<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 11:27:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 11:27:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کام سے چھٹی کرنی پڑی، کراچی والوں کو اجرک نمبر پلیٹس کے حصول میں مشکلات کا سامنا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274945/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;محمد جمال نے 2022 میں بینک قرض کے ذریعے اپنی آلٹو خریدی، اس امید کے ساتھ کہ گاڑی کی ملکیت کا جوش ہموار رسمی کارروائیوں سے مطابقت رکھے گا۔ لیکن تین سال بعد بھی اسے ایکسائز کی طرف سے جاری کردہ نمبر پلیٹ نہیں ملی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمال نے مایوسی کے عالم میں کہا کہ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ نمبر پلیٹ مجھے دی جائے گی یا بینک کو۔ اس کے اصل کاغذات بینک کے پاس اس وقت تک مقفل ہیں جب تک قرض ختم نہیں ہوتا، اور ایکسائز آفس کو انہی کاغذات کی ضرورت ہے نمبر پلیٹ جاری کرنے کے لیے، جمال خود کو ایک بیوروکریٹک بند گلی میں پاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ اکیلا نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پورے کراچی میں، کاروباری مالکان سے لے کر ڈلیوری رائیڈرز تک، عام شہری سندھ حکومت کی جانب سے پرانی نمبر پلیٹس کو نئی، اجرک ڈیزائن والی پلیٹس سے تبدیل کرنے کی مہم کے سبب پیدا ہونے والی الجھن اور تاخیر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایک وسیع تر سیف سٹی منصوبے کا حصہ ہے، لوگ کہتے ہیں کہ یہ عمل محفوظ یا ہموار بالکل بھی نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمیر عالم، ایک انٹرپرینیور، نے بھی 2022 میں شو روم سے گاڑی نکالی اور کچھ ہی دیر بعد اسے رجسٹر کرایا۔ تب سے اس نے بس وہی سنا ہے جسے اس نے ”ٹوٹی ہوئی یقین دہانیاں“ کہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مجھے بتایا کہ نمبر پلیٹ اپریل 2025 تک آجائے گی۔ پھر مئی میں میں نے فالو اپ کیا، اور اب وہ کہہ رہے ہیں جولائی میں،“ انہوں نے بزنس ریکارڈر کو بتایا۔ عمیر عالم نے ایک بار رجسٹریشن فیس ادا کی، لیکن جب حکومت نے درمیان میں اجرک پلیٹس متعارف کرائیں تو اسے دوبارہ ادائیگی کا کہا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عابد حسین، ایک ڈلیوری بوائے جو نمبر پلیٹ کے لیے درخواست دینے ایکسائز آفس آیا تھا، نے کہا کہ یہ دفتر کا اس کا دوسرا دورہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے شکوہ کیا کہ مجھے پھر سے کام چھوڑنا پڑا، لیکن آج بھی زیادہ رش کی وجہ سے درخواست نہیں دے سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف، محمد قیصر، ایک نجی ملازم، نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اس نے ترجیحاً آن لائن درخواست دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے بتایا کہ آن لائن درخواست دینے کے بعد، مجھے نہ تو ادائیگی کی تصدیقی ایس ایم ایس ملی اور نہ ہی کوئی اطلاع کہ نمبر پلیٹ کب پہنچائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد قیصر نے کہا کہ ٹریکنگ آئی ڈی صرف یہ دکھا رہی تھی کہ پلیٹ پرنٹ ہوئی یا بھیجی گئی۔ یہ وضاحت نہیں کرتا کہ اصل میں کب وصول ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ آن لائن ادائیگی کے لیے گھر پر ڈیلیوری کا کوئی آپشن دستیاب نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک موقع پر، میں نے کورئیر آپشن دیکھا، لیکن جب میں نے اس پر کلک کیا تو یہ غلط نکلا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;2 کروڑ سے زائد آبادی کیلئے دو دفاتر&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر، مردم شماری 2023 کے مطابق تقریباً 2.03 کروڑ کی آبادی رکھتا ہے۔ پھر بھی، اس وقت صرف دو ایکسائز آفس ہیں — ایک حسن اسکوائر پر اور دوسرا کلفٹن میں — جو گاڑیوں کی رجسٹریشن اور نئی نمبر پلیٹس سے متعلق خدمات فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب نمائندے نے ان میں سے ایک دفتر کا دورہ کیا تو کئی لوگ کاؤنٹرز اور عملے کی کمی پر شکایت کرتے نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی آبادی والے شہر کے لیے صرف دو رجسٹریشن دفاتر قائم کرنا ناقابل فہم ہے اور اس پر سخت ڈیڈ لائن مسلط کرنا غیر معقول ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہریوں نے رجسٹریشن دفاتر کی تعداد بڑھانے اور 14 اگست کی ڈیڈ لائن میں توسیع کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر کے باہر ایجنٹوں کو بھی لوگوں کی مشکلات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نمائندے نے، شناخت ظاہر کیے بغیر، دفتر کے باہر کھڑے ایک ایجنٹ سے پوچھا کہ نمبر پلیٹ کا کام کروانے کے لیے وہ کتنا چارج کرے گا۔ ایجنٹ نے جواب دیا کہ ایک کار کے لیے 10,000 روپے اور بائیک کے لیے 7,000 روپے لگیں گے، جس میں ڈیلیوری کا وقت ایک سے ڈیڑھ ماہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، ایکسائز دفاتر سے کچھ ہی فاصلے پر مقامی دکانیں اجرک ڈیزائن والی ڈپلیکیٹ نمبر پلیٹس بنانا جاری رکھے ہوئے ہیں، باوجود اس کے کہ سندھ کے وزیر برائے ایکسائز و ٹیکسیشن مکیش کمار چاؤلہ نے خبردار کیا ہے کہ صرف ایکسائز دفاتر ہی نئی اجرک ڈیزائن والی نمبر پلیٹس جاری کر سکتے ہیں اور باہر کے ایجنٹوں یا دکانوں سے جاری کردہ پلیٹس کو درست نہیں سمجھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک مقامی کاریگر جو ڈپلیکیٹ نمبر پلیٹس بناتا ہے، نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اس کے زیادہ تر گاہک طلباء یا ڈلیوری رائیڈرز ہیں۔ کاریگر کے مطابق، لوگ سمجھتے ہیں کہ پولیس کا نفاذ صرف بڑی سڑکوں تک محدود ہے، جبکہ طلباء زیادہ تر اپنے محلوں میں بائیک چلاتے ہیں، اس لیے وہ ڈپلیکیٹ پلیٹس کو ترجیح دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بائیک کے لیے ڈپلیکیٹ پلیٹ کی قیمت تقریباً 500 سے 600 روپے ہے، جبکہ سرکاری ایکسائز پلیٹ کی قیمت تقریباً 2,000 روپے ہے۔ محدود مالی وسائل اور وقت کی وجہ سے رائیڈرز ڈپلیکیٹ پلیٹس کا انتخاب کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اجرک ڈیزائن نمبر پلیٹس ہی کیوں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ماہ کے شروع میں، وزیرِ ایکسائز مکیش چاؤلہ نے وضاحت کی کہ اجرک نمبر پلیٹس کیوں اہم ہیں، انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی سے مزین نمبر پلیٹس مکمل طور پر نافذ نہیں ہوتیں، سیف سٹی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے، صوبائی وزیر نے پرانی یا کھلی مارکیٹ/دکانوں میں تیار کردہ نمبر پلیٹس کے استعمال کو خارج از امکان قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجرک نمبر پلیٹس کے استعمال پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے نمبر پلیٹ کی خصوصیات بیان کیں کہ ان میں پس منظر میں دھاگے، تھری ڈی ہولوگرامز اور بارکوڈز شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیف سٹی کیمرے رات میں بھی پلیٹ نمبر پڑھ سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مکیش چاؤلہ نے بتایا کہ ایکسائز ڈپارٹمنٹ نے تین مختلف رنگوں کی نمبر پلیٹس متعارف کرائی ہیں: نجی گاڑیوں اور بائیکس کے لیے سفید پلیٹس، کمرشل گاڑیوں کے لیے پیلی پلیٹس، اور سرکاری گاڑیوں کے لیے سبز پلیٹس۔ انہوں نے بتایا کہ گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کی فیس — چاہے سرکاری ہو یا کمرشل — 2,450 روپے اور دو پہیہ گاڑیوں کے لیے 1,850 روپے مقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>محمد جمال نے 2022 میں بینک قرض کے ذریعے اپنی آلٹو خریدی، اس امید کے ساتھ کہ گاڑی کی ملکیت کا جوش ہموار رسمی کارروائیوں سے مطابقت رکھے گا۔ لیکن تین سال بعد بھی اسے ایکسائز کی طرف سے جاری کردہ نمبر پلیٹ نہیں ملی۔</strong></p>
<p>جمال نے مایوسی کے عالم میں کہا کہ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ نمبر پلیٹ مجھے دی جائے گی یا بینک کو۔ اس کے اصل کاغذات بینک کے پاس اس وقت تک مقفل ہیں جب تک قرض ختم نہیں ہوتا، اور ایکسائز آفس کو انہی کاغذات کی ضرورت ہے نمبر پلیٹ جاری کرنے کے لیے، جمال خود کو ایک بیوروکریٹک بند گلی میں پاتا ہے۔</p>
<p>وہ اکیلا نہیں ہے۔</p>
<p>پورے کراچی میں، کاروباری مالکان سے لے کر ڈلیوری رائیڈرز تک، عام شہری سندھ حکومت کی جانب سے پرانی نمبر پلیٹس کو نئی، اجرک ڈیزائن والی پلیٹس سے تبدیل کرنے کی مہم کے سبب پیدا ہونے والی الجھن اور تاخیر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایک وسیع تر سیف سٹی منصوبے کا حصہ ہے، لوگ کہتے ہیں کہ یہ عمل محفوظ یا ہموار بالکل بھی نہیں رہا۔</p>
<p>عمیر عالم، ایک انٹرپرینیور، نے بھی 2022 میں شو روم سے گاڑی نکالی اور کچھ ہی دیر بعد اسے رجسٹر کرایا۔ تب سے اس نے بس وہی سنا ہے جسے اس نے ”ٹوٹی ہوئی یقین دہانیاں“ کہا۔</p>
<p>انہوں نے مجھے بتایا کہ نمبر پلیٹ اپریل 2025 تک آجائے گی۔ پھر مئی میں میں نے فالو اپ کیا، اور اب وہ کہہ رہے ہیں جولائی میں،“ انہوں نے بزنس ریکارڈر کو بتایا۔ عمیر عالم نے ایک بار رجسٹریشن فیس ادا کی، لیکن جب حکومت نے درمیان میں اجرک پلیٹس متعارف کرائیں تو اسے دوبارہ ادائیگی کا کہا گیا۔</p>
<p>عابد حسین، ایک ڈلیوری بوائے جو نمبر پلیٹ کے لیے درخواست دینے ایکسائز آفس آیا تھا، نے کہا کہ یہ دفتر کا اس کا دوسرا دورہ تھا۔</p>
<p>انہوں نے شکوہ کیا کہ مجھے پھر سے کام چھوڑنا پڑا، لیکن آج بھی زیادہ رش کی وجہ سے درخواست نہیں دے سکا۔</p>
<p>دوسری طرف، محمد قیصر، ایک نجی ملازم، نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اس نے ترجیحاً آن لائن درخواست دی۔</p>
<p>تاہم انہوں نے بتایا کہ آن لائن درخواست دینے کے بعد، مجھے نہ تو ادائیگی کی تصدیقی ایس ایم ایس ملی اور نہ ہی کوئی اطلاع کہ نمبر پلیٹ کب پہنچائی جائے گی۔</p>
<p>محمد قیصر نے کہا کہ ٹریکنگ آئی ڈی صرف یہ دکھا رہی تھی کہ پلیٹ پرنٹ ہوئی یا بھیجی گئی۔ یہ وضاحت نہیں کرتا کہ اصل میں کب وصول ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ آن لائن ادائیگی کے لیے گھر پر ڈیلیوری کا کوئی آپشن دستیاب نہیں ہے۔</p>
<p>ایک موقع پر، میں نے کورئیر آپشن دیکھا، لیکن جب میں نے اس پر کلک کیا تو یہ غلط نکلا۔</p>
<p><strong>2 کروڑ سے زائد آبادی کیلئے دو دفاتر</strong></p>
<p>کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر، مردم شماری 2023 کے مطابق تقریباً 2.03 کروڑ کی آبادی رکھتا ہے۔ پھر بھی، اس وقت صرف دو ایکسائز آفس ہیں — ایک حسن اسکوائر پر اور دوسرا کلفٹن میں — جو گاڑیوں کی رجسٹریشن اور نئی نمبر پلیٹس سے متعلق خدمات فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>جب نمائندے نے ان میں سے ایک دفتر کا دورہ کیا تو کئی لوگ کاؤنٹرز اور عملے کی کمی پر شکایت کرتے نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی آبادی والے شہر کے لیے صرف دو رجسٹریشن دفاتر قائم کرنا ناقابل فہم ہے اور اس پر سخت ڈیڈ لائن مسلط کرنا غیر معقول ہے۔</p>
