<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:29:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:29:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سلامتی کونسل نے پاکستان کی پیش کردہ قرارداد منظور کر لی، عالمی تنازعات کے پُرامن حل پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274958/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کے روز پاکستان کی پیش کردہ قرارداد ”تنازعات کے پُرامن حل کے طریقۂ کار کو مضبوط بنانے“ کے عنوان سے متفقہ طور پر منظور کر لی ہے، جو پاکستان کی ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خارجہ کے مطابق یہ قرارداد ، جس کا باضابطہ عنوان قرارداد 2788 (2025) ہے، اُس اجلاس میں منظور کی گئی جس کی صدارت پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1947667923193020483"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اقوام متحدہ کے چارٹر کے چھٹے باب (Chapter VI) کے تحت بات چیت، سفارت کاری اور تعاون کے ذریعے تنازعات کے حل کے لیے عالمی عزم کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 (2025)، جو پاکستان نے پیش کی، میں رکن ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ تنازعات کو پُرامن ذرائع سے حل کرنے کے طریقوں کو فروغ دیں، تاکہ اختلافات کسی بڑے تصادم میں نہ بدلیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرارداد کے نمایاں نکات میں ثالثی، مصالحت، اعتماد سازی اور مکالمے جیسے پُرامن ذرائع کے استعمال کو فروغ دینے کی ترغیب شامل ہیں جبکہ اس میں رکن ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر موثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی، علاقائی اور ذیلی علاقائی سطحوں پر سفارتی کوششوں اور تعاون کو بروقت بڑھانے کی اپیل کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ علاقائی اور ذیلی علاقائی تنظیموں کے کردار کو اجاگر کیا گیا اور ان کی اقوام متحدہ کے ساتھ بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے قرارداد کی منظوری کو عالمی امن و سلامتی کے فروغ میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا اور کہا ہے کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور کثیرالجہتی تعاون سے پاکستان کی وابستگی کا مظہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ قرارداد پاکستان کے بطور فعال رکن سلامتی کونسل میں مؤثر کردار کی تصدیق کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کے روز پاکستان کی پیش کردہ قرارداد ”تنازعات کے پُرامن حل کے طریقۂ کار کو مضبوط بنانے“ کے عنوان سے متفقہ طور پر منظور کر لی ہے، جو پاکستان کی ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔</strong></p>
<p>وزارت خارجہ کے مطابق یہ قرارداد ، جس کا باضابطہ عنوان قرارداد 2788 (2025) ہے، اُس اجلاس میں منظور کی گئی جس کی صدارت پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1947667923193020483"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہ پیش رفت اقوام متحدہ کے چارٹر کے چھٹے باب (Chapter VI) کے تحت بات چیت، سفارت کاری اور تعاون کے ذریعے تنازعات کے حل کے لیے عالمی عزم کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 (2025)، جو پاکستان نے پیش کی، میں رکن ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ تنازعات کو پُرامن ذرائع سے حل کرنے کے طریقوں کو فروغ دیں، تاکہ اختلافات کسی بڑے تصادم میں نہ بدلیں۔</p>
<p>قرارداد کے نمایاں نکات میں ثالثی، مصالحت، اعتماد سازی اور مکالمے جیسے پُرامن ذرائع کے استعمال کو فروغ دینے کی ترغیب شامل ہیں جبکہ اس میں رکن ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر موثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔</p>
<p>بین الاقوامی، علاقائی اور ذیلی علاقائی سطحوں پر سفارتی کوششوں اور تعاون کو بروقت بڑھانے کی اپیل کی گئی ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ علاقائی اور ذیلی علاقائی تنظیموں کے کردار کو اجاگر کیا گیا اور ان کی اقوام متحدہ کے ساتھ بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔</p>
<p>پاکستان نے قرارداد کی منظوری کو عالمی امن و سلامتی کے فروغ میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا اور کہا ہے کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور کثیرالجہتی تعاون سے پاکستان کی وابستگی کا مظہر ہے۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ قرارداد پاکستان کے بطور فعال رکن سلامتی کونسل میں مؤثر کردار کی تصدیق کرتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274958</guid>
      <pubDate>Tue, 22 Jul 2025 21:20:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/22210827aa2f224.png" type="image/png" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/22210827aa2f224.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
