<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجلی کا شعبہ دھماکہ خیز صورتحال کی زد میں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274848/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آف گرڈ سولر انقلابی رجحان اور گرڈ کی اضافی صلاحیت کا بحران، یہ دونوں عوامل پاکستان کے بجلی کے شعبے کے لیے ایک ٹائم بم کی مانند ہیں۔ پاکستان میں توانائی کے استعمال کے طریقہ کار میں ایک خاموش مگر طاقتور تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے ماحول میں جہاں بجلی کے نرخ بہت زیادہ ہیں، فراہمی غیر یقینی ہے اور پالیسیوں میں تسلسل نہیں، وہاں صنعتی اور زرعی شعبے تیزی سے، بعض اوقات خاموشی سے اور کبھی  کھلے عام طور پر، شمسی توانائی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;یہ آف گرڈ رجحان، اگرچہ انفرادی صارفین کے لیے ایک معقول انتخاب ہے، مگر پاکستان کے پہلے سے ہی کمزور بجلی کے شعبے، خاص طور پر قومی گرڈ، کے لیے تیزی سے ایک نظامی بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ قومی گرڈ اس وقت کم استعمال، بڑھتی ہوئی صلاحیت کی ادائیگیوں اور مالیاتی عدم استحکام کے ایک خطرناک چکر میں پھنس چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;بجلی کے حد سے زیادہ مہنگے نرخ (جو اب کئی علاقوں میں 60 روپے فی یونٹ سے تجاوز کر چکے ہیں)، ایندھن کی قیمتوں میں بھاری رد و بدل، غیر یقینی بجلی کی فراہمی، اور حکومت کی جانب سے صنعت کے لیے مسابقتی نرخ فراہم کرنے میں ناکامی نے پاکستان کے صنعتی اداروں اور بڑے زمینداروں کو ایک واضح حل کی طرف دھکیل دیا ہے: شمسی توانائی پر منتقلی۔ لیکن جو فیصلہ پہلے ایک متبادل حل کے طور پر دیکھا جاتا تھا، وہ اب قومی معیشت کے لیے اہم مگر غیر مستحکم نظام، یعنی قومی گرڈ، کی ممکنہ تباہی کو تیز تر کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی شعبے میں اب شمسی توانائی سے چلنے والی ٹیوب ویلیں روایتی گرڈ سے منسلک پمپنگ سسٹمز کی جگہ لے رہی ہیں۔ لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ اور کراچی جیسے شہروں میں، ٹیکسٹائل اور برآمدی صنعتیں ریکارڈ سطح پر نجی سولر سسٹمز اور مائیکرو گرڈز نصب کر رہی ہیں۔ یہ اب محض چند لوگوں تک محدود رجحان نہیں رہا، پاکستان نے صرف مالی سال 2024 میں 1.3 ارب امریکی ڈالر سے زائد کا شمسی سامان درآمد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جہاں شمسی توانائی صارفین کے لیے آزادی اور ممکنہ نتائج کی یقین دہانی کی سہولت فراہم کرتی ہے، وہیں یہ قومی گرڈ سے بجلی کی طلب میں کمی کا باعث بھی بن رہی ہے۔ اس سے قومی بجلی کے نظام کی مالی پائیداری کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں، وہ نظام جو سی پیک کے دوران شروع کیے گئے بڑے پیداواری منصوبوں کے بوجھ تلے پہلے ہی دبا ہوا ہے۔ یہ منصوبے ایسے تخمینوں کی بنیاد پر بنائے گئے تھے جو اب مارکیٹ کی اصل صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک عجیب تضاد یہ ہے کہ پاکستان کے پاس آج تقریباً 43,000 میگاواٹ کی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے، جبکہ گرمیوں میں طلب 28,000 سے 30,000 میگاواٹ کے درمیان رہتی ہے اور سردیوں میں اس میں نمایاں کمی آ جاتی ہے۔ پھر بھی قومی گرڈ مالی بحران کا شکار ہے۔ آخر کیوں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسئلہ پاکستان کے پاور پرچیز ایگریمنٹس (پی پی ایز) میں ہے، جو حکومت کو اس بات کا پابند بناتے ہیں کہ وہ بجلی استعمال ہو یا نہ ہو، نجی بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) کو صلاحیت کی بنیاد پر ادائیگیاں (کیپسٹی پیمنٹس) کرے۔ یہ ادائیگیاں، جو اب سالانہ 2 کھرب روپے سے تجاوز کر چکی ہیں، وہ مقررہ لاگتیں ہیں جو صارفین پر ٹیرف کے ذریعے منتقل کر دی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب جبکہ شمسی توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال، بجلی کی چوری اور ناقص ترسیلی نظام کے باعث بجلی کی طلب میں کمی آ رہی ہے، تو کم یونٹس فروخت ہو رہے ہیں، جس سے صلاحیت کی بنیاد پر یہ بڑھتی ہوئی  ادائیگیاں پوری کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔ نتیجتاً، فی یونٹ قیمت مزید بڑھتی ہے، جس سے مزید صارفین گرڈ سے الگ ہو رہے ہیں۔ یہ ایک خطرناک چکر (ویشیئس سائیکل) ہے یعنی جب قیمتیں بڑھتی ہیں تو(بجلی کا) استعمال کم ہوجاتا ہے اور اس طرح قیمتیں مزید بڑھ جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی شعبے کے لیے سولر پر منتقل ہونا ایک معاشی طور پر دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ صنعتیں لاگت کم کرتی ہیں، کاربن اخراج میں کمی لاتی ہیں اور گرڈ کی غیر یقینی صورتحال سے خود کو محفوظ بناتی ہیں۔ کسان ڈیزل کی لاگت سے بچتے ہیں اور آبپاشی کے خطرات کم کرتے ہیں۔ لیکن جب پوری کی پوری صنعتیں یا زرعی شعبے گرڈ سے الگ ہو جاتے ہیں، تو نظام کا مالی بوجھ گھریلو اور کم آمدنی والے صارفین پر آ جاتا ہے، جو اکثر آف گرڈ متبادل اپنانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال توانائی تک مساوی رسائی میں عدم مساوات کو بڑھا رہی ہے اور حکومت پر سبسڈی فراہم کرنے کا دباؤ بھی۔ لیکن ریاست کے پاس مستقل بنیادوں پر سبسڈی دینے کی مالی گنجائش نہیں ہے۔ اب حکومت ایک پالیسی جال میں پھنس چکی ہے: یا تو ٹیرف مزید بڑھائے،جس سے مزید صارفین گرڈ چھوڑیں گے یا ان اخراجات کو قرض اور مالی خسارے کے ذریعے جذب کرے، جو قابلِ برداشت نہیں۔ یہ سب توانائی کے نظام کی تباہی (ڈیتھ) کی ایک روایتی مثال بنتی جا رہی ہے۔ قومی گرڈ کے مقررہ اخراجات، خصوصاً ڈالر میں طے شدہ آئی پی پیز معاہدے اور درآمدی ایندھن پر انحصار، اب ایک سکڑتے ہوئے صارفین کے حلقے سے وصول کیے جا رہے ہیں۔ جیسے جیسے صنعتیں اور زراعت اپنا انحصار کم کر رہی ہیں، گرڈ کی سطح پر بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو جواز دینا اور جاری رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک تلخ سچائی یہ ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا، تو پاکستان کا گرڈ ایک پرانی، مہنگی اور ناکارہ ڈھانچے کی صورت اختیار کر سکتا ہے جو اپنے بنیادی صارفین کی خدمت کے قابل بھی نہ رہے۔ ممکنہ طویل مدتی نتائج: وہ صنعتیں جو آف گرڈ نظام کی استطاعت نہیں رکھتیں، ان کے لیے ڈی انڈسٹریلائزیشن کا خطرہ۔ قومی گرڈ کی مالی معاونت میں کمی، جس کے نتیجے میں لوڈ شیڈنگ اور انفرااسٹرکچر کی خرابی۔