<p>شہریوں نے رجسٹریشن دفاتر کی تعداد بڑھانے اور 14 اگست کی ڈیڈ لائن میں توسیع کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>دفتر کے باہر ایجنٹوں کو بھی لوگوں کی مشکلات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دیکھا گیا۔</p>
<p>نمائندے نے، شناخت ظاہر کیے بغیر، دفتر کے باہر کھڑے ایک ایجنٹ سے پوچھا کہ نمبر پلیٹ کا کام کروانے کے لیے وہ کتنا چارج کرے گا۔ ایجنٹ نے جواب دیا کہ ایک کار کے لیے 10,000 روپے اور بائیک کے لیے 7,000 روپے لگیں گے، جس میں ڈیلیوری کا وقت ایک سے ڈیڑھ ماہ ہوگا۔</p>
<p>دریں اثنا، ایکسائز دفاتر سے کچھ ہی فاصلے پر مقامی دکانیں اجرک ڈیزائن والی ڈپلیکیٹ نمبر پلیٹس بنانا جاری رکھے ہوئے ہیں، باوجود اس کے کہ سندھ کے وزیر برائے ایکسائز و ٹیکسیشن مکیش کمار چاؤلہ نے خبردار کیا ہے کہ صرف ایکسائز دفاتر ہی نئی اجرک ڈیزائن والی نمبر پلیٹس جاری کر سکتے ہیں اور باہر کے ایجنٹوں یا دکانوں سے جاری کردہ پلیٹس کو درست نہیں سمجھا جائے گا۔</p>
<p>ایک مقامی کاریگر جو ڈپلیکیٹ نمبر پلیٹس بناتا ہے، نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اس کے زیادہ تر گاہک طلباء یا ڈلیوری رائیڈرز ہیں۔ کاریگر کے مطابق، لوگ سمجھتے ہیں کہ پولیس کا نفاذ صرف بڑی سڑکوں تک محدود ہے، جبکہ طلباء زیادہ تر اپنے محلوں میں بائیک چلاتے ہیں، اس لیے وہ ڈپلیکیٹ پلیٹس کو ترجیح دیتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بائیک کے لیے ڈپلیکیٹ پلیٹ کی قیمت تقریباً 500 سے 600 روپے ہے، جبکہ سرکاری ایکسائز پلیٹ کی قیمت تقریباً 2,000 روپے ہے۔ محدود مالی وسائل اور وقت کی وجہ سے رائیڈرز ڈپلیکیٹ پلیٹس کا انتخاب کرتے ہیں۔</p>
<p><strong>اجرک ڈیزائن نمبر پلیٹس ہی کیوں؟</strong></p>
<p>اس ماہ کے شروع میں، وزیرِ ایکسائز مکیش چاؤلہ نے وضاحت کی کہ اجرک نمبر پلیٹس کیوں اہم ہیں، انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی سے مزین نمبر پلیٹس مکمل طور پر نافذ نہیں ہوتیں، سیف سٹی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔</p>
<p>بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے، صوبائی وزیر نے پرانی یا کھلی مارکیٹ/دکانوں میں تیار کردہ نمبر پلیٹس کے استعمال کو خارج از امکان قرار دیا۔</p>
<p>اجرک نمبر پلیٹس کے استعمال پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے نمبر پلیٹ کی خصوصیات بیان کیں کہ ان میں پس منظر میں دھاگے، تھری ڈی ہولوگرامز اور بارکوڈز شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیف سٹی کیمرے رات میں بھی پلیٹ نمبر پڑھ سکیں گے۔</p>
<p>مکیش چاؤلہ نے بتایا کہ ایکسائز ڈپارٹمنٹ نے تین مختلف رنگوں کی نمبر پلیٹس متعارف کرائی ہیں: نجی گاڑیوں اور بائیکس کے لیے سفید پلیٹس، کمرشل گاڑیوں کے لیے پیلی پلیٹس، اور سرکاری گاڑیوں کے لیے سبز پلیٹس۔ انہوں نے بتایا کہ گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کی فیس — چاہے سرکاری ہو یا کمرشل — 2,450 روپے اور دو پہیہ گاڑیوں کے لیے 1,850 روپے مقرر کی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274945</guid>
      <pubDate>Tue, 22 Jul 2025 14:04:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمادالدین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/221402486681146.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/221402486681146.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
