<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:10:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:10:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا درآمدات میں اضافہ صنعتوں کی بحالی کی وجہ سے ہے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274972/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اگر مرکزی بینک کی بات پر یقین کیا جائے تو پاکستان کی نان آئل درآمدات اب حجم کے اعتبار سے اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ اگرچہ کل درآمدات تاحال علامتی 60 ارب ڈالر کی حد سے نیچے ہیں، مگر اس کا زیادہ تعلق کسی نئی مالیاتی نظم و ضبط سے نہیں بلکہ عالمی کموڈیٹی قیمتوں میں کمی سے ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کا کموڈیٹی انڈیکس اس وقت تقریباً چار سال کی کم ترین سطح پر ہے جو وقتی ریلیف فراہم کر رہا ہے۔ لیکن جیسے جیسے درآمدی حجم میں اضافہ ہو رہا ہے اور کرنسی مارکیٹ پر دباؤ دوبارہ ابھرنے لگا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس برقرار نہیں رہے گا۔ مالی سال 26 میں خسارے کی واپسی تقریباً یقینی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درآمدی معمولات کی اس سطحی کہانی کے پیچھے ایک کم اطمینان بخش حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ درآمدی اشیاء کی مقدار میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر ایسا اضافہ نہیں جو صنعتی سرگرمیوں کی بحالی کی علامت ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/07/23084710b9c31ab.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو ادوار—مالی سال 17 تا 19، جب ایکسچینج ریٹ زیادہ تھا اور درآمدی کھپت اپنی انتہا پر تھی، اور مالی سال 23 تا 25، جو درآمدی دباؤ اور کرنسی کے زوال سے عبارت ہے—کے دوران درآمدی ساخت کے جائزے سے تصویر زیادہ واضح ہوتی ہے۔ جو کچھ آج بڑھ رہا ہے وہ پیداواری سرمایہ یا صنعتی خام مال نہیں، بلکہ خوراک، بنیادی استعمال کی اشیاء اور وہ ان پٹس ہیں جو مقامی طلب کو تو پورا کرتے ہیں مگر برآمدی ویلیو نہیں بناتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گندم کی درآمد سب سے نمایاں تبدیلی ہے۔ پانچ سال قبل جو درآمدات نہ ہونے کے برابر تھیں، اب حجم 3 ملین میٹرک ٹن سے تجاوز کر گیا ہے۔ دالوں کی درآمدات میں 36 فیصد، چائے میں 33 فیصد، خوردنی تیل میں 16 فیصد اور مصالحہ جات میں 28 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ کوئی وقتی بگاڑ نہیں بلکہ مقامی پیداوار کی ساختی زوال پذیری اور بنیادی اشیائے خوراک کے لیے بیرونی سپلائی پر بڑھتے انحصار کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وہ شعبے جو صنعتی پیداوار کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں یا تو جمود کا شکار ہیں یا زوال پذیر۔ کھاد کی درآمدات میں 43 فیصد، آہن و فولاد میں 33 فیصد، ربڑ میں 14 فیصد اور پیکجنگ مٹیریل میں 31 فیصد کمی آئی ہے۔ حتیٰ کہ پٹرولیم کی درآمدات بھی 8 فیصد کم ہیں۔ یہ حوصلہ افزا اشارے نہیں بلکہ ایک ایسی معیشت کے خاموش سگنلز ہیں جو اپنی پیداواری بنیاد کھو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ زمرے سطحی طور پر صنعتی ان پٹس کی بڑھتی طلب کی عکاسی کر سکتے ہیں—ٹیکسٹائل خام مال، پلاسٹک، انسیکٹیسائڈز، اور طبی مصنوعات—مگر سیاق و سباق اہم ہے۔ پلاسٹک کا استعمال زیادہ تر پیکجنگ اور صارفین کی اشیاء سے منسلک ہے، برآمدی مینوفیکچرنگ سے نہیں۔ انسیکٹیسائڈز میں اضافہ اس لیے ہوا کہ گھریلو سطح پر زیادہ خوراک پیدا کی جا رہی ہے، مگر اس سے زیادہ درآمد ہو رہی ہے۔ طبی مصنوعات کی درآمدات میں اضافہ اس لیے ہے کہ لوگ زیادہ ہیلتھ کیئر مصنوعات استعمال کر رہے ہیں، نہ کہ اس لیے کہ ملک انہیں بڑے پیمانے پر تیار کر رہا ہے۔ حتیٰ کہ ٹیکسٹائل ان پٹس میں اضافے نے بھی خالص برآمدات میں کوئی خاطر خواہ بہتری پیدا نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ویلیو ایڈیشن کی طرف منتقلی نہیں بلکہ درآمدی انحصار کی طرف تبدیلی ہے، جو عارضی طور پر کم قیمتوں سے چھپی ہوئی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی زیادہ استعمال کر رہی ہے جبکہ مقامی پیداوار جمود کا شکار ہے۔ درآمدی بل میں اضافہ ہو رہا ہے مگر ایسی اشیاء کے لیے جو معاشی رفتار کا عندیہ نہیں دیتیں بلکہ گندم، چائے، دوائی اور پلاسٹک بیگز کے لیے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پالیسی ساز اسے بحالی کی علامت کہنا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں، مگر ایمانداری سے کہا جائے تو حقیقت کچھ اور ہے۔ بیلنس آف پیمنٹس دوبارہ دباؤ کا شکار ہے، جبکہ معیشت کا پہیہ ابھی گھومنا شروع بھی نہیں ہوا۔ اگر درآمدی حجم میں ایک اور سال معمولی اضافہ ہوا اور اسے نظر انداز کیا گیا، تو ملک دوبارہ اسی بحران کے دہانے پر ہوگا۔ اور اس بار سنبھلنے کی گنجائش پہلے سے بھی کم ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اگر مرکزی بینک کی بات پر یقین کیا جائے تو پاکستان کی نان آئل درآمدات اب حجم کے اعتبار سے اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ اگرچہ کل درآمدات تاحال علامتی 60 ارب ڈالر کی حد سے نیچے ہیں، مگر اس کا زیادہ تعلق کسی نئی مالیاتی نظم و ضبط سے نہیں بلکہ عالمی کموڈیٹی قیمتوں میں کمی سے ہے۔</strong></p>
<p>ورلڈ بینک کا کموڈیٹی انڈیکس اس وقت تقریباً چار سال کی کم ترین سطح پر ہے جو وقتی ریلیف فراہم کر رہا ہے۔ لیکن جیسے جیسے درآمدی حجم میں اضافہ ہو رہا ہے اور کرنسی مارکیٹ پر دباؤ دوبارہ ابھرنے لگا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس برقرار نہیں رہے گا۔ مالی سال 26 میں خسارے کی واپسی تقریباً یقینی ہے۔</p>
<p>درآمدی معمولات کی اس سطحی کہانی کے پیچھے ایک کم اطمینان بخش حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ درآمدی اشیاء کی مقدار میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر ایسا اضافہ نہیں جو صنعتی سرگرمیوں کی بحالی کی علامت ہو۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/07/23084710b9c31ab.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>دو ادوار—مالی سال 17 تا 19، جب ایکسچینج ریٹ زیادہ تھا اور درآمدی کھپت اپنی انتہا پر تھی، اور مالی سال 23 تا 25، جو درآمدی دباؤ اور کرنسی کے زوال سے عبارت ہے—کے دوران درآمدی ساخت کے جائزے سے تصویر زیادہ واضح ہوتی ہے۔ جو کچھ آج بڑھ رہا ہے وہ پیداواری سرمایہ یا صنعتی خام مال نہیں، بلکہ خوراک، بنیادی استعمال کی اشیاء اور وہ ان پٹس ہیں جو مقامی طلب کو تو پورا کرتے ہیں مگر برآمدی ویلیو نہیں بناتے۔</p>
