<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:14:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:14:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آسٹریائی کمپنی نے ایم ایل- ون منصوبے میں دلچسپی کا اظہار کیا، سینیٹ کمیٹی میں انکشاف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274928/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کے چیئرمین سینیٹر جام سیف اللہ خان نے پیر کے روز انکشاف کیا کہ آسٹریا میں تعینات پاکستانی سفیر نے حال ہی میں پاکستانی سینیٹرز کے ایک وفد کو آگاہ کیا ہے کہ ایک آسٹریائی کمپنی نے ایم ایل - ون (ML-1) منصوبے کی تعمیر میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جام سیف اللہ خان نے وزارت ریلوے کو مشورہ دیا کہ اس آپشن پر غور کیا جائے۔ جواب میں سیکریٹری ریلوے نے وضاحت کی کہ چین کے علاوہ کسی بھی فریق کو منصوبے کی تعمیر میں شامل کرنے کے لیے بین الاقوامی بڈنگ ضروری ہوگی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکریٹری ریلوے نے کمیٹی کو بتایا کہ پنجاب حکومت کے ریلوے نیٹ ورک میں سرمایہ کاری کے لیے پاکستان ریلوے نے 8 روٹس شناخت کیے ہیں، جن میں راولپنڈی-لاہور روٹ بھی شامل ہے، اور پنجاب حکومت نے 350 ارب روپے سرمایہ کاری کی تیاری ظاہر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر شہادت اعوان نے گزشتہ 5 برسوں میں مالی نقصانات، بدعنوانی اور ریلوے حادثات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے وزارت پر الزام لگایا کہ وہ کمیٹی کو بار بار غلط اور تاخیر سے معلومات فراہم کرتی رہی ہے، جو پارلیمانی ہدایات کی خلاف ورزی اور استحقاق کی توہین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تین یاد دہانیوں اور مراعات کمیٹی کو ریفرل کے باوجود درست اور مکمل اعدادوشمار جمع نہیں کروائے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہادت اعوان نے زور دیا کہ ایسے حکام کی نشاندہی کی جائے جو کمیٹی کو گمراہ کرنے اور بروقت معلومات فراہم نہ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ 3,200 سے زائد ایف آئی آرز درج کی گئیں، لیکن درست اعداد و شمار تاحال فراہم نہیں کیے گئے، حالانکہ پچھلی میٹنگز میں 15 دن میں ریکارڈ اپڈیٹ کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام سیف اللہ خان نے وزارت کی جانب سے کمیٹی کی ہدایات پر عدم سنجیدگی پر گہری تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ غلط یا نامکمل ڈیٹا کمیٹی کے احتسابی کردار میں رکاوٹ بنتا ہے اور اندرونی جوابدہی پر سوال اٹھاتا ہے۔ کمیٹی نے وزارت کو ہدایت دی کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے کر ذمہ دار حکام کے خلاف کارروائی کی جائے اور آئندہ اجلاس سے قبل تمام ایف آئی آرز، تحقیقات، عدالتی فیصلوں اور ریکوری کی مکمل تفصیلات جمع کرائی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ 5 سالوں میں 3,230 ایف آئی آرز درج کی گئیں، جن میں چوری، خردبرد اور اختیارات کے غلط استعمال کے کیسز شامل ہیں، جن میں سے 212.883 ملین روپے کے نقصان میں سے 109.487 ملین روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔ سیکریٹری ریلوے نے اعتراف کیا کہ پہلے رپورٹس کیلنڈر اور مالی سالوں کے فرق کی وجہ سے متضاد تھیں، تاہم اب ڈیٹا درست کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق 1,555 ملزمان کو سزا سنائی گئی، 309 بری ہوئے اور 1,080 کیسز زیر سماعت ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے ایم ایل-ون کے تحت کراچی-روہڑی ریلوے لائن کا بھی جائزہ لیا، جسے قومی ریلوے نیٹ ورک میں ایک اسٹریٹجک رکاوٹ قرار دیا گیا۔ سیکریٹری ریلوے نے آگاہ کیا کہ وزارت ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ متبادل فنانسنگ آپشنز تلاش کر رہی ہے، جبکہ چیئرمین نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے امکانات پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں ریلوے کی قیمتی زمینوں پر قبضے، خاص طور پر کراچی میں، پر تشویش ظاہر کی گئی۔ چیئرمین نے ہدایت دی کہ قبضہ شدہ زمین کی شفاف بازیابی اور استعمال سے حاصل آمدنی کو ریلوے کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے بلوچستان جیسے پسماندہ علاقوں میں ٹرین سروسز کی کمی اور فرسودہ انفراسٹرکچر پر بھی تشویش ظاہر کی۔ چیئرمین نے زور دیا کہ آپریشنل استعداد کار کو بہتر بنایا جائے اور تمام صوبوں میں خدمات کی مساوی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اجلاس کے اختتام پر طے کیا گیا کہ آئندہ اجلاس آئندہ ماہ کے اختتام سے قبل منعقد ہوگا، جس میں تمام ریکارڈز، تادیبی کارروائیوں اور جاری منصوبوں کی پیش رفت پیش کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کے چیئرمین سینیٹر جام سیف اللہ خان نے پیر کے روز انکشاف کیا کہ آسٹریا میں تعینات پاکستانی سفیر نے حال ہی میں پاکستانی سینیٹرز کے ایک وفد کو آگاہ کیا ہے کہ ایک آسٹریائی کمپنی نے ایم ایل - ون (ML-1) منصوبے کی تعمیر میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جام سیف اللہ خان نے وزارت ریلوے کو مشورہ دیا کہ اس آپشن پر غور کیا جائے۔ جواب میں سیکریٹری ریلوے نے وضاحت کی کہ چین کے علاوہ کسی بھی فریق کو منصوبے کی تعمیر میں شامل کرنے کے لیے بین الاقوامی بڈنگ ضروری ہوگی۔</strong></p>
