<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 10:02:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 10:02:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سرکاری اداروں کی نجکاری، وزیراعظم کا نجکاری کمیشن کو مکمل قانونی خودمختاری دینے کا عزم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275007/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملک میں خسارے میں جانے والے سرکاری اداروں (ایس او ایز) کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز عزم کیا کہ نجکاری کمیشن کو مکمل قانونی خودمختاری دی جائے گی تاکہ بیوروکریٹک رکاوٹوں اور غیر ضروری مداخلت کو ختم کیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے سرکاری اداروں کی نجکاری میں پیش رفت کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے زور دیا کہ ملکی معیشت کی بحالی خسارے میں جانے والے سرکاری شعبے کے اداروں کی بروقت اور شفاف نجکاری سے مشروط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نجکاری کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل کو موثر، جامع اور کارگر انداز میں مکمل کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ قومی اداروں کی قیمتی اراضی پر غیر قانونی قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس طرح کی زمین کے تصرف میں انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں ان اداروں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جن کی 2024 میں نجکاری متوقع ہے، جن میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اور کئی بجلی ترسیل کرنے والی کمپنیاں، جنہیں عام طور پر ڈسکوز کہا جاتا ہے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے ہدایت دی کہ کمیشن کی کوششیں مارکیٹ کے حالات کے مطابق ہوں اور مکمل طور پر قانونی و شفافیت کے تقاضوں پر پورا اتریں۔ انہوں نے کہا کہ تمام فیصلے مکمل اور مؤثر طریقے سے نافذ کیے جائیں۔ میں نجکاری کمیشن کے جاری کام کی پیش رفت باقاعدگی سے مانیٹر کروں گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کمیشن کے حکام نے وزیراعظم کو سرکاری اداروں کی نجکاری کے لیے ایک مرحلہ وار حکمتِ عملی پر بریفنگ دی جو قانونی، مالی اور شعبہ جاتی عوامل کو مدنظر رکھ کر ترتیب دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ، جو وفاقی کابینہ سے منظور شدہ ہے، ایک مقررہ مدت کے اندر اقتصادی اور ادارہ جاتی اہداف حاصل کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے نجکاری اور تنظیم نو کے عمل میں پیشہ ور ماہرین سے مشاورت اور بین الاقوامی معیار کو یقینی بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خسارے میں جانے والے اداروں کی نجکاری پر زور ایسے وقت میں دیا جا رہا ہے جب حکومت مالی دباؤ میں کمی اور نجی سرمایہ کاری کو ایسے شعبوں میں راغب کرنا چاہتی ہے جو طویل عرصے سے بدانتظامی اور غیر مؤثریت کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وفاقی وزرا اویس لغاری اور احد چیمہ، نجکاری کمیشن کے چیئرمین محمد علی، اور دیگر سینئر سرکاری حکام و مشیران شریک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملک میں خسارے میں جانے والے سرکاری اداروں (ایس او ایز) کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز عزم کیا کہ نجکاری کمیشن کو مکمل قانونی خودمختاری دی جائے گی تاکہ بیوروکریٹک رکاوٹوں اور غیر ضروری مداخلت کو ختم کیا جا سکے۔</strong></p>
<p>وزیراعظم نے سرکاری اداروں کی نجکاری میں پیش رفت کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے زور دیا کہ ملکی معیشت کی بحالی خسارے میں جانے والے سرکاری شعبے کے اداروں کی بروقت اور شفاف نجکاری سے مشروط ہے۔</p>
<p>انہوں نے نجکاری کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل کو موثر، جامع اور کارگر انداز میں مکمل کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ قومی اداروں کی قیمتی اراضی پر غیر قانونی قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس طرح کی زمین کے تصرف میں انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔</p>
<p>اجلاس میں ان اداروں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جن کی 2024 میں نجکاری متوقع ہے، جن میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اور کئی بجلی ترسیل کرنے والی کمپنیاں، جنہیں عام طور پر ڈسکوز کہا جاتا ہے شامل ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم نے ہدایت دی کہ کمیشن کی کوششیں مارکیٹ کے حالات کے مطابق ہوں اور مکمل طور پر قانونی و شفافیت کے تقاضوں پر پورا اتریں۔ انہوں نے کہا کہ تمام فیصلے مکمل اور مؤثر طریقے سے نافذ کیے جائیں۔ میں نجکاری کمیشن کے جاری کام کی پیش رفت باقاعدگی سے مانیٹر کروں گا۔</p>
<p>نجکاری کمیشن کے حکام نے وزیراعظم کو سرکاری اداروں کی نجکاری کے لیے ایک مرحلہ وار حکمتِ عملی پر بریفنگ دی جو قانونی، مالی اور شعبہ جاتی عوامل کو مدنظر رکھ کر ترتیب دی گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ، جو وفاقی کابینہ سے منظور شدہ ہے، ایک مقررہ مدت کے اندر اقتصادی اور ادارہ جاتی اہداف حاصل کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے نجکاری اور تنظیم نو کے عمل میں پیشہ ور ماہرین سے مشاورت اور بین الاقوامی معیار کو یقینی بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔</p>
<p>خسارے میں جانے والے اداروں کی نجکاری پر زور ایسے وقت میں دیا جا رہا ہے جب حکومت مالی دباؤ میں کمی اور نجی سرمایہ کاری کو ایسے شعبوں میں راغب کرنا چاہتی ہے جو طویل عرصے سے بدانتظامی اور غیر مؤثریت کا شکار ہیں۔</p>
<p>اجلاس میں وفاقی وزرا اویس لغاری اور احد چیمہ، نجکاری کمیشن کے چیئرمین محمد علی، اور دیگر سینئر سرکاری حکام و مشیران شریک ہوئے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275007</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Jul 2025 08:36:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/24083359989254f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/24083359989254f.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