گردشی قرضے میں اضافہ، کیونکہ آمدن میں کمی سے مالی خسارہ مزید بڑھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو صورتحال ابھرتی نظر آ رہی ہے وہ توانائی کے نظام کے انہدام کی ایک کلاسیکی مثال ہے۔ قومی گرڈ کے مقررہ اخراجات، بالخصوص ڈالر میں طے شدہ نجی بجلی گھروں (آئی پی پیز) کے معاہدے اور درآمدی ایندھن پر انحصار، اب ایک سکڑتے ہوئے صارفین کے حلقے سے وصول کیے جا رہے ہیں۔ جیسے جیسے صنعتی اور زرعی شعبے گرڈ پر انحصار کم کر رہے ہیں، گرڈ کی سطح پر سرمایہ کاری کو برقرار رکھنا اور اس کا جواز دینا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;المیہ یہ ہے کہ اگر یہ رجحان بے قابو رہا تو پاکستان کا قومی گرڈ ایک بے مصرف، مہنگا اور ناکارہ ڈھانچہ بن کر رہ جائے گا، جو اپنے بنیادی صارفین کو بھی موثر طور پر بجلی فراہم کرنے کے قابل نہ ہوگا۔ اس کے ممکنہ طویل المدتی اثرات درج ذیل ہو سکتے ہیں: وہ صنعتیں اور صارفین جو آف گرڈ متبادل نہیں اپنا سکتے، صنعتی زوال کا شکار ہوں گے؛ قومی گرڈ کو مالی معاونت کی کمی، جس سے بجلی کی بندش اور ڈھانچے کی بوسیدگی پیدا ہوگی اور گردشی قرضے میں بے تحاشا اضافہ، کیونکہ آمدنی میں کمی مالی خسارے کو مزید بڑھا دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحران کی سنگینی کے باوجود پالیسی سازی کا انداز تاحال ردِعمل پر مبنی اور منتشر ہے۔ حکومت نے نہ تو شمسی توانائی کو توانائی کے باضابطہ نظام کا حصہ تسلیم کیا ہےاور نہ ہی منتقلی (ٹرانزیشن) کے اس عمل کو منظم کرنے کے لیے کوئی جامع حکمتِ عملی وضع کی ہے، یہاں تک کہ “سولر پر منتقل ہونا “، جسے کبھی حتمی حل سمجھ کر خود حکومت نے ترغیب دی تھی، آج اسی حکومت کی ترجیحات سے باہر دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں نیٹ میٹرنگ اور فیڈ ان ٹیرف سے متعلق ایسی کوئی اصلاحی پالیسی موجود نہیں جو تقسیم شدہ شمسی نظام کو قومی گرڈ کی صحت و استحکام سے ہم آہنگ کرے۔اس پر مستزاد سولر پینلز کی درآمدات پر پابندیاں لگانا یا ان پر ٹیکس عائد کرنا نہایت قلیل النظر قدم ہے، جس کا نتیجہ صرف غیر رسمی تنصیبات میں اضافے کی صورت میں نکل رہا ہے جیسا کہ زرعی شعبے اور شہری کچی آبادیوں میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں حکومت کی دسترس محدود یا نہ ہونے کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں شمسی توانائی کا انقلاب اب ناقابلِ واپسی ہے اور قومی و عوامی مفاد کا تقاضا ہے کہ اس کا خیرمقدم کیا جائے۔اس منتقلی کو منظم انداز میں آگے بڑھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ورنہ کم ہوتی بجلی کی طلب اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے بوجھ تلے قومی گرڈ کا انہدام ایک قومی توانائی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات ہر شہری اور ہر شعبے پر مرتب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو اب ایک مربوط توانائی منتقلی کا روڈمیپ درکار ہے
