<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش: اسکول پر لڑاکا طیارہ گرنے سے 20 افراد جاں بحق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274914/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلہ دیش کی فضائیہ کا ایک لڑاکا طیارہ پیر کے روز دارالحکومت ڈھاکہ کے ایک اسکول پر گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد جاں بحق اور 171 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ ملک کی چند دہائیوں کی بدترین فضائی حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ چینی ساختہ ایف-7 بی جے آئی (F-7 BJI) تھا، جو پرواز کے دوران تکنیکی خرابی کا شکار ہو کر مائل اسٹون اسکول اینڈ کالج کی عمارت سے جا ٹکرایا جبکہ حادثے کے وقت متعدد طلبہ ابھی کلاسز سے باہر نکلے ہی تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی ترجمان کے بیان کے مطابق حادثے میں طیارے کے پائلٹ سمیت 20 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ 171 زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موقع پر موجود اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر نے بتایا کہ ریسکیو اہلکار زخمی طلبہ کو اسٹریچرز پر اٹھا کر ایمبولینسز میں منتقل کر رہے تھے جب کہ فوجی عملہ ملبے کو ہٹا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;18 سالہ طالبعلم شفیع الرحمٰن شفی نے اے ایف پی کو بتایا کہ دو لڑاکا طیارے فضا میں تھے اور اچانک ان میں سے ایک طیارہ جونیئرز کے کھیل کے میدان میں گر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ایک زوردار دھماکہ ہوا، زمین ہل گئی جیسے زلزلہ آ گیا ہو۔ پھر آگ لگ گئی اور کچھ دیر بعد فوجی اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حادثہ نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنا بلکہ تعلیمی ادارے اور اس کے طلبہ کے لیے گہرے صدمے اور المناک سانحے کی صورت میں یاد رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حادثے کا شکار ہونے والا میل اسٹون اسکول اینڈ کالج ایک معروف نجی تعلیمی ادارہ ہے، جو نرسری سے لے کر سینئر سیکنڈری تک تعلیم فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈھاکہ کے نیشنل برن اینڈ پلاسٹک سرجری انسٹیٹیوٹ کے جوائنٹ ڈائریکٹر محمد معروف اسلام نے بتایا کہ
”زیادہ تر زخمیوں کی عمریں آٹھ سے چودہ سال کے درمیان ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاں بحق اور زخمی ہونے والے بچوں کے غمزدہ رشتہ داروں کی بڑی تعداد اسپتال پہنچ گئی، جب کہ درجنوں رضا کار خون عطیہ کرنے کے لیے قطار میں کھڑے نظر آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 سالہ تفضل حسین نے جب یہ سنا کہ ان کا چھوٹا کزن جاں بحق ہو گیا ہے تو وہ زار و قطار رونے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہم نے دیوانہ وار مختلف اسپتالوں میں اپنے کزن کو تلاش کیا۔ وہ اسکول میں آٹھویں جماعت کا طالبعلم تھا۔
آخرکار ہمیں اس کی لاش ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی بیان کے مطابق پائلٹ ایک معمول کی تربیتی پرواز پر تھا جب طیارے میں مبینہ طور پر تکنیکی خرابی پیدا ہوئی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حادثے کی اصل وجہ تاحال تحقیقات کے دائرہ کار میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق پائلٹ نے گنجان آباد علاقوں سے طیارہ دور لے جانے کی بھرپور کوشش کی، مگر تمام تر کوششوں کے باوجود طیارہ دو منزلہ اسکول کی عمارت سے ٹکرا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے واقعے پر منگل کو ملک گیر یومِ سوگ کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایئرفورس، مائل اسٹون اسکول و کالج کے طلبہ، والدین، اساتذہ، عملے اور دیگر متاثرین کو پہنچنے والا نقصان ناقابلِ تلافی ہے۔ یہ قوم کے لیے انتہائی تکلیف دہ لمحہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حادثہ بنگلہ دیش کی کئی دہائیوں کا بدترین فضائی سانحہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل 1984 میں ایک طیارہ چٹّاگرام سے ڈھاکہ آتے ہوئے گر کر تباہ ہوا تھا، جس میں تمام 49 مسافر جان کی بازی ہار گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ بھارت کے شہر احمد آباد میں ایک کمرشل طیارہ گر کر تباہ ہوا، جس میں 260 افراد ہلاک ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بھی ڈھاکہ حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ (انسانی) زندگیوں کے ضیاع پر انتہائی غم زدہ اور صدمے میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/narendramodi/status/1947286745914962083"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات اُس وقت سے کشیدہ ہیں جب گزشتہ سال بنگلہ دیش میں مظاہرین نے شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا، جو بھارت کی پرانی حلیف سمجھی جاتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے واقعے پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا ہے کہ بھارت بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنگلہ دیش کی فضائیہ کا ایک لڑاکا طیارہ پیر کے روز دارالحکومت ڈھاکہ کے ایک اسکول پر گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد جاں بحق اور 171 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ ملک کی چند دہائیوں کی بدترین فضائی حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ چینی ساختہ ایف-7 بی جے آئی (F-7 BJI) تھا، جو پرواز کے دوران تکنیکی خرابی کا شکار ہو کر مائل اسٹون اسکول اینڈ کالج کی عمارت سے جا ٹکرایا جبکہ حادثے کے وقت متعدد طلبہ ابھی کلاسز سے باہر نکلے ہی تھے۔</p>
