<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور افغانستان کا ترجیحی تجارتی معاہدہ یکم اگست سے نافذ کرنے پر اتفاق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274964/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارتِ تجارت کے باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پاکستان اور افغانستان طویل عرصے سے زیرِ التوا ترجیحی تجارتی معاہدہ (پی ٹی اے) پر دستخط کرنے جا رہے ہیں، جو یکم اگست 2025 سے نافذالعمل ہوگا اور اس میں بعض پھلوں اور خشک میوہ جات کی باہمی ڈیوٹی فری درآمدات و برآمدات شامل ہوں گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک اسلام آباد میں اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں، جو سابق افغان صدور حامد کرزئی اور اشرف غنی کے ادوار میں بھارتی کنسلٹنٹس کے اثر و رسوخ کے باعث نامکمل رہا۔ سابق افغان حکومت کا اہم مطالبہ یہ تھا کہ پاکستان کے راستے بھارت کی اشیا کو افغانستان درآمد کرنے کی اجازت دی جائے، جو اسلام آباد نے کبھی قبول نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان نائب وزیر برائے تجارت و صنعت احمداللہ زاہد، سینئر ٹیکنیکل ماہرین کے ہمراہ پیر کی رات پاکستان پہنچے تاکہ وزارتِ تجارت کے حکام سے دو طرفہ ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) پر بات چیت کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ ڈرافٹ پی ٹی اے کے مطابق، اسلامی امارتِ افغانستان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت میں سہولت فراہم کرنے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، افغان وزارتِ صنعت و تجارت  اور پاکستانی وزارتِ تجارت  تجارتی بہاؤ اور اقتصادی تعاون بڑھانے کے لیے ارلی ہارویسٹ پروگرام (ای ایچ پی) پر عملدرآمد پر متفق ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آرٹیکل 1: ترجیحی ٹیرف مراعات&lt;/strong&gt;
(i) دونوں فریقین — اسلامی امارتِ افغانستان (”افغانستان“) اور حکومتِ پاکستان (”پاکستان“)، جنہیں بعد ازاں مجموعی طور پر ”معاہدہ کرنے والے فریقین“ کہا جائے گا — ارلی ہارویسٹ پروگرام کے تحت منتخب زرعی مصنوعات کی فہرست پر ترجیحی ٹیرف مراعات فراہم کرنے پر متفق ہوئے ہیں؛
(ii) یہ مراعات دونوں ممالک کی مخصوص مصنوعات پر ٹیرف اور ڈیوٹیز کم کر کے نافذ ہوں گی: افغانستان برآمد کرے گا: ٹماٹر، انگور، سیب اور انار؛ جبکہ پاکستان برآمد کرے گا: آلو، کینو، کیلے اور آم۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آرٹیکل 2: ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) کی ترقی&lt;/strong&gt;
دونوں فریقین ارلی ہارویسٹ پروگرام کی کارکردگی اور باہمی اطمینان کی بنیاد پر ایک جامع ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) پر بات چیت شروع کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آرٹیکل 3: اصل کے اصول&lt;/strong&gt;
مندرجہ بالا زرعی مصنوعات لازمی طور پر:
(i) برآمد کرنے والے ملک میں کاٹی یا جمع کی گئی ہوں؛
(ii) مکمل طور پر وہیں سے حاصل کی گئی ہوں؛ اور
(iii) ترجیحی مراعات کے لیے ہر ملک کے مجاز ادارے کی جانب سے جاری کردہ سرٹیفیکیٹ آف اوریجن کے ساتھ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آرٹیکل 4: تصدیق&lt;/strong&gt;
(i) پاکستان کے لیے سرٹیفیکیٹ آف اوریجن ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) جاری کرے گی؛
(ii) افغانستان کے لیے یہ سرٹیفیکیٹ وزارتِ صنعت و تجارت  جاری کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آرٹیکل 5: نفاذ کی تاریخ&lt;/strong&gt;
ارلی ہارویسٹ پروگرام یکم اگست 2025 سے نافذ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آرٹیکل 6: مدت اور باہمی مراعات&lt;/strong&gt;
(i) ٹیرف مراعات ایک سال کی مدت کے لیے، یکم اگست 2025 سے 31 جولائی 2026 تک فراہم کی جائیں گی؛
(ii) یہ پروگرام باہمی اتفاق رائے سے توسیع پائے گا؛
(iii) تمام مراعات باہمی اصول اور برابری پر مبنی ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آرٹیکل 7: پی ٹی اے نفاذ کمیٹی&lt;/strong&gt;
ارلی ہارویسٹ پروگرام کی نگرانی کے لیے پی ٹی اے نفاذ کمیٹی قائم کی جائے گی، جو:
(i) افغان وزارتِ صنعت و تجارت  اور پاکستانی وزارتِ تجارت  کی قیادت میں ہوگی؛
(ii) دونوں ممالک کی کسٹمز اور وزارتِ زراعت کے نمائندے شامل کرے گی؛
(iii) ماہانہ اجلاس منعقد کرے گی؛ اور
(iv) پروگرام کی مانیٹرنگ، جانچ اور بہتری کی سفارشات کی ذمہ دار ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جُنید ماکڈا اور ضیاالحق سرحدی نے بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے کہا: “یہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ انتظام ہے، اس لیے نجی شعبے کو ان بات چیت میں شامل نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ڈرافٹ معاہدہ پہلے ہی اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی سطح پر کلیئر ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آفس میں معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارتِ تجارت کے باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پاکستان اور افغانستان طویل عرصے سے زیرِ التوا ترجیحی تجارتی معاہدہ (پی ٹی اے) پر دستخط کرنے جا رہے ہیں، جو یکم اگست 2025 سے نافذالعمل ہوگا اور اس میں بعض پھلوں اور خشک میوہ جات کی باہمی ڈیوٹی فری درآمدات و برآمدات شامل ہوں گی۔</strong></p>
