<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 15 Jun 2026 09:05:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 15 Jun 2026 09:05:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کریک ڈاؤن کی خبروں کے بعد ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مضبوط</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275021/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر میں 0.19 فیصد بہتری ریکارڈ کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 54 پیسے کے اضافے کے ساتھ 284.22 پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ بدھ کو روپیہ 284.76 پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے مبینہ طور پر غیر ملکی کرنسی کی اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے جس کا مقصد امریکی ڈالر سمیت دیگر کرنسیوں کی افغانستان، ایران اور دیگر ہمسایہ ممالک کو غیر قانونی منتقلی کو روکنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان  کے چیئرمین ملک محمد بوستان نے بدھ کو کہا کہ ان چھاپوں کے نتیجے میں  روپے کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں کچھ بہتری دیکھنے میں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر یورو جمعرات کو تقریباً چار سال کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا جبکہ ین نے اپنی حاصل شدہ قدر برقرار رکھی۔ یہ پیش رفت امریکا اور اس کے بڑے تجارتی شراکت داروں کے درمیان تجارتی معاہدوں میں مزید پیش رفت کے بعد دیکھنے میں آئی جس نے مجموعی طور پر عالمی مالیاتی منڈی کے اعتماد کو تقویت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر کرنسیوں نے اس خبر کو نظر انداز کردیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول کے سخت ناقد ہیں، جمعرات کو مرکزی بینک کا دورہ کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ ٹرمپ، جنہوں نے امریکی سود کی شرح میں جارحانہ کمی نہ کرنے پر جیروم پاول کو بارہا تنقید کا نشانہ بنایا ہے، فیڈ کے چیئرمین سے ملاقات کریں گے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹیں مختلف تجارتی محصولات سے متعلق مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بدھ کو دو یورپی سفارت کاروں نے بتایا کہ یورپی یونین اور امریکہ ایک ایسے تجارتی معاہدے کی جانب بڑھ رہے ہیں جس میں یورپی مصنوعات پر 15 فیصد امریکی بنیادی ٹیکس شامل ہو سکتا ہے، ساتھ ہی ممکنہ استثنیات بھی زیر غور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیشرفت واشنگٹن اور ٹوکیو کے درمیان ہونے والے اس تجارتی معاہدے کے فوراً بعد سامنے آئی ہے جس کے تحت جاپانی گاڑیوں کی درآمد پر محصولات میں کمی کی گئی ہے اور جاپان کو دیگر اشیاء پر مجوزہ سخت ٹیکسز سے استثنیٰ دیا گیا ہے، اس کے بدلے میں جاپان نے امریکہ میں سرمایہ کاری اور قرضوں پر مشتمل 550 ارب ڈالر کا پیکیج دینے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی مالیاتی منڈیوں نے ان حالیہ پیش رفتوں کو مثبت انداز میں لیا جس کے نتیجے میں رسک اثاثوں میں تیزی آئی اور سرمایہ کاروں نے امریکی ڈالر فروخت کرنا شروع کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس معمولی کمی کے ساتھ 97.15 تک آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی منڈی میں جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی وجہ امریکی تجارتی مذاکرات کے حوالے سے امید افزا خبریں اور امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں توقع سے زیادہ کمی بتائی جا رہی ہے۔ یہ عوامل عالمی معیشت پر دباؤ کو کم کرنے میں مددگار تصور کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے سودے 24 سینٹ یا 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ فی بیرل 68.75 ڈالر پر پہنچ گئے (عالمی وقت کے مطابق رات 12 بج کر 32 منٹ پر)، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کے سودے 25 سینٹ یا 0.4 فیصد بڑھ کر 65.50 ڈالر فی بیرل ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روز دونوں بینچ مارک قیمتوں میں معمولی ردوبدل دیکھنے میں آیا کیونکہ منڈیوں کی نظریں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جاپان کے ساتھ ٹیرف معاہدے کے بعد امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات پر مرکوز تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر میں 0.19 فیصد بہتری ریکارڈ کی گئی۔</strong></p>
