<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:49:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:49:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور افغانستان کے درمیان ترجیحی تجارتی معاہدے پر دستخط</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275014/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور افغانستان نے بدھ کے روز دو روزہ تفصیلی مذاکرات کے بعد طویل عرصے سے زیر التوا ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) پر دستخط کر دیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے پر افغانستان کے نائب وزیر صنعت و تجارت ملا احمداللہ زاہد اور پاکستان کے سیکرٹری تجارت جاوید پال نے دستخط کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کے تحت پاکستان افغانستان کی چار اہم زرعی برآمدات — انگور، انار، سیب اور ٹماٹر — پر ٹیرف کم کرے گا جبکہ افغانستان پاکستانی آم، کینو، کیلے اور آلو پر ٹیرف کم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اشیاء پر پہلے ٹیرف 60 فیصد سے زائد تھا، جو اب نئے معاہدے کے تحت 27 فیصد تک کم کر دیا جائے گا۔ یہ ایک سالہ معاہدہ یکم اگست 2025 سے مؤثر ہوگا، جو توسیع پذیر ہے اور مستقبل میں مزید اشیاء شامل کی جا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طے پانے والے معاہدے کے مطابق دونوں ممالک تجارتی اور اقتصادی تعاون بڑھانے کے لیے ابتدائی کٹائی پروگرام (ای ایچ اپی) نافذ کریں گے۔ افغانستان کی وزارت صنعت و تجارت اور پاکستان کی وزارت تجارت منتخب زرعی اشیاء پر ترجیحی ٹیرف رعایتیں فراہم کرنے کے لیے تعاون کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای ایچ پی کے تحت افغانستان 4 لاکھ ٹن ٹماٹر 22 فیصد ڈیوٹی پر، 2.3 لاکھ ٹن انگور، 1 لاکھ ٹن سیب اور 1 لاکھ ٹن انار 27 فیصد ڈیوٹی پر پاکستان کو برآمد کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان 4 لاکھ ٹن آلو 22 فیصد ڈیوٹی پر جبکہ 2.3 لاکھ ٹن کینو، کیلے اور 1 لاکھ ٹن آم 27 فیصد ڈیوٹی پر افغانستان کو برآمد کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مال کی اصل کی تصدیق کے لیے پاکستان کی ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) اپنی برآمدات کا سرٹیفکیٹ آف اوریجن جاری کرے گی، جبکہ افغانستان کے لیے یہ ذمہ داری وزارت صنعت و تجارت  کی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای ایچ پی یکم اگست 2025 سے 31 جولائی 2026 تک نافذ العمل رہے گا اور باہمی اتفاق رائے سے اس میں توسیع کی جا سکے گی۔ تمام رعایتیں باہمی مساوات اور برابری کی بنیاد پر دی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مؤثر نفاذ اور نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے ایک پی ٹی اے عملدرآمد کمیٹی قائم کی جائے گی جس کی سربراہی  افغانستان کی وزارت صنعت و تجارت اور پاکستان کی وزارت تجارت  مشترکہ طور پر کریں گے۔ کمیٹی میں دونوں ممالک کی کسٹمز اور وزارت زراعت کے نمائندے بھی شامل ہوں گے، جو ہر ماہ ملاقات کر کے پیش رفت کا جائزہ لیں گے، نتائج کا تجزیہ کریں گے اور بہتری کی سفارشات پیش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور افغانستان نے بدھ کے روز دو روزہ تفصیلی مذاکرات کے بعد طویل عرصے سے زیر التوا ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) پر دستخط کر دیے۔</strong></p>
<p>معاہدے پر افغانستان کے نائب وزیر صنعت و تجارت ملا احمداللہ زاہد اور پاکستان کے سیکرٹری تجارت جاوید پال نے دستخط کیے۔</p>
<p>معاہدے کے تحت پاکستان افغانستان کی چار اہم زرعی برآمدات — انگور، انار، سیب اور ٹماٹر — پر ٹیرف کم کرے گا جبکہ افغانستان پاکستانی آم، کینو، کیلے اور آلو پر ٹیرف کم کرے گا۔</p>
<p>ان اشیاء پر پہلے ٹیرف 60 فیصد سے زائد تھا، جو اب نئے معاہدے کے تحت 27 فیصد تک کم کر دیا جائے گا۔ یہ ایک سالہ معاہدہ یکم اگست 2025 سے مؤثر ہوگا، جو توسیع پذیر ہے اور مستقبل میں مزید اشیاء شامل کی جا سکتی ہیں۔</p>
<p>طے پانے والے معاہدے کے مطابق دونوں ممالک تجارتی اور اقتصادی تعاون بڑھانے کے لیے ابتدائی کٹائی پروگرام (ای ایچ اپی) نافذ کریں گے۔ افغانستان کی وزارت صنعت و تجارت اور پاکستان کی وزارت تجارت منتخب زرعی اشیاء پر ترجیحی ٹیرف رعایتیں فراہم کرنے کے لیے تعاون کریں گی۔</p>
<p>ای ایچ پی کے تحت افغانستان 4 لاکھ ٹن ٹماٹر 22 فیصد ڈیوٹی پر، 2.3 لاکھ ٹن انگور، 1 لاکھ ٹن سیب اور 1 لاکھ ٹن انار 27 فیصد ڈیوٹی پر پاکستان کو برآمد کرے گا۔</p>
<p>پاکستان 4 لاکھ ٹن آلو 22 فیصد ڈیوٹی پر جبکہ 2.3 لاکھ ٹن کینو، کیلے اور 1 لاکھ ٹن آم 27 فیصد ڈیوٹی پر افغانستان کو برآمد کرے گا۔</p>
<p>مال کی اصل کی تصدیق کے لیے پاکستان کی ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) اپنی برآمدات کا سرٹیفکیٹ آف اوریجن جاری کرے گی، جبکہ افغانستان کے لیے یہ ذمہ داری وزارت صنعت و تجارت  کی ہوگی۔</p>
<p>ای ایچ پی یکم اگست 2025 سے 31 جولائی 2026 تک نافذ العمل رہے گا اور باہمی اتفاق رائے سے اس میں توسیع کی جا سکے گی۔ تمام رعایتیں باہمی مساوات اور برابری کی بنیاد پر دی جائیں گی۔</p>
<p>مؤثر نفاذ اور نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے ایک پی ٹی اے عملدرآمد کمیٹی قائم کی جائے گی جس کی سربراہی  افغانستان کی وزارت صنعت و تجارت اور پاکستان کی وزارت تجارت  مشترکہ طور پر کریں گے۔ کمیٹی میں دونوں ممالک کی کسٹمز اور وزارت زراعت کے نمائندے بھی شامل ہوں گے، جو ہر ماہ ملاقات کر کے پیش رفت کا جائزہ لیں گے، نتائج کا تجزیہ کریں گے اور بہتری کی سفارشات پیش کریں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275014</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Jul 2025 09:35:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/24093318b38c2fa.png" type="image/png" medium="image" height="786" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/24093318b38c2fa.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
