<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 09:41:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 09:41:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بی وائی ڈی کی شارک 6 پی ایچ ای وی کی آمد پاکستانی مارکیٹ میں موجود خلا کو پُر کرے گی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274957/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بی وائی ڈی کے عہدیداروں اور آٹو سیکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکل (پی ایچ ای وی) کی متعارف کروائی جانے والی گاڑی نہ صرف مارکیٹ میں موجود خلا کو پُر کرے گی بلکہ اپنی آسائش، جدید خصوصیات اور لگژری کے باعث دیگر پک اپ گاڑیوں کے مقابلے میں صارفین کو بھی متوجہ کرے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ آراء کراچی میں منعقدہ ایک میڈیا ورکشاپ کے دوران پیش کی گئیں، جس کا موضوع پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکل (پی ایچ ای وی) ٹیکنالوجی تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی وائی ڈی پاکستان کی جانب سے 25 جولائی کو شارک 6 کو ملک کی بطور پہلی پی ایچ ای وی پک اپ ٹرک لانچ کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک وہیلز کے شریک بانی سنیل منج نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ناقص سڑکوں کے ڈھانچے اور مناسب چارجنگ نیٹ ورک کی عدم موجودگی کے باعث پی ایچ ای وی گاڑی متعارف کروائی جا رہی ہے تاکہ مسافر دونوں، پلگ اِن ہائبرڈ اور انجن، سے فائدہ اٹھا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”مقابلہ گاڑی کی قیمت پر منحصر ہے“، اور اندازہ ظاہر کیا کہ شارک 6 کی قیمت 2 کروڑ روپے سے کم ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب  بی وائی ڈی پاکستان کے نائب صدر برائے سیلز و اسٹریٹجی دانش خالق نے کہا کہ جب صارفین کو انتخاب کا موقع ملتا ہے تو نئی گاڑیاں مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا لیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ”ہماری شارک 6 پی ایچ ای وی ان صارفین کو متوجہ کرے گی جو پہلے ہی بی وائی ڈی کے بین الاقوامی ماڈلز سے واقف ہیں۔ مارکیٹ میں ایک خلا موجود ہے اور ہمارا خیال ہے کہ ہم اسے نہ صرف لگژری اور فیچرز کے لحاظ سے بلکہ ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی پُر کریں گے۔ یہ پی ایچ ای وی سیگمنٹ کی پہلی پک اپ ٹرک ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا ورکشاپ کے دوران پریزنٹیشن دیتے ہوئے دانش خالق نے بتایا کہ پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز (پی ایچ ای وی) ہائبرڈ ڈرائیونگ کے تجربے کو نئے انداز میں متعارف کراتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک بتدریج بہتری نہیں بلکہ ایک بڑی چھلانگ ہے۔ برقی موٹر اصل کام کرتی ہے جبکہ انجن صرف معاونت کرتا ہے، راہنمائی نہیں۔ یہی فرق شہری صارفین کے لیے ڈرائیونگ کے پورے انداز کو بدل دیتا ہے، جو اب زیادہ ذہین اور ماحول دوست آپشنز کی تلاش میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کی کہ پی ایچ ای ویز اور روایتی ہائبرڈ گاڑیوں (ایچ ای ویز) میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ایچ ای ویز زیادہ تر پٹرول انجن پر انحصار کرتی ہیں اور بیٹری کو انجن یا ری جنریٹو بریکنگ کے ذریعے چارج کرتی ہیں جبکہ پی ایچ ای ویز میں بڑی بیٹری نصب ہوتی ہے جو بیرونی ذریعہ سے چارج کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ خصوصیت انہیں بہتر فیول ایفیشنسی اور بغیر رینج پر سمجھوتہ کیے ماحولیاتی فوائد فراہم کرتی ہے۔ یہ گاڑیاں صرف بیٹری پر چلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، یعنی مکمل طور پر برقی گاڑی کے طور پر بھی استعمال ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دانش خالق کے مطابق بی وائی ڈی کی شارک 6 جو  ڈوئل موڈ آف روڈ (ڈی ایم او) پلیٹ فارم پر مبنی ہے، شہری علاقوں جیسے کراچی اور لاہور میں ٹیل پائپ سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں 62 فیصد تک کمی کر سکتی ہے، جو کہ ماحولیاتی آلودگی کے شکار شہروں کیلئے ایک اہم پیش رفت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیاتی فوائد سے بڑھ کر یہ گاڑی ایڈونچر کے شوقین صارفین کو مختلف ٹیرین موڈز جیسے کیچڑ، برف اور ریت میں مکمل کنٹرول فراہم کرتی ہے، جو ہر قسم کے راستے پر اعلیٰ کارکردگی یقینی بناتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ورکشاپ کا مرکز شارک 6 تھی لیکن اصل زور اس بات پر تھا کہ پی ایچ ای ویز پاکستان کی نقل و حمل کے نظام میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی وائی ڈی پاکستان کے کنٹری ہیڈ لی جیان نے کہا ہے کہ کمپنی کا ڈوئل موڈ پلیٹ فارم گزشتہ 20 سال سے زائد عرصے سے تحقیق اور ترقی کے مراحل سے گزر کر آج ایک مکمل اور مؤثر نظام بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ہم نے 2008 میں دنیا کی پہلی بڑی تعداد میں تیار کردہ پلگ اِن ہائبرڈ گاڑی (پی ایچ ای وی) متعارف کروائی تھی۔ عمودی طور پر مربوط سپلائی چین اور مسلسل تحقیق و ترقی کی بدولت ہم نے ایک ایسا پلیٹ فارم تیار کیا ہے جو بیک وقت ذہین بھی ہے اور موثر بھی۔ انجن صرف اس وقت چلتا ہے جب اس کی ضرورت ہو، جس سے طویل فاصلوں کا سفر بے فکر ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لی جیان نے کہا کہ جس نظام کا آغاز بی وائی ڈی نے ایف 3 ڈی ایم گاڑی کے ذریعے کیا (جو دنیا کی پہلی تجارتی سطح پر تیار کی گئی پی ایچ ای وی تھی)، وہ نظام 20 سال سے زیادہ عرصے سے ترقی کے عمل سے گزر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ سپر  ڈوئل موڈ ہائبرڈ پلیٹ فارم کے تحت گاڑی میں بڑی صلاحیت والی پاور بیٹری کو ایک انتہائی موثر شاؤیون 1.5 لیٹر نیچرلی ایسپریٹڈ انجن کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے، جس کی تھرمل ایفیشینسی 46.06 فیصد ہے، جو تجارتی ہائبرڈ انجنوں میں ایک اعلیٰ معیار مانا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بی وائی ڈی شارک 6 نہ صرف پاکستان کی پہلی  پی ایچ ای وی پک اپ ہے بلکہ یہ ایک نئی کیٹیگری متعارف کرا رہی ہے، جو ٹیکنالوجی، فیچرز اور کارکردگی کے حوالے سے ایک نئی جہت فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بی وائی ڈی کے عہدیداروں اور آٹو سیکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکل (پی ایچ ای وی) کی متعارف کروائی جانے والی گاڑی نہ صرف مارکیٹ میں موجود خلا کو پُر کرے گی بلکہ اپنی آسائش، جدید خصوصیات اور لگژری کے باعث دیگر پک اپ گاڑیوں کے مقابلے میں صارفین کو بھی متوجہ کرے گی۔</strong></p>
<p>یہ آراء کراچی میں منعقدہ ایک میڈیا ورکشاپ کے دوران پیش کی گئیں، جس کا موضوع پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکل (پی ایچ ای وی) ٹیکنالوجی تھا۔</p>
<p>بی وائی ڈی پاکستان کی جانب سے 25 جولائی کو شارک 6 کو ملک کی بطور پہلی پی ایچ ای وی پک اپ ٹرک لانچ کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>پاک وہیلز کے شریک بانی سنیل منج نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ناقص سڑکوں کے ڈھانچے اور مناسب چارجنگ نیٹ ورک کی عدم موجودگی کے باعث پی ایچ ای وی گاڑی متعارف کروائی جا رہی ہے تاکہ مسافر دونوں، پلگ اِن ہائبرڈ اور انجن، سے فائدہ اٹھا سکیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”مقابلہ گاڑی کی قیمت پر منحصر ہے“، اور اندازہ ظاہر کیا کہ شارک 6 کی قیمت 2 کروڑ روپے سے کم ہو سکتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب  بی وائی ڈی پاکستان کے نائب صدر برائے سیلز و اسٹریٹجی دانش خالق نے کہا کہ جب صارفین کو انتخاب کا موقع ملتا ہے تو نئی گاڑیاں مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا لیتی ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ”ہماری شارک 6 پی ایچ ای وی ان صارفین کو متوجہ کرے گی جو پہلے ہی بی وائی ڈی کے بین الاقوامی ماڈلز سے واقف ہیں۔ مارکیٹ میں ایک خلا موجود ہے اور ہمارا خیال ہے کہ ہم اسے نہ صرف لگژری اور فیچرز کے لحاظ سے بلکہ ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی پُر کریں گے۔ یہ پی ایچ ای وی سیگمنٹ کی پہلی پک اپ ٹرک ہے۔“</p>
