں واقع سفارتخانے نے تھائی شہریوں سے فوری طور پر کمبوڈیا چھوڑنے کی اپیل کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین، جو کمبوڈیا کا قریبی اتحادی ہے، نے ان جھڑپوں پر ”شدید تشویش“ کا اظہار کیا ہے اور دونوں ممالک سے مذاکرات کی اپیل کی ہے جبکہ اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تھائی سرحد کے قریب جانے سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;طویل عرصے سے جاری تنازع&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تشدد کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب تھائی لینڈ نے پانچ فوجی اہلکاروں کے زمینی بارودی سرنگ سے زخمی ہونے کے بعد کمبوڈیا کے سفیر کو ملک بدر کر دیا اور اپنے سفیر کو بھی واپس بلا لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوابی اقدام میں کمبوڈیا نے جمعرات کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کو ”نچلی ترین سطح“ تک محدود کر دیا، تقریباً تمام تھائی سفارتکاروں کو نوم پنہ سے نکال دیا اور اپنے بیشتر سفارتکاروں کو بھی واپس بلا لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سرحدی تنازع اب تھائی لینڈ کے اندر سیاسی بحران میں بھی بدل گیا ہے، جہاں وزیرِ اعظم پائی تونگتارن شیناواترا کو ایک اخلاقی ضابطۂ اخلاق کی تحقیقات کے دوران عہدے سے معطل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کشیدگی اس وقت بڑھی جب تھائی وزیرِ اعظم اور کمبوڈیا کے سابق طویل عرصے تک حکمران اور موجودہ وزیرِ اعظم ہُن مانیت کے والد، ہن سین کے درمیان ہونے والی ایک خفیہ سفارتی گفتگو کمبوڈین ذرائع سے لیک ہو گئی، جس پر عدالتی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے دونوں فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر کشیدگی کم کریں اور مذاکرات کا آغاز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ اس وقت ملائیشیا آسیان (اے ایس ای اے این) کی سربراہی کر رہا ہے، جس کا دونوں ممالک (تھائی لینڈ اور کمبوڈیا) رکن ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جمعرات کے روز گزشتہ ایک دہائی کی سب سے خونریز فوجی جھڑپ ہوئی، جس میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے۔ دونوں ممالک نے متنازع سرحدی علاقے میں شدید لڑائی کے دوران  ٹینکوں، توپ خانے اور زمینی افواج کا استعمال کیا جس سے خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔</strong></p>
<p>تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جمعرات کو ہونے والی شدید جھڑپیں ایک طویل عرصے سے جاری سرحدی تنازع میں غیرمعمولی شدت کی علامت ہیں۔ یہ جھڑپیں اُس متنازعہ علاقے میں ہوئیں جسے ”ایمرلڈ ٹرائینگل“ کے نام سے جانا جاتا ہے — جہاں تھائی لینڈ، کمبوڈیا اور لاؤس کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔</p>
<p>یہ دہائیوں پرانا تنازع 15 سال قبل خونریز جھڑپوں کی صورت اختیار کر چکا تھا، اور رواں سال مئی میں بھی اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب ایک کمبوڈین فوجی فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا تھا۔</p>
<p>جمعرات کی لڑائی میں کمبوڈیا نے تھائی لینڈ کی حدود میں راکٹ اور توپ خانے سے گولہ باری کی، جس کے جواب میں تھائی فوج نے ایف-16 لڑاکا طیارے روانہ کیے اور فضائی حملے کیے۔</p>
<p>تھائی لینڈ کی وزارتِ صحت کے مطابق جھڑپوں میں ایک فوجی اور کم از کم 11 شہری ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت اُن افراد کی تھی جو سیساکیت صوبے میں ایک پٹرول پمپ کے قریب راکٹ حملے کی زد میں آئے۔</p>
<p>واقعے کی منظرعام پر آنے والی ویڈیو میں دیکھا گیا ہے کہ پٹرول اسٹیشن کے ساتھ واقع کنوینینس اسٹور سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ مقامی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد زیادہ تر وہ طلبہ تھے جو حملے کے وقت اسٹور کے اندر موجود تھے۔</p>
<p>53 سالہ مالی، پرافاس انتراچیون، جو سساکیت صوبے کا رہائشی ہے، نے اے ایف پی کو بتایا کہ ”میں نے تین یا چار بار بہت زور دار آواز سنی، اور جب میں نے پلٹ کر دیکھا تو ایک بہت بڑا دھوئیں کا بادل نظر آیا۔“</p>
<p>پرافاس اُس وقت قریبی ایک اور پٹرول پمپ پر ایندھن بھروا رہا تھا، جو حملے کا نشانہ بننے والے مقام سے تقریباً 300 میٹر (984 فٹ) کے فاصلے پر واقع تھا۔</p>
<p>تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جس میں اب تک 12 افراد ہلاک اور کم از کم 35 شہری زخمی ہو چکے ہیں۔ لڑائی جمعرات کو اس وقت شدت اختیار کر گئی جب دونوں جانب سے ٹینک، زمینی افواج اور لڑاکا طیارے متنازع علاقے میں ایک دوسرے پر حملہ آور ہوئے۔</p>