<p>فوجی ترجمان کے بیان کے مطابق حادثے میں طیارے کے پائلٹ سمیت 20 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ 171 زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔</p>
<p>موقع پر موجود اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر نے بتایا کہ ریسکیو اہلکار زخمی طلبہ کو اسٹریچرز پر اٹھا کر ایمبولینسز میں منتقل کر رہے تھے جب کہ فوجی عملہ ملبے کو ہٹا رہا تھا۔</p>
<p>18 سالہ طالبعلم شفیع الرحمٰن شفی نے اے ایف پی کو بتایا کہ دو لڑاکا طیارے فضا میں تھے اور اچانک ان میں سے ایک طیارہ جونیئرز کے کھیل کے میدان میں گر گیا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ایک زوردار دھماکہ ہوا، زمین ہل گئی جیسے زلزلہ آ گیا ہو۔ پھر آگ لگ گئی اور کچھ دیر بعد فوجی اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔</p>
<p>یہ حادثہ نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنا بلکہ تعلیمی ادارے اور اس کے طلبہ کے لیے گہرے صدمے اور المناک سانحے کی صورت میں یاد رکھا جائے گا۔</p>
<p>حادثے کا شکار ہونے والا میل اسٹون اسکول اینڈ کالج ایک معروف نجی تعلیمی ادارہ ہے، جو نرسری سے لے کر سینئر سیکنڈری تک تعلیم فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>ڈھاکہ کے نیشنل برن اینڈ پلاسٹک سرجری انسٹیٹیوٹ کے جوائنٹ ڈائریکٹر محمد معروف اسلام نے بتایا کہ
”زیادہ تر زخمیوں کی عمریں آٹھ سے چودہ سال کے درمیان ہیں۔“</p>
<p>جاں بحق اور زخمی ہونے والے بچوں کے غمزدہ رشتہ داروں کی بڑی تعداد اسپتال پہنچ گئی، جب کہ درجنوں رضا کار خون عطیہ کرنے کے لیے قطار میں کھڑے نظر آئے۔</p>
<p>30 سالہ تفضل حسین نے جب یہ سنا کہ ان کا چھوٹا کزن جاں بحق ہو گیا ہے تو وہ زار و قطار رونے لگے۔</p>
<p>انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہم نے دیوانہ وار مختلف اسپتالوں میں اپنے کزن کو تلاش کیا۔ وہ اسکول میں آٹھویں جماعت کا طالبعلم تھا۔
آخرکار ہمیں اس کی لاش ملی۔</p>
<p>فوجی بیان کے مطابق پائلٹ ایک معمول کی تربیتی پرواز پر تھا جب طیارے میں مبینہ طور پر تکنیکی خرابی پیدا ہوئی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حادثے کی اصل وجہ تاحال تحقیقات کے دائرہ کار میں ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق پائلٹ نے گنجان آباد علاقوں سے طیارہ دور لے جانے کی بھرپور کوشش کی، مگر تمام تر کوششوں کے باوجود طیارہ دو منزلہ اسکول کی عمارت سے ٹکرا گیا۔</p>
<p>عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے واقعے پر منگل کو ملک گیر یومِ سوگ کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایئرفورس، مائل اسٹون اسکول و کالج کے طلبہ، والدین، اساتذہ، عملے اور دیگر متاثرین کو پہنچنے والا نقصان ناقابلِ تلافی ہے۔ یہ قوم کے لیے انتہائی تکلیف دہ لمحہ ہے۔</p>
<p>یہ حادثہ بنگلہ دیش کی کئی دہائیوں کا بدترین فضائی سانحہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل 1984 میں ایک طیارہ چٹّاگرام سے ڈھاکہ آتے ہوئے گر کر تباہ ہوا تھا، جس میں تمام 49 مسافر جان کی بازی ہار گئے تھے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ بھارت کے شہر احمد آباد میں ایک کمرشل طیارہ گر کر تباہ ہوا، جس میں 260 افراد ہلاک ہو گئے۔</p>
<p>بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بھی ڈھاکہ حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ (انسانی) زندگیوں کے ضیاع پر انتہائی غم زدہ اور صدمے میں ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/narendramodi/status/1947286745914962083"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات اُس وقت سے کشیدہ ہیں جب گزشتہ سال بنگلہ دیش میں مظاہرین نے شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا، جو بھارت کی پرانی حلیف سمجھی جاتی تھیں۔</p>
<p>بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے واقعے پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا ہے کہ بھارت بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274914</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Jul 2025 20:48:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/21174445c7663eb.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/21174445c7663eb.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
