<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:39:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:39:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنوبی شام میں پرتشدد جھڑپوں میں ہلاکتیں 1,000 سے تجاوز کر گئیں، مانیٹرنگ گروپ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274870/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک شامی مانیٹر نے اتوار کو بتایا کہ ملک کے جنوب میں ڈروز جنگجوؤں، ان کے بدوی حریفوں، حکومتی افواج، مسلح قبائل اور اسرائیل کے ملوث ہونے والے پرتشدد واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 1,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ میں قائم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا کہ گزشتہ اتوار سے اب تک ہلاک ہونے والوں میں 336 ڈروز جنگجو اور مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والے 298 شہری شامل ہیں، جن میں سے 194 کو وزارتِ دفاع اور وزارتِ داخلہ کے اہلکاروں نے ’ماورائے عدالت قتل‘ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبزرویٹری نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں 342 حکومتی سکیورٹی اہلکار اور 21 سنی بدو بھی شامل ہیں، جن میں سے تین شہری تھے جنہیں ’ڈروز جنگجوؤں نے ماورائے عدالت قتل کیا۔ اس کے علاوہ 15 حکومتی فوجی اسرائیلی فضائی حملوں میں مارے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شام کی وزارت داخلہ کے مطابق اتوار کو جنوبی شہر السویدا میں ڈروز جنگجوؤں کے قبضے اور حکومتی افواج کی دوبارہ تعیناتی کے بعد شدید فرقہ وارانہ جھڑپیں رک گئیں، جن میں ایک ہفتے کے دوران 900 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے تھے۔ ڈروز جنگجوؤں نے امریکی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد حریف قبائلی گروپوں کو شہر سے بے دخل کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کے ترجمان نورالدین البابا نے کہا کہ شہر کو ’’تمام قبائلی جنگجوؤں سے خالی کرا لیا گیا ہے اور محلے کے اندر لڑائی ختم ہو گئی ہے‘‘۔ اس سے قبل اسرائیل نے ڈروز شہریوں کے خلاف مبینہ ماورائے عدالت قتل کے واقعات پر السویدا اور دمشق میں حکومتی افواج پر بمباری کی تھی، جس کے بعد انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ میں قائم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق جھڑپوں میں کم از کم 940 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 326 ڈروز جنگجو، 262 ڈروز شہری، 312 حکومتی اہلکار اور 21 سنی بدو شامل ہیں۔ اسرائیلی فضائی حملوں میں مزید 15 فوجی مارے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سفیر ٹام بیریک نے بتایا کہ عبوری صدر احمد الشرع اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پایا ہے، جس کی ترکی اور اردن نے بھی حمایت کی۔ اقوام متحدہ کے مطابق لڑائی سے کم از کم 87,000 افراد بے گھر ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر الشرع نے خطاب میں فوری جنگ بندی اور شام کی اقلیتوں کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا جبکہ اسرائیل نے اس وعدے پر شکوک کا اظہار کیا۔ وزارت اطلاعات کے مطابق جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں انسانی ہمدردی کی راہداریاں کھولی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک شامی مانیٹر نے اتوار کو بتایا کہ ملک کے جنوب میں ڈروز جنگجوؤں، ان کے بدوی حریفوں، حکومتی افواج، مسلح قبائل اور اسرائیل کے ملوث ہونے والے پرتشدد واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 1,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔</strong></p>
<p>برطانیہ میں قائم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا کہ گزشتہ اتوار سے اب تک ہلاک ہونے والوں میں 336 ڈروز جنگجو اور مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والے 298 شہری شامل ہیں، جن میں سے 194 کو وزارتِ دفاع اور وزارتِ داخلہ کے اہلکاروں نے ’ماورائے عدالت قتل‘ کیا۔</p>
<p>آبزرویٹری نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں 342 حکومتی سکیورٹی اہلکار اور 21 سنی بدو بھی شامل ہیں، جن میں سے تین شہری تھے جنہیں ’ڈروز جنگجوؤں نے ماورائے عدالت قتل کیا۔ اس کے علاوہ 15 حکومتی فوجی اسرائیلی فضائی حملوں میں مارے گئے۔</p>
<p><strong>شام کی وزارت داخلہ کے مطابق اتوار کو جنوبی شہر السویدا میں ڈروز جنگجوؤں کے قبضے اور حکومتی افواج کی دوبارہ تعیناتی کے بعد شدید فرقہ وارانہ جھڑپیں رک گئیں، جن میں ایک ہفتے کے دوران 900 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے تھے۔ ڈروز جنگجوؤں نے امریکی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد حریف قبائلی گروپوں کو شہر سے بے دخل کر دیا۔</strong></p>
<p>وزارت کے ترجمان نورالدین البابا نے کہا کہ شہر کو ’’تمام قبائلی جنگجوؤں سے خالی کرا لیا گیا ہے اور محلے کے اندر لڑائی ختم ہو گئی ہے‘‘۔ اس سے قبل اسرائیل نے ڈروز شہریوں کے خلاف مبینہ ماورائے عدالت قتل کے واقعات پر السویدا اور دمشق میں حکومتی افواج پر بمباری کی تھی، جس کے بعد انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا گیا۔</p>
<p>برطانیہ میں قائم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق جھڑپوں میں کم از کم 940 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 326 ڈروز جنگجو، 262 ڈروز شہری، 312 حکومتی اہلکار اور 21 سنی بدو شامل ہیں۔ اسرائیلی فضائی حملوں میں مزید 15 فوجی مارے گئے۔</p>
<p>امریکی سفیر ٹام بیریک نے بتایا کہ عبوری صدر احمد الشرع اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پایا ہے، جس کی ترکی اور اردن نے بھی حمایت کی۔ اقوام متحدہ کے مطابق لڑائی سے کم از کم 87,000 افراد بے گھر ہوئے ہیں۔</p>
<p>صدر الشرع نے خطاب میں فوری جنگ بندی اور شام کی اقلیتوں کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا جبکہ اسرائیل نے اس وعدے پر شکوک کا اظہار کیا۔ وزارت اطلاعات کے مطابق جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں انسانی ہمدردی کی راہداریاں کھولی جائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274870</guid>
      <pubDate>Sun, 20 Jul 2025 15:05:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/20150545aba04f6.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/20150545aba04f6.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