جو گرڈ اور آف گرڈ ترقی کے درمیان توازن قائم کرے۔ پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور سبسڈی کے محدود بیانیے سے آگے بڑھیں اور توانائی کی پیداوار، ترسیل اور کھپت کے پورے نظام کو ازسرِ نو تشکیل دیں، بطور ایک جدید، پائیدار ریاست جو 21ویں صدی کے تقاضے سمجھتی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;© بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آف گرڈ سولر انقلابی رجحان اور گرڈ کی اضافی صلاحیت کا بحران، یہ دونوں عوامل پاکستان کے بجلی کے شعبے کے لیے ایک ٹائم بم کی مانند ہیں۔ پاکستان میں توانائی کے استعمال کے طریقہ کار میں ایک خاموش مگر طاقتور تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔</strong></p>
<p>ایسے ماحول میں جہاں بجلی کے نرخ بہت زیادہ ہیں، فراہمی غیر یقینی ہے اور پالیسیوں میں تسلسل نہیں، وہاں صنعتی اور زرعی شعبے تیزی سے، بعض اوقات خاموشی سے اور کبھی  کھلے عام طور پر، شمسی توانائی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>یہ آف گرڈ رجحان، اگرچہ انفرادی صارفین کے لیے ایک معقول انتخاب ہے، مگر پاکستان کے پہلے سے ہی کمزور بجلی کے شعبے، خاص طور پر قومی گرڈ، کے لیے تیزی سے ایک نظامی بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ قومی گرڈ اس وقت کم استعمال، بڑھتی ہوئی صلاحیت کی ادائیگیوں اور مالیاتی عدم استحکام کے ایک خطرناک چکر میں پھنس چکا ہے۔</p>
</blockquote>
<p>بجلی کے حد سے زیادہ مہنگے نرخ (جو اب کئی علاقوں میں 60 روپے فی یونٹ سے تجاوز کر چکے ہیں)، ایندھن کی قیمتوں میں بھاری رد و بدل، غیر یقینی بجلی کی فراہمی، اور حکومت کی جانب سے صنعت کے لیے مسابقتی نرخ فراہم کرنے میں ناکامی نے پاکستان کے صنعتی اداروں اور بڑے زمینداروں کو ایک واضح حل کی طرف دھکیل دیا ہے: شمسی توانائی پر منتقلی۔ لیکن جو فیصلہ پہلے ایک متبادل حل کے طور پر دیکھا جاتا تھا، وہ اب قومی معیشت کے لیے اہم مگر غیر مستحکم نظام، یعنی قومی گرڈ، کی ممکنہ تباہی کو تیز تر کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔</p>
<p>زرعی شعبے میں اب شمسی توانائی سے چلنے والی ٹیوب ویلیں روایتی گرڈ سے منسلک پمپنگ سسٹمز کی جگہ لے رہی ہیں۔ لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ اور کراچی جیسے شہروں میں، ٹیکسٹائل اور برآمدی صنعتیں ریکارڈ سطح پر نجی سولر سسٹمز اور مائیکرو گرڈز نصب کر رہی ہیں۔ یہ اب محض چند لوگوں تک محدود رجحان نہیں رہا، پاکستان نے صرف مالی سال 2024 میں 1.3 ارب امریکی ڈالر سے زائد کا شمسی سامان درآمد کیا۔</p>
<p>تاہم جہاں شمسی توانائی صارفین کے لیے آزادی اور ممکنہ نتائج کی یقین دہانی کی سہولت فراہم کرتی ہے، وہیں یہ قومی گرڈ سے بجلی کی طلب میں کمی کا باعث بھی بن رہی ہے۔ اس سے قومی بجلی کے نظام کی مالی پائیداری کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں، وہ نظام جو سی پیک کے دوران شروع کیے گئے بڑے پیداواری منصوبوں کے بوجھ تلے پہلے ہی دبا ہوا ہے۔ یہ منصوبے ایسے تخمینوں کی بنیاد پر بنائے گئے تھے جو اب مارکیٹ کی اصل صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتے۔</p>
<p>ایک عجیب تضاد یہ ہے کہ پاکستان کے پاس آج تقریباً 43,000 میگاواٹ کی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے، جبکہ گرمیوں میں طلب 28,000 سے 30,000 میگاواٹ کے درمیان رہتی ہے اور سردیوں میں اس میں نمایاں کمی آ جاتی ہے۔ پھر بھی قومی گرڈ مالی بحران کا شکار ہے۔ آخر کیوں؟</p>