<p>دونوں ممالک اسلام آباد میں اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں، جو سابق افغان صدور حامد کرزئی اور اشرف غنی کے ادوار میں بھارتی کنسلٹنٹس کے اثر و رسوخ کے باعث نامکمل رہا۔ سابق افغان حکومت کا اہم مطالبہ یہ تھا کہ پاکستان کے راستے بھارت کی اشیا کو افغانستان درآمد کرنے کی اجازت دی جائے، جو اسلام آباد نے کبھی قبول نہیں کیا۔</p>
<p>افغان نائب وزیر برائے تجارت و صنعت احمداللہ زاہد، سینئر ٹیکنیکل ماہرین کے ہمراہ پیر کی رات پاکستان پہنچے تاکہ وزارتِ تجارت کے حکام سے دو طرفہ ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) پر بات چیت کر سکیں۔</p>
<p>مجوزہ ڈرافٹ پی ٹی اے کے مطابق، اسلامی امارتِ افغانستان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت میں سہولت فراہم کرنے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، افغان وزارتِ صنعت و تجارت  اور پاکستانی وزارتِ تجارت  تجارتی بہاؤ اور اقتصادی تعاون بڑھانے کے لیے ارلی ہارویسٹ پروگرام (ای ایچ پی) پر عملدرآمد پر متفق ہوئے ہیں۔</p>
<p><strong>آرٹیکل 1: ترجیحی ٹیرف مراعات</strong>
(i) دونوں فریقین — اسلامی امارتِ افغانستان (”افغانستان“) اور حکومتِ پاکستان (”پاکستان“)، جنہیں بعد ازاں مجموعی طور پر ”معاہدہ کرنے والے فریقین“ کہا جائے گا — ارلی ہارویسٹ پروگرام کے تحت منتخب زرعی مصنوعات کی فہرست پر ترجیحی ٹیرف مراعات فراہم کرنے پر متفق ہوئے ہیں؛
(ii) یہ مراعات دونوں ممالک کی مخصوص مصنوعات پر ٹیرف اور ڈیوٹیز کم کر کے نافذ ہوں گی: افغانستان برآمد کرے گا: ٹماٹر، انگور، سیب اور انار؛ جبکہ پاکستان برآمد کرے گا: آلو، کینو، کیلے اور آم۔</p>
<p><strong>آرٹیکل 2: ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) کی ترقی</strong>
دونوں فریقین ارلی ہارویسٹ پروگرام کی کارکردگی اور باہمی اطمینان کی بنیاد پر ایک جامع ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) پر بات چیت شروع کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔</p>
<p><strong>آرٹیکل 3: اصل کے اصول</strong>
مندرجہ بالا زرعی مصنوعات لازمی طور پر:
(i) برآمد کرنے والے ملک میں کاٹی یا جمع کی گئی ہوں؛
(ii) مکمل طور پر وہیں سے حاصل کی گئی ہوں؛ اور
(iii) ترجیحی مراعات کے لیے ہر ملک کے مجاز ادارے کی جانب سے جاری کردہ سرٹیفیکیٹ آف اوریجن کے ساتھ ہوں۔</p>
<p><strong>آرٹیکل 4: تصدیق</strong>
(i) پاکستان کے لیے سرٹیفیکیٹ آف اوریجن ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) جاری کرے گی؛
(ii) افغانستان کے لیے یہ سرٹیفیکیٹ وزارتِ صنعت و تجارت  جاری کرے گی۔</p>
<p><strong>آرٹیکل 5: نفاذ کی تاریخ</strong>
ارلی ہارویسٹ پروگرام یکم اگست 2025 سے نافذ کیا جائے گا۔</p>
<p><strong>آرٹیکل 6: مدت اور باہمی مراعات</strong>
(i) ٹیرف مراعات ایک سال کی مدت کے لیے، یکم اگست 2025 سے 31 جولائی 2026 تک فراہم کی جائیں گی؛
(ii) یہ پروگرام باہمی اتفاق رائے سے توسیع پائے گا؛
(iii) تمام مراعات باہمی اصول اور برابری پر مبنی ہوں گی۔</p>
<p><strong>آرٹیکل 7: پی ٹی اے نفاذ کمیٹی</strong>
ارلی ہارویسٹ پروگرام کی نگرانی کے لیے پی ٹی اے نفاذ کمیٹی قائم کی جائے گی، جو:
(i) افغان وزارتِ صنعت و تجارت  اور پاکستانی وزارتِ تجارت  کی قیادت میں ہوگی؛
(ii) دونوں ممالک کی کسٹمز اور وزارتِ زراعت کے نمائندے شامل کرے گی؛
(iii) ماہانہ اجلاس منعقد کرے گی؛ اور
(iv) پروگرام کی مانیٹرنگ، جانچ اور بہتری کی سفارشات کی ذمہ دار ہوگی۔</p>
<p>جُنید ماکڈا اور ضیاالحق سرحدی نے بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے کہا: “یہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ انتظام ہے، اس لیے نجی شعبے کو ان بات چیت میں شامل نہیں کیا گیا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق ڈرافٹ معاہدہ پہلے ہی اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی سطح پر کلیئر ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آفس میں معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا گیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274964</guid>
      <pubDate>Wed, 23 Jul 2025 08:59:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/2308574466ecb76.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="394" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/2308574466ecb76.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