<p>میڈیا ورکشاپ کے دوران پریزنٹیشن دیتے ہوئے دانش خالق نے بتایا کہ پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز (پی ایچ ای وی) ہائبرڈ ڈرائیونگ کے تجربے کو نئے انداز میں متعارف کراتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک بتدریج بہتری نہیں بلکہ ایک بڑی چھلانگ ہے۔ برقی موٹر اصل کام کرتی ہے جبکہ انجن صرف معاونت کرتا ہے، راہنمائی نہیں۔ یہی فرق شہری صارفین کے لیے ڈرائیونگ کے پورے انداز کو بدل دیتا ہے، جو اب زیادہ ذہین اور ماحول دوست آپشنز کی تلاش میں ہیں۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کی کہ پی ایچ ای ویز اور روایتی ہائبرڈ گاڑیوں (ایچ ای ویز) میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ایچ ای ویز زیادہ تر پٹرول انجن پر انحصار کرتی ہیں اور بیٹری کو انجن یا ری جنریٹو بریکنگ کے ذریعے چارج کرتی ہیں جبکہ پی ایچ ای ویز میں بڑی بیٹری نصب ہوتی ہے جو بیرونی ذریعہ سے چارج کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ خصوصیت انہیں بہتر فیول ایفیشنسی اور بغیر رینج پر سمجھوتہ کیے ماحولیاتی فوائد فراہم کرتی ہے۔ یہ گاڑیاں صرف بیٹری پر چلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، یعنی مکمل طور پر برقی گاڑی کے طور پر بھی استعمال ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>دانش خالق کے مطابق بی وائی ڈی کی شارک 6 جو  ڈوئل موڈ آف روڈ (ڈی ایم او) پلیٹ فارم پر مبنی ہے، شہری علاقوں جیسے کراچی اور لاہور میں ٹیل پائپ سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں 62 فیصد تک کمی کر سکتی ہے، جو کہ ماحولیاتی آلودگی کے شکار شہروں کیلئے ایک اہم پیش رفت ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیاتی فوائد سے بڑھ کر یہ گاڑی ایڈونچر کے شوقین صارفین کو مختلف ٹیرین موڈز جیسے کیچڑ، برف اور ریت میں مکمل کنٹرول فراہم کرتی ہے، جو ہر قسم کے راستے پر اعلیٰ کارکردگی یقینی بناتی ہے۔</p>
<p>اگرچہ ورکشاپ کا مرکز شارک 6 تھی لیکن اصل زور اس بات پر تھا کہ پی ایچ ای ویز پاکستان کی نقل و حمل کے نظام میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہیں۔</p>
<p>بی وائی ڈی پاکستان کے کنٹری ہیڈ لی جیان نے کہا ہے کہ کمپنی کا ڈوئل موڈ پلیٹ فارم گزشتہ 20 سال سے زائد عرصے سے تحقیق اور ترقی کے مراحل سے گزر کر آج ایک مکمل اور مؤثر نظام بن چکا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ہم نے 2008 میں دنیا کی پہلی بڑی تعداد میں تیار کردہ پلگ اِن ہائبرڈ گاڑی (پی ایچ ای وی) متعارف کروائی تھی۔ عمودی طور پر مربوط سپلائی چین اور مسلسل تحقیق و ترقی کی بدولت ہم نے ایک ایسا پلیٹ فارم تیار کیا ہے جو بیک وقت ذہین بھی ہے اور موثر بھی۔ انجن صرف اس وقت چلتا ہے جب اس کی ضرورت ہو، جس سے طویل فاصلوں کا سفر بے فکر ہو جاتا ہے۔</p>
<p>لی جیان نے کہا کہ جس نظام کا آغاز بی وائی ڈی نے ایف 3 ڈی ایم گاڑی کے ذریعے کیا (جو دنیا کی پہلی تجارتی سطح پر تیار کی گئی پی ایچ ای وی تھی)، وہ نظام 20 سال سے زیادہ عرصے سے ترقی کے عمل سے گزر رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ سپر  ڈوئل موڈ ہائبرڈ پلیٹ فارم کے تحت گاڑی میں بڑی صلاحیت والی پاور بیٹری کو ایک انتہائی موثر شاؤیون 1.5 لیٹر نیچرلی ایسپریٹڈ انجن کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے، جس کی تھرمل ایفیشینسی 46.06 فیصد ہے، جو تجارتی ہائبرڈ انجنوں میں ایک اعلیٰ معیار مانا جاتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بی وائی ڈی شارک 6 نہ صرف پاکستان کی پہلی  پی ایچ ای وی پک اپ ہے بلکہ یہ ایک نئی کیٹیگری متعارف کرا رہی ہے، جو ٹیکنالوجی، فیچرز اور کارکردگی کے حوالے سے ایک نئی جہت فراہم کرے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274957</guid>
      <pubDate>Tue, 22 Jul 2025 20:44:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/2220512147bea69.png" type="image/png" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/2220512147bea69.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