<p>مسئلہ پاکستان کے پاور پرچیز ایگریمنٹس (پی پی ایز) میں ہے، جو حکومت کو اس بات کا پابند بناتے ہیں کہ وہ بجلی استعمال ہو یا نہ ہو، نجی بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) کو صلاحیت کی بنیاد پر ادائیگیاں (کیپسٹی پیمنٹس) کرے۔ یہ ادائیگیاں، جو اب سالانہ 2 کھرب روپے سے تجاوز کر چکی ہیں، وہ مقررہ لاگتیں ہیں جو صارفین پر ٹیرف کے ذریعے منتقل کر دی جاتی ہیں۔</p>
<p>اب جبکہ شمسی توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال، بجلی کی چوری اور ناقص ترسیلی نظام کے باعث بجلی کی طلب میں کمی آ رہی ہے، تو کم یونٹس فروخت ہو رہے ہیں، جس سے صلاحیت کی بنیاد پر یہ بڑھتی ہوئی  ادائیگیاں پوری کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔ نتیجتاً، فی یونٹ قیمت مزید بڑھتی ہے، جس سے مزید صارفین گرڈ سے الگ ہو رہے ہیں۔ یہ ایک خطرناک چکر (ویشیئس سائیکل) ہے یعنی جب قیمتیں بڑھتی ہیں تو(بجلی کا) استعمال کم ہوجاتا ہے اور اس طرح قیمتیں مزید بڑھ جاتی ہیں۔</p>
<p>نجی شعبے کے لیے سولر پر منتقل ہونا ایک معاشی طور پر دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ صنعتیں لاگت کم کرتی ہیں، کاربن اخراج میں کمی لاتی ہیں اور گرڈ کی غیر یقینی صورتحال سے خود کو محفوظ بناتی ہیں۔ کسان ڈیزل کی لاگت سے بچتے ہیں اور آبپاشی کے خطرات کم کرتے ہیں۔ لیکن جب پوری کی پوری صنعتیں یا زرعی شعبے گرڈ سے الگ ہو جاتے ہیں، تو نظام کا مالی بوجھ گھریلو اور کم آمدنی والے صارفین پر آ جاتا ہے، جو اکثر آف گرڈ متبادل اپنانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔</p>
<p>یہ صورتحال توانائی تک مساوی رسائی میں عدم مساوات کو بڑھا رہی ہے اور حکومت پر سبسڈی فراہم کرنے کا دباؤ بھی۔ لیکن ریاست کے پاس مستقل بنیادوں پر سبسڈی دینے کی مالی گنجائش نہیں ہے۔ اب حکومت ایک پالیسی جال میں پھنس چکی ہے: یا تو ٹیرف مزید بڑھائے،جس سے مزید صارفین گرڈ چھوڑیں گے یا ان اخراجات کو قرض اور مالی خسارے کے ذریعے جذب کرے، جو قابلِ برداشت نہیں۔ یہ سب توانائی کے نظام کی تباہی (ڈیتھ) کی ایک روایتی مثال بنتی جا رہی ہے۔ قومی گرڈ کے مقررہ اخراجات، خصوصاً ڈالر میں طے شدہ آئی پی پیز معاہدے اور درآمدی ایندھن پر انحصار، اب ایک سکڑتے ہوئے صارفین کے حلقے سے وصول کیے جا رہے ہیں۔ جیسے جیسے صنعتیں اور زراعت اپنا انحصار کم کر رہی ہیں، گرڈ کی سطح پر بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو جواز دینا اور جاری رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>ایک تلخ سچائی یہ ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا، تو پاکستان کا گرڈ ایک پرانی، مہنگی اور ناکارہ ڈھانچے کی صورت اختیار کر سکتا ہے جو اپنے بنیادی صارفین کی خدمت کے قابل بھی نہ رہے۔ ممکنہ طویل مدتی نتائج: وہ صنعتیں جو آف گرڈ نظام کی استطاعت نہیں رکھتیں، ان کے لیے ڈی انڈسٹریلائزیشن کا خطرہ۔ قومی گرڈ کی مالی معاونت میں کمی، جس کے نتیجے میں لوڈ شیڈنگ اور انفرااسٹرکچر کی خرابی۔گردشی قرضے میں اضافہ، کیونکہ آمدن میں کمی سے مالی خسارہ مزید بڑھے گا۔</p>