<p>مالی پرافاس انتراچیون، جو حملے کے وقت قریبی پیٹرول پمپ پر موجود تھا، نے بتایا کہ “میں مکمل طور پر ہکا بکا رہ گیا۔ زندگی میں پہلی بار اس قسم کا کچھ دیکھا۔ مجھے خوف ہے کہ رات کے اندھیرے میں یہ سب مزید بگڑ سکتا ہے۔</p>
<p><strong>سونے کی ہمت بھی جاتی رہی</strong></p>
<p>تھائی وزارتِ صحت کے مطابق زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں اور راکٹ حملے خاص طور پر سیساکیت اور سورن صوبوں میں کیے گئے، جہاں ایک پیٹرول اسٹیشن کے قریب راکٹ حملے میں متعدد افراد مارے گئے ہیں۔</p>
<p>تھائی فوج کے مطابق لڑائی چھ مختلف مقامات پر ہوتی رہی، جہاں کمبوڈین فورسز سے زمینی اور فضائی لڑائی جاری رہی۔ چھ تھائی ایئر فورس کے ایف-16 طیارے کارروائی کے لیے روانہ کیے گئے، جنہوں نے کمبوڈیا میں دو ”فوجی اہداف“ کو نشانہ بنایا۔</p>
<p>دوسری جانب کمبوڈیا کی وزارتِ دفاع نے تاحال اپنے جانی نقصانات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ وزارت کی ترجمان مالی سوچیتا نے پریس کانفرنس میں اس حوالے سے سوالات کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔</p>
<p>دونوں ممالک نے لڑائی شروع کرنے کا الزام ایک دوسرے پر عائد کیا ہے، جو دو سرحدی مندروں کے قریب پھوٹی۔</p>
<p>کمبوڈین وزارتِ دفاع نے کہا کہ انہوں نے ایک ”مسلح حملے“ کے جواب میں اپنے دفاع میں کارروائی کی۔</p>
<p>وزیراعظم ہُن مانیت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی، اور کمبوڈین وزارتِ خارجہ نے اس جھڑپ کو ”بلا جواز فوجی جارحیت“ قرار دیا۔</p>
<p>ادھر تھائی حکومت نے کمبوڈیا کو ”غیر انسانی، ظالم اور جنگ کے بھوکے“ ملک کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تمام سرحدی راستے بند کر دیے گئے ہیں اور قریبی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>تھائی فوج کا کہنا ہے کہ لڑائی کا آغاز کمبوڈین فورسز کی جانب سے فائرنگ سے ہوا، اور بعد میں کمبوڈیا پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا گیا۔ فوجی حکام کے مطابق، دو BM-21 راکٹ سورن صوبے میں ایک رہائشی علاقے پر گرے، جس میں تین افراد زخمی ہوئے۔</p>
<p>تھائی لینڈ کے دارالحکومت نوم پنہ میں واقع سفارتخانے نے تھائی شہریوں سے فوری طور پر کمبوڈیا چھوڑنے کی اپیل کی ہے۔</p>
<p>چین، جو کمبوڈیا کا قریبی اتحادی ہے، نے ان جھڑپوں پر ”شدید تشویش“ کا اظہار کیا ہے اور دونوں ممالک سے مذاکرات کی اپیل کی ہے جبکہ اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تھائی سرحد کے قریب جانے سے گریز کریں۔</p>
<p><strong>طویل عرصے سے جاری تنازع</strong></p>
<p>تشدد کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب تھائی لینڈ نے پانچ فوجی اہلکاروں کے زمینی بارودی سرنگ سے زخمی ہونے کے بعد کمبوڈیا کے سفیر کو ملک بدر کر دیا اور اپنے سفیر کو بھی واپس بلا لیا۔</p>
<p>جوابی اقدام میں کمبوڈیا نے جمعرات کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کو ”نچلی ترین سطح“ تک محدود کر دیا، تقریباً تمام تھائی سفارتکاروں کو نوم پنہ سے نکال دیا اور اپنے بیشتر سفارتکاروں کو بھی واپس بلا لیا۔</p>
<p>یہ سرحدی تنازع اب تھائی لینڈ کے اندر سیاسی بحران میں بھی بدل گیا ہے، جہاں وزیرِ اعظم پائی تونگتارن شیناواترا کو ایک اخلاقی ضابطۂ اخلاق کی تحقیقات کے دوران عہدے سے معطل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>مزید کشیدگی اس وقت بڑھی جب تھائی وزیرِ اعظم اور کمبوڈیا کے سابق طویل عرصے تک حکمران اور موجودہ وزیرِ اعظم ہُن مانیت کے والد، ہن سین کے درمیان ہونے والی ایک خفیہ سفارتی گفتگو کمبوڈین ذرائع سے لیک ہو گئی، جس پر عدالتی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے دونوں فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر کشیدگی کم کریں اور مذاکرات کا آغاز کریں۔</p>
<p>یاد رہے کہ اس وقت ملائیشیا آسیان (اے ایس ای اے این) کی سربراہی کر رہا ہے، جس کا دونوں ممالک (تھائی لینڈ اور کمبوڈیا) رکن ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275052</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Jul 2025 18:00:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/24173650fcca4f3.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/24173650fcca4f3.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