<p>کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 54 پیسے کے اضافے کے ساتھ 284.22 پر بند ہوا۔</p>
<p>یاد رہے کہ بدھ کو روپیہ 284.76 پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے مبینہ طور پر غیر ملکی کرنسی کی اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے جس کا مقصد امریکی ڈالر سمیت دیگر کرنسیوں کی افغانستان، ایران اور دیگر ہمسایہ ممالک کو غیر قانونی منتقلی کو روکنا ہے۔</p>
<p>ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان  کے چیئرمین ملک محمد بوستان نے بدھ کو کہا کہ ان چھاپوں کے نتیجے میں  روپے کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں کچھ بہتری دیکھنے میں آئی۔</p>
<p>عالمی سطح پر یورو جمعرات کو تقریباً چار سال کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا جبکہ ین نے اپنی حاصل شدہ قدر برقرار رکھی۔ یہ پیش رفت امریکا اور اس کے بڑے تجارتی شراکت داروں کے درمیان تجارتی معاہدوں میں مزید پیش رفت کے بعد دیکھنے میں آئی جس نے مجموعی طور پر عالمی مالیاتی منڈی کے اعتماد کو تقویت دی۔</p>
<p>زیادہ تر کرنسیوں نے اس خبر کو نظر انداز کردیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول کے سخت ناقد ہیں، جمعرات کو مرکزی بینک کا دورہ کریں گے۔</p>
<p>یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ ٹرمپ، جنہوں نے امریکی سود کی شرح میں جارحانہ کمی نہ کرنے پر جیروم پاول کو بارہا تنقید کا نشانہ بنایا ہے، فیڈ کے چیئرمین سے ملاقات کریں گے یا نہیں۔</p>
<p>مارکیٹیں مختلف تجارتی محصولات سے متعلق مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بدھ کو دو یورپی سفارت کاروں نے بتایا کہ یورپی یونین اور امریکہ ایک ایسے تجارتی معاہدے کی جانب بڑھ رہے ہیں جس میں یورپی مصنوعات پر 15 فیصد امریکی بنیادی ٹیکس شامل ہو سکتا ہے، ساتھ ہی ممکنہ استثنیات بھی زیر غور ہیں۔</p>
<p>یہ پیشرفت واشنگٹن اور ٹوکیو کے درمیان ہونے والے اس تجارتی معاہدے کے فوراً بعد سامنے آئی ہے جس کے تحت جاپانی گاڑیوں کی درآمد پر محصولات میں کمی کی گئی ہے اور جاپان کو دیگر اشیاء پر مجوزہ سخت ٹیکسز سے استثنیٰ دیا گیا ہے، اس کے بدلے میں جاپان نے امریکہ میں سرمایہ کاری اور قرضوں پر مشتمل 550 ارب ڈالر کا پیکیج دینے پر اتفاق کیا ہے۔</p>
<p>عالمی مالیاتی منڈیوں نے ان حالیہ پیش رفتوں کو مثبت انداز میں لیا جس کے نتیجے میں رسک اثاثوں میں تیزی آئی اور سرمایہ کاروں نے امریکی ڈالر فروخت کرنا شروع کر دیا۔</p>
<p>ڈالر انڈیکس معمولی کمی کے ساتھ 97.15 تک آ گیا۔</p>
<p>عالمی منڈی میں جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی وجہ امریکی تجارتی مذاکرات کے حوالے سے امید افزا خبریں اور امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں توقع سے زیادہ کمی بتائی جا رہی ہے۔ یہ عوامل عالمی معیشت پر دباؤ کو کم کرنے میں مددگار تصور کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>برینٹ خام تیل کے سودے 24 سینٹ یا 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ فی بیرل 68.75 ڈالر پر پہنچ گئے (عالمی وقت کے مطابق رات 12 بج کر 32 منٹ پر)، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کے سودے 25 سینٹ یا 0.4 فیصد بڑھ کر 65.50 ڈالر فی بیرل ہو گئے۔</p>
<p>بدھ کے روز دونوں بینچ مارک قیمتوں میں معمولی ردوبدل دیکھنے میں آیا کیونکہ منڈیوں کی نظریں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جاپان کے ساتھ ٹیرف معاہدے کے بعد امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات پر مرکوز تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275021</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Jul 2025 17:18:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/2410252253981d4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/2410252253981d4.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
