<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی اے پر پابندی کی کہانی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274904/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانیہ نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) پر عائد اپنی فضائی حدود میں پابندی ختم کر دی ہے جس کے بعد قومی ایئرلائن کو پانچ سالہ معطلی کے بعد برطانیہ کے لیے دوبارہ پروازیں شروع کرنے کی اجازت حاصل ہو گئی ہے۔ پی آئی اے اب باضابطہ طور پر پروازوں کی بحالی کے لیے درخواست دے سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ بحالی ایسے بحران کے بعد ممکن ہوئی جس نے نہ صرف قومی ایئرلائن کو شدید مالی نقصان پہنچایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ہوابازی کی ساکھ کو بھی مجروح کیا۔ پی آئی اے کو تقریباً 200 ارب روپے کا تخمینی مالی نقصان اور ناقابل تلافی وقار کا دھچکا اُس وقت برداشت کرنا پڑا جب 24 جون 2020 کو اُس وقت کے وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے قومی اسمبلی کے فلور پر دعویٰ کیا کہ ملک میں موجود 860 فعال پائلٹس میں سے 262 نے امتحانات میں جعلی طریقے سے، یعنی نمائندوں کے ذریعے شرکت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول تقریباً 30 فیصد پائلٹس جعلی یا غیر موزوں لائسنس کے حامل تھے اور ان کے پاس درکار فلائنگ تجربہ بھی موجود نہیں تھا۔ اس بیان نے بین الاقوامی ہوابازی کے اداروں اور مغربی ممالک، بشمول برطانیہ، میں سخت تحفظات کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں جولائی 2020 میں یورپ اور امریکہ نے پی آئی اے کی پروازوں پر مکمل پابندی عائد کردی۔ بین الاقوامی ایئرلائنز میں خدمات انجام دینے والے پاکستانی پائلٹس کو بھی گراؤنڈ کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلے ہی روز ترجمان پی آئی اے نے اعلان کیا کہ ایئرلائن نے 434 میں سے 150 پائلٹس کو جعلی لائسنس کے شبہے میں گراؤنڈ کردیا ہے۔ اس اقدام کے فوراً بعد یورپی یونین نے پی آئی اے کو اپنے ہوائی اڈوں سے بین کردیا۔ جولائی میں یورپی یونین اور امریکہ دونوں نے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی عائد کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غلام سرور خان کا بیان 22 مئی 2020 کو کراچی میں پیش آنے والے  طیارہ حادثے کے بعد سامنے آیا جس میں 97 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس حادثے کی حتمی رپورٹ ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ نے 25 فروری 2024 کو جاری کی، جس میں بتایا گیا کہ:(1) طیارے نے لینڈنگ گیئر کے بغیر رن وے پر لینڈنگ کی، جس سے دونوں انجنوں کے نیسل رن وے سے ٹکرا گئے؛(2) انجنوں کو شدید نقصان پہنچا، انجن آئل اور لبریکنٹ ضائع ہوا، اور گو اراؤنڈ کے دوران دونوں انجن فیل ہو گئے؛(3)ایئر ٹریفک کنٹرول اور فلائٹ کریو کے درمیان مؤثر رابطے کا فقدان رہا۔رپورٹ میں ایک معاون وجہ کے طور پر ایس او پیز کی خلاف ورزی اور اے ٹی سی ہدایات کو نظر انداز کرنے کا بھی ذکر کیا گیا جسے نہایت تشویشناک قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;22 مئی کے حادثے کی حتمی رپورٹ جاری ہونے سے 25 دن قبل یعنی 31 جنوری 2025 کو وفاقی کابینہ نے غلام سرور خان کے خلاف انکوائری کا حکم جاری کیا۔ کابینہ کا مؤقف تھا کہ ان کے غیر ذمہ دارانہ اور قیاس آرائی پر مبنی بیانات نے پی آئی اے پر بین الاقوامی پابندیوں کی راہ ہموار کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ حکومت کے ارکان کی جانب سے غلام سرور کے 2020 کے بیان کے سنگین منفی نتائج پر شدید غصے کا اظہار کیا گیا ہے کیونکہ اس بحران کے باعث پی آئی اے کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا — ایک ایسا نقصان جس کی تلافی کے لیے عوام کے ٹیکسوں سے ہر سال خطیر رقوم ایئرلائن میں ڈالنا پڑیں۔ یہ غصہ یقیناً اُن لاکھوں پاکستانیوں کے دلوں میں بھی موجود ہے جو پی آئی اے کی بندش کے باعث غیر ملکی ایئرلائنز کے ذریعے طویل اور مہنگے سفر پر مجبور ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اگرچہ غلام سرور کے خلاف قانونی کارروائی اور نقصانات کی تلافی کے مطالبات بجا ہیں، لیکن پاکستان کا آئین واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ وفاقی حکومت کے تمام انتظامی اقدامات صدرِ مملکت کے نام پر کیے جائیں گے اور حکومت قواعد کے تحت یہ تعین کرے گی کہ صدر کے نام پر جاری کیے گئے احکامات اور دستاویزات کی توثیق کس طریقے سے کی جائے گی۔ ایسے کسی بھی حکم یا دستاویز کی صداقت کو صرف اس بنیاد پر کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا کہ وہ صدر نے خود جاری یا نافذ نہیں کی۔ نیز، صدر کو اپنے عہدے پر فائز رہنے کے دوران قانونی چارہ جوئی سے استثنیٰ  ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ استثنیٰ اُن فیصلوں پر بھی لاگو ہوتا ہے جو دنیا بھر میں کابینہ کے ارکان کی جانب سے، چاہے وہ کتنے ہی ناقص کیوں نہ ہوں، کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، پارلیمنٹ کی کارروائی کے دوران کہے گئے کسی بھی بیان پر کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جاسکتی لہٰذا قومی اسمبلی کے فلور پر غلام سرور خان کی جانب سے دیے گئے متنازع اور غلط دعووں پر اُن کے خلاف قانونی چارہ جوئی ممکن نہیں ہوسکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانیہ نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) پر عائد اپنی فضائی حدود میں پابندی ختم کر دی ہے جس کے بعد قومی ایئرلائن کو پانچ سالہ معطلی کے بعد برطانیہ کے لیے دوبارہ پروازیں شروع کرنے کی اجازت حاصل ہو گئی ہے۔ پی آئی اے اب باضابطہ طور پر پروازوں کی بحالی کے لیے درخواست دے سکتی ہے۔</strong></p>
<p>تاہم یہ بحالی ایسے بحران کے بعد ممکن ہوئی جس نے نہ صرف قومی ایئرلائن کو شدید مالی نقصان پہنچایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ہوابازی کی ساکھ کو بھی مجروح کیا۔ پی آئی اے کو تقریباً 200 ارب روپے کا تخمینی مالی نقصان اور ناقابل تلافی وقار کا دھچکا اُس وقت برداشت کرنا پڑا جب 24 جون 2020 کو اُس وقت کے وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے قومی اسمبلی کے فلور پر دعویٰ کیا کہ ملک میں موجود 860 فعال پائلٹس میں سے 262 نے امتحانات میں جعلی طریقے سے، یعنی نمائندوں کے ذریعے شرکت کی تھی۔</p>
<p>ان کے بقول تقریباً 30 فیصد پائلٹس جعلی یا غیر موزوں لائسنس کے حامل تھے اور ان کے پاس درکار فلائنگ تجربہ بھی موجود نہیں تھا۔ اس بیان نے بین الاقوامی ہوابازی کے اداروں اور مغربی ممالک، بشمول برطانیہ، میں سخت تحفظات کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں جولائی 2020 میں یورپ اور امریکہ نے پی آئی اے کی پروازوں پر مکمل پابندی عائد کردی۔ بین الاقوامی ایئرلائنز میں خدمات انجام دینے والے پاکستانی پائلٹس کو بھی گراؤنڈ کر دیا گیا۔</p>
