<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 1.5 فیصد بڑھ کر 10.6 فیصد تک پہنچ گیا، یف بی آر کی وزیراعظم کو بریفنگ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275008/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بدھ کے روز بتایا کہ مالی سال 2025 میں ملک کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 1.5 فیصد پوائنٹس بڑھ کر 10.6 فیصد تک پہنچ گیا، جو مالی سال 2024 کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ یہ پیش رفت حکومت کے تین سالہ اصلاحاتی معاہدے کے تحت انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ 13 فیصد کے ہدف کی جانب ایک اہم قدم ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ایف بی آر کے اصلاحاتی ایجنڈے کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اعلیٰ سطح اجلاس میں حکام نے بتایا کہ ٹیکس فائلرز کی تعداد 2024 میں 4.5 ملین سے بڑھ کر جون 2025 کے اختتام تک 7.2 ملین سے تجاوز کر گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے ٹیکس نیٹ میں اس اضافے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس کمپلائنس میں اضافہ حوصلہ افزا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مزید پیش رفت ایف بی آر، جو ملک کا بنیادی ریونیو ادارہ ہے، میں گہری اور دیرپا اصلاحات پر منحصر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ریونیو کلیکشن میں بہتری، خصوصاً ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو میں ”تاریخی“ اضافے کو سراہا، لیکن زور دیا کہ ٹیکس نظام کی مزید جدید کاری ضروری ہے تاکہ اسے بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ
اہداف کا حصول قابل تعریف ہے، لیکن ہمارا اصل چیلنج ایک پائیدار اور جدید ٹیکس نظام کی تعمیر ہے۔ اصلاحات تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے اور مقررہ مدت میں مکمل ہونی چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے بتایا کہ ریٹیل سیکٹر کی دستاویزی شکل اختیار کرنے کی حالیہ کوششوں، جن میں ایف بی آر کے پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سسٹم کا انضمام اور سخت نفاذ شامل ہیں، سے گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں اضافی 45.5 ارب روپے کا ٹیکس ریونیو حاصل ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایف بی آر کے نئے ”فیس لیس“ کسٹمز کلیئرنس پلیٹ فارم کی ابتدائی کامیابیوں کو بھی اجاگر کیا، جو بدعنوانی کو روکنے اور کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کا منصوبہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق اس نظام نے پہلے ہی ریونیو میں اضافہ کیا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ تین ماہ میں کلیئرنس کے اوسط وقت کو 52 گھنٹوں سے گھٹا کر صرف 12 گھنٹے تک لے آیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید سہولت کے لیے ادارے نے ویڈیو لنک کے ذریعے ریموٹ کیس ہیئرنگز کا آغاز کیا ہے تاکہ فیصلوں میں تیزی لائی جا سکے اور بالمشافہ ملاقاتوں کو کم سے کم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اضافی اقدامات کے نتیجے میں درآمدات پر ویٹڈ اوسط ٹیرف 2.16 فیصد کم کیا گیا ہے، جس سے مینوفیکچررز کے لیے خام مال کی لاگت میں کمی اور صنعتی ترقی میں مدد متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریٹیل سیکٹر میں ٹیکس وصولی گزشتہ سال کے مقابلے میں 455 ارب روپے بڑھ گئی، جو پوائنٹ آف سیل سسٹمز کے انضمام اور سخت نفاذ کا نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے اجلاس میں مزید بتایا کہ حالیہ اصلاحات کے نتیجے میں درآمدات پر ویٹڈ اوسط ٹیرف 2.16 فیصد کم ہوا، جس سے خام مال کی لاگت میں کمی اور مقامی صنعت کو سہارا ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے ایف بی آر حکام کو ہدایت کی کہ اصلاحات کے اگلے مرحلے کا جامع نفاذی منصوبہ ایک ہفتے میں پیش کریں، جس میں ادارے کے ڈیجیٹل وِنگ کی تنظیمِ نو اور عملدرآمد کے قابلِ عمل اوقاتِ کار شامل ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ٹیکس نیٹ کے دائرے کو وسعت دینے، بالخصوص غیر رسمی شعبے تک، اور قانون کی پاسداری کرنے والے ٹیکس دہندگان پر بوجھ کم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ
کاروباری افراد، تاجروں اور ٹیکس دہندگان کی سہولت کو آگے بڑھتے ہوئے یقینی بنایا جائے، اور زور دیا کہ اصلاحات کا عمل عوام دوست ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے یہ بھی بتایا کہ معاشی اعداد و شمار کے بہتر استعمال سے صنعتی شعبوں میں پیداوار کی نگرانی اور متعلقہ سرکاری اداروں کے ساتھ ہم آہنگی میں بہتری آئے گی۔ بین الاقوامی کنسلٹنٹس کی تجاویز، خاص طور پر ڈیجیٹل ٹیکسیشن اور کمپلائنس کے حوالے سے، ایف بی آر کی جاری جدید کاری مہم کا حصہ بنائی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے اجلاس کے اختتام پر ایف بی آر کے عملے کی کاوشوں کو سراہا لیکن خبردار کیا کہ حقیقی اصلاحات کے لیے نظم و ضبط، شفافیت اور پائیدار عزم کی ضرورت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وفاقی وزراء اطلاعات عطااللہ تارڑ، اقتصادی امور احد چیمہ، قانون اعظم نذیر تارڑ، ایف بی آر کے چیئرمین راشد لنگڑیال اور دیگر سینئر حکام شریک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بدھ کے روز بتایا کہ مالی سال 2025 میں ملک کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 1.5 فیصد پوائنٹس بڑھ کر 10.6 فیصد تک پہنچ گیا، جو مالی سال 2024 کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ یہ پیش رفت حکومت کے تین سالہ اصلاحاتی معاہدے کے تحت انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ 13 فیصد کے ہدف کی جانب ایک اہم قدم ہے۔</strong></p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ایف بی آر کے اصلاحاتی ایجنڈے کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اعلیٰ سطح اجلاس میں حکام نے بتایا کہ ٹیکس فائلرز کی تعداد 2024 میں 4.5 ملین سے بڑھ کر جون 2025 کے اختتام تک 7.2 ملین سے تجاوز کر گئی ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے ٹیکس نیٹ میں اس اضافے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس کمپلائنس میں اضافہ حوصلہ افزا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مزید پیش رفت ایف بی آر، جو ملک کا بنیادی ریونیو ادارہ ہے، میں گہری اور دیرپا اصلاحات پر منحصر ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے ریونیو کلیکشن میں بہتری، خصوصاً ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو میں ”تاریخی“ اضافے کو سراہا، لیکن زور دیا کہ ٹیکس نظام کی مزید جدید کاری ضروری ہے تاکہ اسے بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔</p>
<p>وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ
اہداف کا حصول قابل تعریف ہے، لیکن ہمارا اصل چیلنج ایک پائیدار اور جدید ٹیکس نظام کی تعمیر ہے۔ اصلاحات تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے اور مقررہ مدت میں مکمل ہونی چاہئیں۔</p>
<p>حکام نے بتایا کہ ریٹیل سیکٹر کی دستاویزی شکل اختیار کرنے کی حالیہ کوششوں، جن میں ایف بی آر کے پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سسٹم کا انضمام اور سخت نفاذ شامل ہیں، سے گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں اضافی 45.5 ارب روپے کا ٹیکس ریونیو حاصل ہوا۔</p>
<p>انہوں نے ایف بی آر کے نئے ”فیس لیس“ کسٹمز کلیئرنس پلیٹ فارم کی ابتدائی کامیابیوں کو بھی اجاگر کیا، جو بدعنوانی کو روکنے اور کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کا منصوبہ ہے۔</p>
<p>حکام کے مطابق اس نظام نے پہلے ہی ریونیو میں اضافہ کیا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ تین ماہ میں کلیئرنس کے اوسط وقت کو 52 گھنٹوں سے گھٹا کر صرف 12 گھنٹے تک لے آیا جائے گا۔</p>
<p>مزید سہولت کے لیے ادارے نے ویڈیو لنک کے ذریعے ریموٹ کیس ہیئرنگز کا آغاز کیا ہے تاکہ فیصلوں میں تیزی لائی جا سکے اور بالمشافہ ملاقاتوں کو کم سے کم کیا جا سکے۔</p>
<p>اضافی اقدامات کے نتیجے میں درآمدات پر ویٹڈ اوسط ٹیرف 2.16 فیصد کم کیا گیا ہے، جس سے مینوفیکچررز کے لیے خام مال کی لاگت میں کمی اور صنعتی ترقی میں مدد متوقع ہے۔</p>
<p>ریٹیل سیکٹر میں ٹیکس وصولی گزشتہ سال کے مقابلے میں 455 ارب روپے بڑھ گئی، جو پوائنٹ آف سیل سسٹمز کے انضمام اور سخت نفاذ کا نتیجہ ہے۔</p>
<p>حکام نے اجلاس میں مزید بتایا کہ حالیہ اصلاحات کے نتیجے میں درآمدات پر ویٹڈ اوسط ٹیرف 2.16 فیصد کم ہوا، جس سے خام مال کی لاگت میں کمی اور مقامی صنعت کو سہارا ملا۔</p>
<p>شہباز شریف نے ایف بی آر حکام کو ہدایت کی کہ اصلاحات کے اگلے مرحلے کا جامع نفاذی منصوبہ ایک ہفتے میں پیش کریں، جس میں ادارے کے ڈیجیٹل وِنگ کی تنظیمِ نو اور عملدرآمد کے قابلِ عمل اوقاتِ کار شامل ہوں۔</p>
<p>انہوں نے ٹیکس نیٹ کے دائرے کو وسعت دینے، بالخصوص غیر رسمی شعبے تک، اور قانون کی پاسداری کرنے والے ٹیکس دہندگان پر بوجھ کم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ
کاروباری افراد، تاجروں اور ٹیکس دہندگان کی سہولت کو آگے بڑھتے ہوئے یقینی بنایا جائے، اور زور دیا کہ اصلاحات کا عمل عوام دوست ہونا چاہیے۔</p>
<p>حکام نے یہ بھی بتایا کہ معاشی اعداد و شمار کے بہتر استعمال سے صنعتی شعبوں میں پیداوار کی نگرانی اور متعلقہ سرکاری اداروں کے ساتھ ہم آہنگی میں بہتری آئے گی۔ بین الاقوامی کنسلٹنٹس کی تجاویز، خاص طور پر ڈیجیٹل ٹیکسیشن اور کمپلائنس کے حوالے سے، ایف بی آر کی جاری جدید کاری مہم کا حصہ بنائی جائیں گی۔</p>
<p>وزیراعظم نے اجلاس کے اختتام پر ایف بی آر کے عملے کی کاوشوں کو سراہا لیکن خبردار کیا کہ حقیقی اصلاحات کے لیے نظم و ضبط، شفافیت اور پائیدار عزم کی ضرورت ہوگی۔</p>
<p>اجلاس میں وفاقی وزراء اطلاعات عطااللہ تارڑ، اقتصادی امور احد چیمہ، قانون اعظم نذیر تارڑ، ایف بی آر کے چیئرمین راشد لنگڑیال اور دیگر سینئر حکام شریک ہوئے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275008</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Jul 2025 08:46:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/240844028db0255.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/240844028db0255.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