<p>گندم کی درآمد سب سے نمایاں تبدیلی ہے۔ پانچ سال قبل جو درآمدات نہ ہونے کے برابر تھیں، اب حجم 3 ملین میٹرک ٹن سے تجاوز کر گیا ہے۔ دالوں کی درآمدات میں 36 فیصد، چائے میں 33 فیصد، خوردنی تیل میں 16 فیصد اور مصالحہ جات میں 28 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ کوئی وقتی بگاڑ نہیں بلکہ مقامی پیداوار کی ساختی زوال پذیری اور بنیادی اشیائے خوراک کے لیے بیرونی سپلائی پر بڑھتے انحصار کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب وہ شعبے جو صنعتی پیداوار کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں یا تو جمود کا شکار ہیں یا زوال پذیر۔ کھاد کی درآمدات میں 43 فیصد، آہن و فولاد میں 33 فیصد، ربڑ میں 14 فیصد اور پیکجنگ مٹیریل میں 31 فیصد کمی آئی ہے۔ حتیٰ کہ پٹرولیم کی درآمدات بھی 8 فیصد کم ہیں۔ یہ حوصلہ افزا اشارے نہیں بلکہ ایک ایسی معیشت کے خاموش سگنلز ہیں جو اپنی پیداواری بنیاد کھو چکی ہے۔</p>
<p>کچھ زمرے سطحی طور پر صنعتی ان پٹس کی بڑھتی طلب کی عکاسی کر سکتے ہیں—ٹیکسٹائل خام مال، پلاسٹک، انسیکٹیسائڈز، اور طبی مصنوعات—مگر سیاق و سباق اہم ہے۔ پلاسٹک کا استعمال زیادہ تر پیکجنگ اور صارفین کی اشیاء سے منسلک ہے، برآمدی مینوفیکچرنگ سے نہیں۔ انسیکٹیسائڈز میں اضافہ اس لیے ہوا کہ گھریلو سطح پر زیادہ خوراک پیدا کی جا رہی ہے، مگر اس سے زیادہ درآمد ہو رہی ہے۔ طبی مصنوعات کی درآمدات میں اضافہ اس لیے ہے کہ لوگ زیادہ ہیلتھ کیئر مصنوعات استعمال کر رہے ہیں، نہ کہ اس لیے کہ ملک انہیں بڑے پیمانے پر تیار کر رہا ہے۔ حتیٰ کہ ٹیکسٹائل ان پٹس میں اضافے نے بھی خالص برآمدات میں کوئی خاطر خواہ بہتری پیدا نہیں کی۔</p>
<p>یہ ویلیو ایڈیشن کی طرف منتقلی نہیں بلکہ درآمدی انحصار کی طرف تبدیلی ہے، جو عارضی طور پر کم قیمتوں سے چھپی ہوئی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی زیادہ استعمال کر رہی ہے جبکہ مقامی پیداوار جمود کا شکار ہے۔ درآمدی بل میں اضافہ ہو رہا ہے مگر ایسی اشیاء کے لیے جو معاشی رفتار کا عندیہ نہیں دیتیں بلکہ گندم، چائے، دوائی اور پلاسٹک بیگز کے لیے ہے۔</p>
<p>اگر پالیسی ساز اسے بحالی کی علامت کہنا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں، مگر ایمانداری سے کہا جائے تو حقیقت کچھ اور ہے۔ بیلنس آف پیمنٹس دوبارہ دباؤ کا شکار ہے، جبکہ معیشت کا پہیہ ابھی گھومنا شروع بھی نہیں ہوا۔ اگر درآمدی حجم میں ایک اور سال معمولی اضافہ ہوا اور اسے نظر انداز کیا گیا، تو ملک دوبارہ اسی بحران کے دہانے پر ہوگا۔ اور اس بار سنبھلنے کی گنجائش پہلے سے بھی کم ہوگی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274972</guid>
      <pubDate>Wed, 23 Jul 2025 10:15:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/231011101fa9fdc.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/231011101fa9fdc.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
