<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 11:38:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 11:38:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>الیکٹرک گاڑیوں کی دوڑ: بی وائی ڈی 2026 میں پاکستان میں قدم جمانے کو تیار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275045/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چینی الیکٹرک گاڑی ساز کمپنی بی وائی ڈی (BYD) جولائی یا اگست 2026 تک پاکستان میں اسمبل کی گئی اپنی پہلی گاڑی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ خطے میں الیکٹرک اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی مانگ سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ یہ بات کمپنی کے اعلیٰ عہدیدار نے رائٹرز سے گفتگو میں کہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرک وہیکل بنانے والی کمپنی بی وائی ڈی، چین میں سخت قیمتوں کی جنگ کے باوجود عالمی منڈی میں تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے۔ پاکستان میں قائم کیا جا رہا پلانٹ ابھرتی ہوئی منڈیوں کی طلب کو پورا کرنے کے ساتھ کمپنی کو پاکستانی حکومت کی جانب سے دی جانے والی مراعات سے بھی فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی وائی ڈی پاکستان کے نائب صدر برائے سیلز اینڈ اسٹریٹجی دانش خالق کے مطابق کراچی کے قریب اپریل سے زیر تعمیر اس پلانٹ کی تعمیر بی وائی ڈی اور میگا موٹر کمپنی کے اشتراک سے کی جا رہی ہے جو کہ پاکستانی توانائی کمپنی حب پاور کی ذیلی ادارہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دانش خالق نے بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ پلانٹ ڈبل شفٹ میں سالانہ 25 ہزار گاڑیاں تیار کرنے کی صلاحیت رکھے گا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ پلانٹ کب مکمل پیداواری استعداد حاصل کرے گا یا بڑے پیمانے پر پیداوار کا آغاز کب ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پلانٹ کی شروعات درآمد شدہ پرزہ جات کی اسمبلنگ سے کی جائے گی جب کہ چند نان الیکٹرک اجزاء مقامی طور پر تیار کیے جائیں گے۔ ابتدا میں پیداوار صرف مقامی مارکیٹ کے لیے ہوگی، تاہم مستقبل میں خطے کے دائیں ہینڈل ڈرائیو والے ممالک کو گاڑیوں کی برآمد پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جس کا انحصار فریٹ لاگت اور کاروباری اقتصادیات پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دانش خالق کا کہنا تھا کہ ہم اپنے نظام میں اضافی پیداواری گنجائش کا خدشہ نہیں دیکھتے، کیونکہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی طلب بتدریج بڑھتی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی وائی ڈی نے پاکستان میں درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں کی فراہمی مارچ 2024 میں شروع کی تھی۔ دانش خالق نے فروخت کی درست تعداد تو نہیں بتائی، لیکن کہا کہ چند سو گاڑیوں کی فروخت نے کمپنی کے داخلی اہداف سے 30 فیصد زیادہ کارکردگی دکھائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ انہیں توقع ہے کہ پاکستان میں الیکٹرک اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کی مارکیٹ 2025 میں 2024 کے مقابلے میں تین سے چار گنا بڑھ جائے گی جہاں اس وقت تقریباً 1,000 یونٹس فروخت ہوئے۔ بی وائی ڈی اس بڑھتی ہوئی مارکیٹ میں 30 سے 35 فیصد حصہ حاصل کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حبکو کی ایک فائلنگ کے مطابق بی وائی ڈی پاکستان نے مارچ 2025 کی سہ ماہی میں تقریباً 44 کروڑ 40 لاکھ روپے (1.56 ملین امریکی ڈالر) کا منافع حاصل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی رواں ہفتے جمعہ کو پاکستان میں اپنی نئی شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ ٹرک متعارف کرانے جارہی ہے۔ چین کی ایم جی کمپنی پہلے ہی پاکستان میں PHEV SUV فروخت کررہی ہے جبکہ حریف کمپنی ہیوال (Haval) بھی جلد اس شعبے میں داخل ہونے والی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیاں ایک زیادہ عملی انتخاب بنتی جارہی ہیں، کیونکہ ملک میں مکمل الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کی شدید کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے جنوری 2025 میں ای وی چارجنگ اسٹیشنز کے لیے بجلی کے نرخوں میں 45 فیصد کمی کی تاکہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال اور نجی چارجنگ انفرااسٹرکچر کو فروغ دیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چینی الیکٹرک گاڑی ساز کمپنی بی وائی ڈی (BYD) جولائی یا اگست 2026 تک پاکستان میں اسمبل کی گئی اپنی پہلی گاڑی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ خطے میں الیکٹرک اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی مانگ سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ یہ بات کمپنی کے اعلیٰ عہدیدار نے رائٹرز سے گفتگو میں کہی۔</strong></p>
