<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زرعی شعبے کو فوری طور پر بحال کرنے کی ضرورت پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274910/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی  پروفیسر احسن اقبال نے پاکستان کے زرعی شعبے کو فوری طور پر بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت اختیارات کی منتقلی، خاص طور پر زراعت کے حوالے سے اس کی اصل روح کے مطابق نافذ نہیں کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور کے ڈیفنس روڈ پر واقع  کپاس کے تحقیقی فارم کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اگرچہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت اختیارات اور وسائل صوبوں کو منتقل کیے گئے لیکن زراعت کو وہ توجہ نہیں دی گئی جو اس کا حق تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد زراعت صوبائی معاملہ بن گئی تھی اور اس شعبے کی بہتری کی ذمہ داری صوبوں پر عائد ہوتی تھی، بدقسمتی سے وہ اس حوالے سے خاطر خواہ پیش رفت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے ہمراہ معروف زرعی ماہر انجینئر جاوید سلیم قریشی بھی موجود تھے انہوں نے 25 سال کی طویل تحقیق اور تجربات کے بعد کپاس کے بیج کی ایک نئی قسم تیار کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ صوبائی سطح پر توجہ اور عزم کی کمی کے باعث نہ تو ہم فی ایکڑ پیداوار کو بہتر بناسکے اور نہ ہی اہم فصلوں کے لیے اعلیٰ معیار کے بیج متعارف کروا سکے، ہمارے تحقیقی ادارے بھی مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیرنے زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے  خاص طور پر کپاس، کینولا اور چاول جیسی اہم فصلوں کے حوالے سے ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اب ہمیں آئندہ دس سال کے لیے واضح اہداف کے ساتھ منصوبہ بندی کرنی ہوگی، وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور اگر ہم نے فیصلہ کن اقدامات نہ کیے تو ہم مزید پیچھے رہ جائیں گے۔ دنیا کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں ایک متحد اور دور اندیش قوم کے طور پر کام کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آئندہ 10 سے 20 سال کے لیے طویل المدتی قومی منصوبہ بندی کا فقدان ایک سنگین تشویش کا باعث ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو زرعی خود کفالت حاصل کرنی ہوگی، ہم مزید بنیادی فصلوں کے لیے درآمدات پر انحصار کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پراحسن اقبال نے انجینئر جاوید سلیم قریشی کے انقلابی کام کو سراہا، جنہوں نے ایک نئی قسم کا کپاس کا بیج متعارف کروایا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک کے درجہ حرارت میں بھی نشوونما پا سکتا ہے، یہ نیا بیج لاہور میں تیار کیا گیا ہے، اس بیج کی بدولت کپاس کی پیداوار موجودہ 15 من فی ایکڑ سے بڑھ کر 40 سے 50 من فی ایکڑ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ کسی زرعی انقلاب سے کم نہیں۔حکومت اُن نجی شعبے کے ماہرین کی بھرپور حمایت کرے گی جو اس قسم کی جدت لے کر آتے ہیں اور ان کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کینولا سمیت دیگر فصلوں میں موجود بے پناہ امکانات کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ اگر ملک میں کینولا آئل کی مقامی پیداوار بڑھائی جائے تو اس سے درآمدات پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ بچایا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ شدید بارشوں سے متعلق سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے وفاق اور چاروں صوبوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اس وقت نقصانات کا ڈیٹا جمع کررہی ہے تاکہ متاثرہ علاقوں کی صورتحال کا درست اندازہ لگایا جاسکے اور مستقبل کی حکمت عملی مرتب کی جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احسن اقبال نے کہا کہ حکومت زرعی جدت کی بھرپور حمایت کے لیے پرعزم ہے اور اس بات پر زور دیا کہ آئندہ برسوں میں زراعت کو پاکستان کی اقتصادی خود انحصاری کی بنیاد بنانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی  پروفیسر احسن اقبال نے پاکستان کے زرعی شعبے کو فوری طور پر بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت اختیارات کی منتقلی، خاص طور پر زراعت کے حوالے سے اس کی اصل روح کے مطابق نافذ نہیں کی گئی۔</strong></p>