<p>اگلے ہی روز ترجمان پی آئی اے نے اعلان کیا کہ ایئرلائن نے 434 میں سے 150 پائلٹس کو جعلی لائسنس کے شبہے میں گراؤنڈ کردیا ہے۔ اس اقدام کے فوراً بعد یورپی یونین نے پی آئی اے کو اپنے ہوائی اڈوں سے بین کردیا۔ جولائی میں یورپی یونین اور امریکہ دونوں نے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی عائد کردی۔</p>
<p>غلام سرور خان کا بیان 22 مئی 2020 کو کراچی میں پیش آنے والے  طیارہ حادثے کے بعد سامنے آیا جس میں 97 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس حادثے کی حتمی رپورٹ ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ نے 25 فروری 2024 کو جاری کی، جس میں بتایا گیا کہ:(1) طیارے نے لینڈنگ گیئر کے بغیر رن وے پر لینڈنگ کی، جس سے دونوں انجنوں کے نیسل رن وے سے ٹکرا گئے؛(2) انجنوں کو شدید نقصان پہنچا، انجن آئل اور لبریکنٹ ضائع ہوا، اور گو اراؤنڈ کے دوران دونوں انجن فیل ہو گئے؛(3)ایئر ٹریفک کنٹرول اور فلائٹ کریو کے درمیان مؤثر رابطے کا فقدان رہا۔رپورٹ میں ایک معاون وجہ کے طور پر ایس او پیز کی خلاف ورزی اور اے ٹی سی ہدایات کو نظر انداز کرنے کا بھی ذکر کیا گیا جسے نہایت تشویشناک قرار دیا گیا۔</p>
<p>22 مئی کے حادثے کی حتمی رپورٹ جاری ہونے سے 25 دن قبل یعنی 31 جنوری 2025 کو وفاقی کابینہ نے غلام سرور خان کے خلاف انکوائری کا حکم جاری کیا۔ کابینہ کا مؤقف تھا کہ ان کے غیر ذمہ دارانہ اور قیاس آرائی پر مبنی بیانات نے پی آئی اے پر بین الاقوامی پابندیوں کی راہ ہموار کی۔</p>
<p>موجودہ حکومت کے ارکان کی جانب سے غلام سرور کے 2020 کے بیان کے سنگین منفی نتائج پر شدید غصے کا اظہار کیا گیا ہے کیونکہ اس بحران کے باعث پی آئی اے کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا — ایک ایسا نقصان جس کی تلافی کے لیے عوام کے ٹیکسوں سے ہر سال خطیر رقوم ایئرلائن میں ڈالنا پڑیں۔ یہ غصہ یقیناً اُن لاکھوں پاکستانیوں کے دلوں میں بھی موجود ہے جو پی آئی اے کی بندش کے باعث غیر ملکی ایئرلائنز کے ذریعے طویل اور مہنگے سفر پر مجبور ہوئے۔</p>
<p>تاہم اگرچہ غلام سرور کے خلاف قانونی کارروائی اور نقصانات کی تلافی کے مطالبات بجا ہیں، لیکن پاکستان کا آئین واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ وفاقی حکومت کے تمام انتظامی اقدامات صدرِ مملکت کے نام پر کیے جائیں گے اور حکومت قواعد کے تحت یہ تعین کرے گی کہ صدر کے نام پر جاری کیے گئے احکامات اور دستاویزات کی توثیق کس طریقے سے کی جائے گی۔ ایسے کسی بھی حکم یا دستاویز کی صداقت کو صرف اس بنیاد پر کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا کہ وہ صدر نے خود جاری یا نافذ نہیں کی۔ نیز، صدر کو اپنے عہدے پر فائز رہنے کے دوران قانونی چارہ جوئی سے استثنیٰ  ہوتا ہے۔</p>
<p>یہ استثنیٰ اُن فیصلوں پر بھی لاگو ہوتا ہے جو دنیا بھر میں کابینہ کے ارکان کی جانب سے، چاہے وہ کتنے ہی ناقص کیوں نہ ہوں، کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، پارلیمنٹ کی کارروائی کے دوران کہے گئے کسی بھی بیان پر کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جاسکتی لہٰذا قومی اسمبلی کے فلور پر غلام سرور خان کی جانب سے دیے گئے متنازع اور غلط دعووں پر اُن کے خلاف قانونی چارہ جوئی ممکن نہیں ہوسکتی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274904</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Jul 2025 12:41:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/211215112e90796.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/211215112e90796.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