<p>دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرک وہیکل بنانے والی کمپنی بی وائی ڈی، چین میں سخت قیمتوں کی جنگ کے باوجود عالمی منڈی میں تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے۔ پاکستان میں قائم کیا جا رہا پلانٹ ابھرتی ہوئی منڈیوں کی طلب کو پورا کرنے کے ساتھ کمپنی کو پاکستانی حکومت کی جانب سے دی جانے والی مراعات سے بھی فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرے گا۔</p>
<p>بی وائی ڈی پاکستان کے نائب صدر برائے سیلز اینڈ اسٹریٹجی دانش خالق کے مطابق کراچی کے قریب اپریل سے زیر تعمیر اس پلانٹ کی تعمیر بی وائی ڈی اور میگا موٹر کمپنی کے اشتراک سے کی جا رہی ہے جو کہ پاکستانی توانائی کمپنی حب پاور کی ذیلی ادارہ ہے۔</p>
<p>دانش خالق نے بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ پلانٹ ڈبل شفٹ میں سالانہ 25 ہزار گاڑیاں تیار کرنے کی صلاحیت رکھے گا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ پلانٹ کب مکمل پیداواری استعداد حاصل کرے گا یا بڑے پیمانے پر پیداوار کا آغاز کب ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ پلانٹ کی شروعات درآمد شدہ پرزہ جات کی اسمبلنگ سے کی جائے گی جب کہ چند نان الیکٹرک اجزاء مقامی طور پر تیار کیے جائیں گے۔ ابتدا میں پیداوار صرف مقامی مارکیٹ کے لیے ہوگی، تاہم مستقبل میں خطے کے دائیں ہینڈل ڈرائیو والے ممالک کو گاڑیوں کی برآمد پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جس کا انحصار فریٹ لاگت اور کاروباری اقتصادیات پر ہوگا۔</p>
<p>دانش خالق کا کہنا تھا کہ ہم اپنے نظام میں اضافی پیداواری گنجائش کا خدشہ نہیں دیکھتے، کیونکہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی طلب بتدریج بڑھتی جائے گی۔</p>
<p>بی وائی ڈی نے پاکستان میں درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں کی فراہمی مارچ 2024 میں شروع کی تھی۔ دانش خالق نے فروخت کی درست تعداد تو نہیں بتائی، لیکن کہا کہ چند سو گاڑیوں کی فروخت نے کمپنی کے داخلی اہداف سے 30 فیصد زیادہ کارکردگی دکھائی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ انہیں توقع ہے کہ پاکستان میں الیکٹرک اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کی مارکیٹ 2025 میں 2024 کے مقابلے میں تین سے چار گنا بڑھ جائے گی جہاں اس وقت تقریباً 1,000 یونٹس فروخت ہوئے۔ بی وائی ڈی اس بڑھتی ہوئی مارکیٹ میں 30 سے 35 فیصد حصہ حاصل کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔</p>
<p>حبکو کی ایک فائلنگ کے مطابق بی وائی ڈی پاکستان نے مارچ 2025 کی سہ ماہی میں تقریباً 44 کروڑ 40 لاکھ روپے (1.56 ملین امریکی ڈالر) کا منافع حاصل کیا۔</p>
<p>کمپنی رواں ہفتے جمعہ کو پاکستان میں اپنی نئی شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ ٹرک متعارف کرانے جارہی ہے۔ چین کی ایم جی کمپنی پہلے ہی پاکستان میں PHEV SUV فروخت کررہی ہے جبکہ حریف کمپنی ہیوال (Haval) بھی جلد اس شعبے میں داخل ہونے والی ہے۔</p>
<p>پاکستان میں پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیاں ایک زیادہ عملی انتخاب بنتی جارہی ہیں، کیونکہ ملک میں مکمل الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کی شدید کمی ہے۔</p>
<p>حکومت نے جنوری 2025 میں ای وی چارجنگ اسٹیشنز کے لیے بجلی کے نرخوں میں 45 فیصد کمی کی تاکہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال اور نجی چارجنگ انفرااسٹرکچر کو فروغ دیا جاسکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275045</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Jul 2025 14:49:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/2414335828e6afa.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/2414335828e6afa.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