<p>لاہور کے ڈیفنس روڈ پر واقع  کپاس کے تحقیقی فارم کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اگرچہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت اختیارات اور وسائل صوبوں کو منتقل کیے گئے لیکن زراعت کو وہ توجہ نہیں دی گئی جو اس کا حق تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد زراعت صوبائی معاملہ بن گئی تھی اور اس شعبے کی بہتری کی ذمہ داری صوبوں پر عائد ہوتی تھی، بدقسمتی سے وہ اس حوالے سے خاطر خواہ پیش رفت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔</p>
<p>ان کے ہمراہ معروف زرعی ماہر انجینئر جاوید سلیم قریشی بھی موجود تھے انہوں نے 25 سال کی طویل تحقیق اور تجربات کے بعد کپاس کے بیج کی ایک نئی قسم تیار کی ہے۔</p>
<p>پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ صوبائی سطح پر توجہ اور عزم کی کمی کے باعث نہ تو ہم فی ایکڑ پیداوار کو بہتر بناسکے اور نہ ہی اہم فصلوں کے لیے اعلیٰ معیار کے بیج متعارف کروا سکے، ہمارے تحقیقی ادارے بھی مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہے۔</p>
<p>وفاقی وزیرنے زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے  خاص طور پر کپاس، کینولا اور چاول جیسی اہم فصلوں کے حوالے سے ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اب ہمیں آئندہ دس سال کے لیے واضح اہداف کے ساتھ منصوبہ بندی کرنی ہوگی، وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور اگر ہم نے فیصلہ کن اقدامات نہ کیے تو ہم مزید پیچھے رہ جائیں گے۔ دنیا کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں ایک متحد اور دور اندیش قوم کے طور پر کام کرنا ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آئندہ 10 سے 20 سال کے لیے طویل المدتی قومی منصوبہ بندی کا فقدان ایک سنگین تشویش کا باعث ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو زرعی خود کفالت حاصل کرنی ہوگی، ہم مزید بنیادی فصلوں کے لیے درآمدات پر انحصار کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔</p>
<p>اس موقع پراحسن اقبال نے انجینئر جاوید سلیم قریشی کے انقلابی کام کو سراہا، جنہوں نے ایک نئی قسم کا کپاس کا بیج متعارف کروایا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک کے درجہ حرارت میں بھی نشوونما پا سکتا ہے، یہ نیا بیج لاہور میں تیار کیا گیا ہے، اس بیج کی بدولت کپاس کی پیداوار موجودہ 15 من فی ایکڑ سے بڑھ کر 40 سے 50 من فی ایکڑ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ کسی زرعی انقلاب سے کم نہیں۔حکومت اُن نجی شعبے کے ماہرین کی بھرپور حمایت کرے گی جو اس قسم کی جدت لے کر آتے ہیں اور ان کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے کینولا سمیت دیگر فصلوں میں موجود بے پناہ امکانات کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ اگر ملک میں کینولا آئل کی مقامی پیداوار بڑھائی جائے تو اس سے درآمدات پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ بچایا جاسکتا ہے۔</p>
<p>حالیہ شدید بارشوں سے متعلق سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے وفاق اور چاروں صوبوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اس وقت نقصانات کا ڈیٹا جمع کررہی ہے تاکہ متاثرہ علاقوں کی صورتحال کا درست اندازہ لگایا جاسکے اور مستقبل کی حکمت عملی مرتب کی جاسکے۔</p>
<p>احسن اقبال نے کہا کہ حکومت زرعی جدت کی بھرپور حمایت کے لیے پرعزم ہے اور اس بات پر زور دیا کہ آئندہ برسوں میں زراعت کو پاکستان کی اقتصادی خود انحصاری کی بنیاد بنانا ہوگا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274910</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Jul 2025 14:34:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/21143150aebcd06.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/21143150aebcd06.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
