<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کا امکان، تجزیہ کاروں کی پیشگوئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275037/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) آئندہ بدھ، 30 جولائی کو ہونے والے اجلاس میں پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کرسکتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ اجلاس مالی سال 2025-26 کی پہلی ایم پی سی میٹنگ ہوگی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی تازہ رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ مرکزی بینک آئندہ اجلاس میں شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کا اعلان کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے پاس مزید 100 بیسس پوائنٹس تک نرمی کی گنجائش موجود ہے، کیونکہ مالی سال 2026 میں مہنگائی کی شرح 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جس سے حقیقی شرحِ سود 400 سے 600 بیسس پوائنٹس تک جا سکتی ہے—جو کہ تاریخی طور پر 200 سے 300 بیسس پوائنٹس کے بینڈ سے کہیں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک نے 16 جون کو ہونے والی اپنی گزشتہ ایم پی سی میٹنگ میں شرحِ سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ فیصلہ اُس وقت مارکیٹ کی عمومی توقعات کے مطابق تھا، کیونکہ وفاقی بجٹ کا اعلان قریب تھا اور ایران-اسرائیل کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت مانیٹری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا تھا کہ مئی میں سالانہ مہنگائی کی شرح میں 3.5 فیصد اضافہ اس کی توقعات کے مطابق تھا، جبکہ بنیادی مہنگائی میں معمولی کمی دیکھی گئی۔ کمیٹی نے یہ عندیہ دیا تھا کہ مہنگائی میں بتدریج اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم مالی سال 2026 میں یہ ہدف شدہ دائرے میں مستحکم ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن کی جانب سے کیے گئے ایک حالیہ سروے میں 56 فیصد مارکیٹ شرکاء نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ اجلاس میں شرحِ سود میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کی کمی ہوگی جو گزشتہ سروے میں 44 فیصد تھی۔ اس کے برعکس، 37 فیصد شرکاء نے کسی تبدیلی کی توقع ظاہر کی، جو گزشتہ پول میں 56 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن نے مزید کہا کہ ہم بھی مارکیٹ کی عمومی توقعات کے مطابق شرحِ سود میں کمی کی پیش گوئی کرتے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ دسمبر 2025 تک یہ شرح کم ہو کر 10 فیصد کی سطح پر آ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور بروکریج فرم اسمٰعیل اقبال سیکیورٹیز لمیٹڈ  نے بھی آئندہ اجلاس میں شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کی پیش گوئی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی رپورٹ میں فرم نے کہا کہ مہنگائی میں مسلسل کمی کا رجحان برقرار ہے جبکہ مجموعی اور بنیادی مہنگائی دونوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ بیس ایفیکٹ ختم ہو چکا ہے اور مہنگائی کے رجحانات اب معمول پر آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کرنسی میں استحکام اور بیرونی کھاتوں کی بہتر صورتحال بھی شرحِ سود میں نرمی کے حق میں مضبوط دلائل فراہم کرتی ہے۔ فرم کے مطابق، حقیقی شرحِ سود بدستور مثبت ہے، جو مانیٹری پالیسی میں مرحلہ وار اور محتاط تبدیلی کی گنجائش فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ اگرچہ معیشت بحالی کی راہ پر گامزن ہے، لیکن بیرونی شعبے سے متعلق کچھ خطرات بدستور موجود ہیں۔ اس لیے مالیاتی نظم و ضبط کی مستقل پابندی اور مضبوط معاشی بنیادیں شرحِ سود میں محتاط اور تدریجی کمی کے لیے ایک مستحکم بنیاد فراہم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) آئندہ بدھ، 30 جولائی کو ہونے والے اجلاس میں پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کرسکتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ اجلاس مالی سال 2025-26 کی پہلی ایم پی سی میٹنگ ہوگی۔</strong></p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی تازہ رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ مرکزی بینک آئندہ اجلاس میں شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کا اعلان کر سکتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے پاس مزید 100 بیسس پوائنٹس تک نرمی کی گنجائش موجود ہے، کیونکہ مالی سال 2026 میں مہنگائی کی شرح 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جس سے حقیقی شرحِ سود 400 سے 600 بیسس پوائنٹس تک جا سکتی ہے—جو کہ تاریخی طور پر 200 سے 300 بیسس پوائنٹس کے بینڈ سے کہیں زیادہ ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک نے 16 جون کو ہونے والی اپنی گزشتہ ایم پی سی میٹنگ میں شرحِ سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ فیصلہ اُس وقت مارکیٹ کی عمومی توقعات کے مطابق تھا، کیونکہ وفاقی بجٹ کا اعلان قریب تھا اور ایران-اسرائیل کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔</p>
<p>اس وقت مانیٹری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا تھا کہ مئی میں سالانہ مہنگائی کی شرح میں 3.5 فیصد اضافہ اس کی توقعات کے مطابق تھا، جبکہ بنیادی مہنگائی میں معمولی کمی دیکھی گئی۔ کمیٹی نے یہ عندیہ دیا تھا کہ مہنگائی میں بتدریج اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم مالی سال 2026 میں یہ ہدف شدہ دائرے میں مستحکم ہو جائے گی۔</p>
<p>ٹاپ لائن کی جانب سے کیے گئے ایک حالیہ سروے میں 56 فیصد مارکیٹ شرکاء نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ اجلاس میں شرحِ سود میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کی کمی ہوگی جو گزشتہ سروے میں 44 فیصد تھی۔ اس کے برعکس، 37 فیصد شرکاء نے کسی تبدیلی کی توقع ظاہر کی، جو گزشتہ پول میں 56 فیصد تھی۔</p>
<p>ٹاپ لائن نے مزید کہا کہ ہم بھی مارکیٹ کی عمومی توقعات کے مطابق شرحِ سود میں کمی کی پیش گوئی کرتے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ دسمبر 2025 تک یہ شرح کم ہو کر 10 فیصد کی سطح پر آ جائے گی۔</p>
<p>ایک اور بروکریج فرم اسمٰعیل اقبال سیکیورٹیز لمیٹڈ  نے بھی آئندہ اجلاس میں شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کی پیش گوئی کی ہے۔</p>
<p>اپنی رپورٹ میں فرم نے کہا کہ مہنگائی میں مسلسل کمی کا رجحان برقرار ہے جبکہ مجموعی اور بنیادی مہنگائی دونوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ بیس ایفیکٹ ختم ہو چکا ہے اور مہنگائی کے رجحانات اب معمول پر آ رہے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کرنسی میں استحکام اور بیرونی کھاتوں کی بہتر صورتحال بھی شرحِ سود میں نرمی کے حق میں مضبوط دلائل فراہم کرتی ہے۔ فرم کے مطابق، حقیقی شرحِ سود بدستور مثبت ہے، جو مانیٹری پالیسی میں مرحلہ وار اور محتاط تبدیلی کی گنجائش فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>تاہم، رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ اگرچہ معیشت بحالی کی راہ پر گامزن ہے، لیکن بیرونی شعبے سے متعلق کچھ خطرات بدستور موجود ہیں۔ اس لیے مالیاتی نظم و ضبط کی مستقل پابندی اور مضبوط معاشی بنیادیں شرحِ سود میں محتاط اور تدریجی کمی کے لیے ایک مستحکم بنیاد فراہم کرتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275037</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Jul 2025 12:45:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/24122823af51baf.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/24122823af51baf.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