<p>سیکریٹری ریلوے نے کمیٹی کو بتایا کہ پنجاب حکومت کے ریلوے نیٹ ورک میں سرمایہ کاری کے لیے پاکستان ریلوے نے 8 روٹس شناخت کیے ہیں، جن میں راولپنڈی-لاہور روٹ بھی شامل ہے، اور پنجاب حکومت نے 350 ارب روپے سرمایہ کاری کی تیاری ظاہر کی ہے۔</p>
<p>بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر شہادت اعوان نے گزشتہ 5 برسوں میں مالی نقصانات، بدعنوانی اور ریلوے حادثات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے وزارت پر الزام لگایا کہ وہ کمیٹی کو بار بار غلط اور تاخیر سے معلومات فراہم کرتی رہی ہے، جو پارلیمانی ہدایات کی خلاف ورزی اور استحقاق کی توہین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تین یاد دہانیوں اور مراعات کمیٹی کو ریفرل کے باوجود درست اور مکمل اعدادوشمار جمع نہیں کروائے گئے۔</p>
<p>شہادت اعوان نے زور دیا کہ ایسے حکام کی نشاندہی کی جائے جو کمیٹی کو گمراہ کرنے اور بروقت معلومات فراہم نہ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ 3,200 سے زائد ایف آئی آرز درج کی گئیں، لیکن درست اعداد و شمار تاحال فراہم نہیں کیے گئے، حالانکہ پچھلی میٹنگز میں 15 دن میں ریکارڈ اپڈیٹ کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔</p>
<p>جام سیف اللہ خان نے وزارت کی جانب سے کمیٹی کی ہدایات پر عدم سنجیدگی پر گہری تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ غلط یا نامکمل ڈیٹا کمیٹی کے احتسابی کردار میں رکاوٹ بنتا ہے اور اندرونی جوابدہی پر سوال اٹھاتا ہے۔ کمیٹی نے وزارت کو ہدایت دی کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے کر ذمہ دار حکام کے خلاف کارروائی کی جائے اور آئندہ اجلاس سے قبل تمام ایف آئی آرز، تحقیقات، عدالتی فیصلوں اور ریکوری کی مکمل تفصیلات جمع کرائی جائیں۔</p>
<p>وزارت نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ 5 سالوں میں 3,230 ایف آئی آرز درج کی گئیں، جن میں چوری، خردبرد اور اختیارات کے غلط استعمال کے کیسز شامل ہیں، جن میں سے 212.883 ملین روپے کے نقصان میں سے 109.487 ملین روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔ سیکریٹری ریلوے نے اعتراف کیا کہ پہلے رپورٹس کیلنڈر اور مالی سالوں کے فرق کی وجہ سے متضاد تھیں، تاہم اب ڈیٹا درست کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق 1,555 ملزمان کو سزا سنائی گئی، 309 بری ہوئے اور 1,080 کیسز زیر سماعت ہیں۔</p>
<p>کمیٹی نے ایم ایل-ون کے تحت کراچی-روہڑی ریلوے لائن کا بھی جائزہ لیا، جسے قومی ریلوے نیٹ ورک میں ایک اسٹریٹجک رکاوٹ قرار دیا گیا۔ سیکریٹری ریلوے نے آگاہ کیا کہ وزارت ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ متبادل فنانسنگ آپشنز تلاش کر رہی ہے، جبکہ چیئرمین نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے امکانات پر زور دیا۔</p>
<p>اجلاس میں ریلوے کی قیمتی زمینوں پر قبضے، خاص طور پر کراچی میں، پر تشویش ظاہر کی گئی۔ چیئرمین نے ہدایت دی کہ قبضہ شدہ زمین کی شفاف بازیابی اور استعمال سے حاصل آمدنی کو ریلوے کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جائے۔</p>
<p>کمیٹی نے بلوچستان جیسے پسماندہ علاقوں میں ٹرین سروسز کی کمی اور فرسودہ انفراسٹرکچر پر بھی تشویش ظاہر کی۔ چیئرمین نے زور دیا کہ آپریشنل استعداد کار کو بہتر بنایا جائے اور تمام صوبوں میں خدمات کی مساوی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اجلاس کے اختتام پر طے کیا گیا کہ آئندہ اجلاس آئندہ ماہ کے اختتام سے قبل منعقد ہوگا، جس میں تمام ریکارڈز، تادیبی کارروائیوں اور جاری منصوبوں کی پیش رفت پیش کی جائے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274928</guid>
      <pubDate>Tue, 22 Jul 2025 09:50:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالرشید آزاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/2209485124d4818.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/2209485124d4818.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
