<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم کا ایف بی آر اصلاحات پر اظہار اطمینان، ٹیکس فائلرز کی تعداد 72 لاکھ سے تجاوز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274983/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد 30 جون 2025 تک بڑھ کر 72 لاکھ سے تجاوز کرگئی جو گزشتہ سال 45 لاکھ تھی۔ یہ 60 فیصد کا نمایاں اضافہ ہے جس کا سہرا فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جاری اصلاحات اور ڈیجیٹائزیشن کی کامیاب کوششوں کو دیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر میں جاری اصلاحاتی عمل پر ہونے والے جائزہ اجلاس کے دوران سامنے آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم آفس (پی ایم او) کی جانب سے اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ ایف بی آر کی مؤثر نفاذی کارروائیوں اور دیگر اصلاحات کے نتیجے میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں 2025 کے دوران 2024 کے مقابلے میں 1.5 فیصد کا تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق فیس لیس کسٹمز کلیئرنس سسٹم کے نفاذ سے اگلے تین ماہ میں درآمدی کلیئرنس کا دورانیہ 52 گھنٹوں سے گھٹ کر 12 گھنٹے رہ جائے گا جس سے تجارتی عمل میں نمایاں بہتری آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریٹیل سیکٹر میں بھی ٹیکس وصولی میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں 30 جون 2025 تک آمدنی پر ٹیکس وصولی 455 ارب روپے بڑھ گئی۔ یہ اضافہ پوائنٹ آف سیل نظام کے نفاذ، ریٹیلرز کے ایف بی آر سے منسلک ہونے اور مؤثر نفاذی اقدامات کا نتیجہ قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں بتایا گیا کہ فیس لیس نظام کے تحت اپیلوں کے لیے ایک مخصوص ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے، جو ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمات کے بروقت فیصلے کو یقینی بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ ان اقدامات کے باعث درآمدات پر اوسط وزنی ٹیرف میں 2.16 فیصد کمی واقع ہوئی، جس سے صنعتی شعبے کے لیے خام مال کی لاگت میں کمی آئی اور مقامی پیداوار کو سہارا ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ٹیکس اصلاحات اور مختلف معاشی شعبوں کی ڈیجیٹائزیشن میں بین الاقوامی ماہرین کی تجاویز بھی شامل کی جائیں گی تاکہ اصلاحاتی عمل عالمی معیار کے مطابق ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کو ایف بی آر اصلاحات سے متعلق اضافی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ انہوں نے ایف بی آر حکام اور اصلاحاتی عمل میں شامل ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ قابلِ عمل اہداف کے ساتھ واضح ٹائم لائنز ترتیب دے کر آئندہ ہفتے پیش کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ اہداف کا حصول خوش آئند ہے، تاہم مزید محنت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن نے اہداف کے حصول میں مدد دی ہے اور اب اس نظام کو پائیدار اور مستقل بنانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہبازشریف نے ہدایت کی کہ غیر رسمی معیشت پر قابو پانے کے لیے اضافی نفاذی اقدامات متعارف کرائے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ ایف بی آر کے ڈیجیٹل وِنگ کی تنظیمِ نو کے لیے ایک جامع روڈمیپ تیار کیا جائے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے ٹائم لائن طے کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے زور دیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے اور ان کی آراء کو اصلاحاتی عمل میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ ایف بی آر اصلاحات پر عملدرآمد کے دوران کاروباری حضرات، تاجروں اور ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد 30 جون 2025 تک بڑھ کر 72 لاکھ سے تجاوز کرگئی جو گزشتہ سال 45 لاکھ تھی۔ یہ 60 فیصد کا نمایاں اضافہ ہے جس کا سہرا فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جاری اصلاحات اور ڈیجیٹائزیشن کی کامیاب کوششوں کو دیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر میں جاری اصلاحاتی عمل پر ہونے والے جائزہ اجلاس کے دوران سامنے آئی۔</p>
<p>وزیر اعظم آفس (پی ایم او) کی جانب سے اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ ایف بی آر کی مؤثر نفاذی کارروائیوں اور دیگر اصلاحات کے نتیجے میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں 2025 کے دوران 2024 کے مقابلے میں 1.5 فیصد کا تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق فیس لیس کسٹمز کلیئرنس سسٹم کے نفاذ سے اگلے تین ماہ میں درآمدی کلیئرنس کا دورانیہ 52 گھنٹوں سے گھٹ کر 12 گھنٹے رہ جائے گا جس سے تجارتی عمل میں نمایاں بہتری آئے گی۔</p>
<p>ریٹیل سیکٹر میں بھی ٹیکس وصولی میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں 30 جون 2025 تک آمدنی پر ٹیکس وصولی 455 ارب روپے بڑھ گئی۔ یہ اضافہ پوائنٹ آف سیل نظام کے نفاذ، ریٹیلرز کے ایف بی آر سے منسلک ہونے اور مؤثر نفاذی اقدامات کا نتیجہ قرار دیا گیا۔</p>
<p>اجلاس میں بتایا گیا کہ فیس لیس نظام کے تحت اپیلوں کے لیے ایک مخصوص ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے، جو ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمات کے بروقت فیصلے کو یقینی بناتا ہے۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ ان اقدامات کے باعث درآمدات پر اوسط وزنی ٹیرف میں 2.16 فیصد کمی واقع ہوئی، جس سے صنعتی شعبے کے لیے خام مال کی لاگت میں کمی آئی اور مقامی پیداوار کو سہارا ملا۔</p>
<p>اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ٹیکس اصلاحات اور مختلف معاشی شعبوں کی ڈیجیٹائزیشن میں بین الاقوامی ماہرین کی تجاویز بھی شامل کی جائیں گی تاکہ اصلاحاتی عمل عالمی معیار کے مطابق ہو۔</p>
<p>وزیراعظم کو ایف بی آر اصلاحات سے متعلق اضافی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ انہوں نے ایف بی آر حکام اور اصلاحاتی عمل میں شامل ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ قابلِ عمل اہداف کے ساتھ واضح ٹائم لائنز ترتیب دے کر آئندہ ہفتے پیش کی جائیں۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ اہداف کا حصول خوش آئند ہے، تاہم مزید محنت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن نے اہداف کے حصول میں مدد دی ہے اور اب اس نظام کو پائیدار اور مستقل بنانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔</p>
<p>وزیراعظم شہبازشریف نے ہدایت کی کہ غیر رسمی معیشت پر قابو پانے کے لیے اضافی نفاذی اقدامات متعارف کرائے جائیں۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ ایف بی آر کے ڈیجیٹل وِنگ کی تنظیمِ نو کے لیے ایک جامع روڈمیپ تیار کیا جائے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے ٹائم لائن طے کی جائے۔</p>
<p>وزیراعظم نے زور دیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے اور ان کی آراء کو اصلاحاتی عمل میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ ایف بی آر اصلاحات پر عملدرآمد کے دوران کاروباری حضرات، تاجروں اور ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274983</guid>
      <pubDate>Wed, 23 Jul 2025 11:20:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/23111913a1f91f8.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/23111913a1f91f8.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