<p>جو صورتحال ابھرتی نظر آ رہی ہے وہ توانائی کے نظام کے انہدام کی ایک کلاسیکی مثال ہے۔ قومی گرڈ کے مقررہ اخراجات، بالخصوص ڈالر میں طے شدہ نجی بجلی گھروں (آئی پی پیز) کے معاہدے اور درآمدی ایندھن پر انحصار، اب ایک سکڑتے ہوئے صارفین کے حلقے سے وصول کیے جا رہے ہیں۔ جیسے جیسے صنعتی اور زرعی شعبے گرڈ پر انحصار کم کر رہے ہیں، گرڈ کی سطح پر سرمایہ کاری کو برقرار رکھنا اور اس کا جواز دینا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>المیہ یہ ہے کہ اگر یہ رجحان بے قابو رہا تو پاکستان کا قومی گرڈ ایک بے مصرف، مہنگا اور ناکارہ ڈھانچہ بن کر رہ جائے گا، جو اپنے بنیادی صارفین کو بھی موثر طور پر بجلی فراہم کرنے کے قابل نہ ہوگا۔ اس کے ممکنہ طویل المدتی اثرات درج ذیل ہو سکتے ہیں: وہ صنعتیں اور صارفین جو آف گرڈ متبادل نہیں اپنا سکتے، صنعتی زوال کا شکار ہوں گے؛ قومی گرڈ کو مالی معاونت کی کمی، جس سے بجلی کی بندش اور ڈھانچے کی بوسیدگی پیدا ہوگی اور گردشی قرضے میں بے تحاشا اضافہ، کیونکہ آمدنی میں کمی مالی خسارے کو مزید بڑھا دے گی۔</p>
<p>بحران کی سنگینی کے باوجود پالیسی سازی کا انداز تاحال ردِعمل پر مبنی اور منتشر ہے۔ حکومت نے نہ تو شمسی توانائی کو توانائی کے باضابطہ نظام کا حصہ تسلیم کیا ہےاور نہ ہی منتقلی (ٹرانزیشن) کے اس عمل کو منظم کرنے کے لیے کوئی جامع حکمتِ عملی وضع کی ہے، یہاں تک کہ “سولر پر منتقل ہونا “، جسے کبھی حتمی حل سمجھ کر خود حکومت نے ترغیب دی تھی، آج اسی حکومت کی ترجیحات سے باہر دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں نیٹ میٹرنگ اور فیڈ ان ٹیرف سے متعلق ایسی کوئی اصلاحی پالیسی موجود نہیں جو تقسیم شدہ شمسی نظام کو قومی گرڈ کی صحت و استحکام سے ہم آہنگ کرے۔اس پر مستزاد سولر پینلز کی درآمدات پر پابندیاں لگانا یا ان پر ٹیکس عائد کرنا نہایت قلیل النظر قدم ہے، جس کا نتیجہ صرف غیر رسمی تنصیبات میں اضافے کی صورت میں نکل رہا ہے جیسا کہ زرعی شعبے اور شہری کچی آبادیوں میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں حکومت کی دسترس محدود یا نہ ہونے کے برابر ہے۔</p>
<p>پاکستان میں شمسی توانائی کا انقلاب اب ناقابلِ واپسی ہے اور قومی و عوامی مفاد کا تقاضا ہے کہ اس کا خیرمقدم کیا جائے۔اس منتقلی کو منظم انداز میں آگے بڑھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ورنہ کم ہوتی بجلی کی طلب اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے بوجھ تلے قومی گرڈ کا انہدام ایک قومی توانائی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات ہر شہری اور ہر شعبے پر مرتب ہوں گے۔</p>
<p>پاکستان کو اب ایک مربوط توانائی منتقلی کا روڈمیپ درکار ہے
جو گرڈ اور آف گرڈ ترقی کے درمیان توازن قائم کرے۔ پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور سبسڈی کے محدود بیانیے سے آگے بڑھیں اور توانائی کی پیداوار، ترسیل اور کھپت کے پورے نظام کو ازسرِ نو تشکیل دیں، بطور ایک جدید، پائیدار ریاست جو 21ویں صدی کے تقاضے سمجھتی ہو۔</p>
<p>© بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274848</guid>
      <pubDate>Sat, 19 Jul 2025 18:39:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/1917315084b85c9.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/1917315084b85c9.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
