<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی چیمبر کا یو اے ای ویزا چھوٹ کی سہولت پاکستانی سرمایہ کاروں تک بڑھانے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274912/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف پی سی سی آئی) کی پاک متحدہ عرب امارات بزنس کونسل کے چیئرمین دیوان فخرالدین نے برادر ممالک کے درمیان سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا چھوٹ پر اتفاق کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یہ سہولت پاکستانی سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات اور صنعتکاروں تک بھی بڑھائی جائے تاکہ بزنس ٹو بزنس اور بزنس ٹو گورنمنٹ روابط کو مزید فروغ دیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو دیوان فخرالدین نے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان کے کردار کو سراہا جن کی کوششوں سے 13 سال کے وقفے کے بعد پاکستان متحدہ عرب امارات مشترکہ وزارتی کمیشن کا 12 واں اجلاس ممکن ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں تجارت، بینکاری، ثقافت، سرمایہ کاری، ہوا بازی، ریلوے، توانائی، غذائی تحفظ، ماحولیاتی تبدیلی، دفاع، صحت، افرادی قوت، اعلی تعلیم اور آئی ٹی سمیت کئی اہم شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیوان فخر الدین نے کہا کہ اس وقت پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی دو طرفہ تجارت کا حجم 10.9 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جب کہ مالی سال 2025 میں متحدہ عرب امارات سے ترسیلات زر 7 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے، ترسیلات زر تجارتی خسارہ کم کرنے اور کرنٹ اکائونٹ کو متوازن رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مناسب اقدامات سے آئندہ پانچ سال میں تجارتی حجم کو دوگنا کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کے لئے  ویزا  چھوٹ پر سے متعلق معاہدے پر دستخط کئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ  اس وقت پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی دو طرفہ تجارت کا حجم 10.9 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جبکہ مالی سال 2025 میں متحدہ عرب امارات سے ترسیلات زر 7 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان  کا کہنا تھا کہ آئندہ 5 سال میں تجارتی حجم کو دگنا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیوان فخرالدین نے زور دیا کہ اس وقت سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات سے ترسیلات زر کا حجم سب سے زیادہ ہے، حکومت پاکستانی محنت کشوں کو مزید سہولیات اور مراعات فراہم کرے تاکہ ترسیلات زر میں مزید اضافہ کو یقینی بنایاجاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات قابل تجدید اور شمسی توانائی کی ٹیکنالوجیز میں عالمی رہنما کے طور پر اُبھر چکا ہے اور پاکستان اس کی ٹیکنالوجیکل انفرااسٹرکچر، ایکوسسٹم اور انقلابی حلوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت نے درآمدی سولر پینلز پر مجوزہ جی ایس ٹی کو 18 فیصد سے کم کرکے 10 فیصد کرنے کا درست فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف پی سی سی آئی) کی پاک متحدہ عرب امارات بزنس کونسل کے چیئرمین دیوان فخرالدین نے برادر ممالک کے درمیان سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا چھوٹ پر اتفاق کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یہ سہولت پاکستانی سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات اور صنعتکاروں تک بھی بڑھائی جائے تاکہ بزنس ٹو بزنس اور بزنس ٹو گورنمنٹ روابط کو مزید فروغ دیا جا سکے۔</strong></p>
<p>پیر کو دیوان فخرالدین نے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان کے کردار کو سراہا جن کی کوششوں سے 13 سال کے وقفے کے بعد پاکستان متحدہ عرب امارات مشترکہ وزارتی کمیشن کا 12 واں اجلاس ممکن ہوا۔</p>
<p>اجلاس میں تجارت، بینکاری، ثقافت، سرمایہ کاری، ہوا بازی، ریلوے، توانائی، غذائی تحفظ، ماحولیاتی تبدیلی، دفاع، صحت، افرادی قوت، اعلی تعلیم اور آئی ٹی سمیت کئی اہم شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>دیوان فخر الدین نے کہا کہ اس وقت پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی دو طرفہ تجارت کا حجم 10.9 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جب کہ مالی سال 2025 میں متحدہ عرب امارات سے ترسیلات زر 7 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے، ترسیلات زر تجارتی خسارہ کم کرنے اور کرنٹ اکائونٹ کو متوازن رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مناسب اقدامات سے آئندہ پانچ سال میں تجارتی حجم کو دوگنا کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کے لئے  ویزا  چھوٹ پر سے متعلق معاہدے پر دستخط کئے تھے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ  اس وقت پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی دو طرفہ تجارت کا حجم 10.9 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جبکہ مالی سال 2025 میں متحدہ عرب امارات سے ترسیلات زر 7 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔</p>
<p>تاہم ان  کا کہنا تھا کہ آئندہ 5 سال میں تجارتی حجم کو دگنا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔</p>
<p>دیوان فخرالدین نے زور دیا کہ اس وقت سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات سے ترسیلات زر کا حجم سب سے زیادہ ہے، حکومت پاکستانی محنت کشوں کو مزید سہولیات اور مراعات فراہم کرے تاکہ ترسیلات زر میں مزید اضافہ کو یقینی بنایاجاسکے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات قابل تجدید اور شمسی توانائی کی ٹیکنالوجیز میں عالمی رہنما کے طور پر اُبھر چکا ہے اور پاکستان اس کی ٹیکنالوجیکل انفرااسٹرکچر، ایکوسسٹم اور انقلابی حلوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت نے درآمدی سولر پینلز پر مجوزہ جی ایس ٹی کو 18 فیصد سے کم کرکے 10 فیصد کرنے کا درست فیصلہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274912</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Jul 2025 16:23:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/211623386b44e29.png" type="image/png" medium="image" height="472" width="724">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/211623386b44e29.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
