<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سی فوڈ برآمدات میں 11.44 فیصد اضافہ ، 465.4 ملین ڈالر تک جاپہنچیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274837/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالی سال 2024-25 کے دوران پاکستان کی سمندری خوراک (سی فوڈ) کی برآمدات حجم کے لحاظ سے تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، تاہم ملک ایک بار پھر طویل عرصے سے مقرر کردہ 500 ملین ڈالر کے ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہا، اور مالی سال کا اختتام 465.4 ملین ڈالر پر ہوا — جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 11.44 فیصد اضافہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی 2024 سے جون 2025 کے مالی سال کے دوران پاکستان کی سی فوڈ برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا جو بڑھ کر ریکارڈ 216,350 میٹرک ٹن تک پہنچ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات کے مطابق اگرچہ اس صنعت نے مقدار کے لحاظ سے نمایاں ترقی حاصل کی، تاہم مالی لحاظ سے حاصل ہونے والا منافع توقعات سے کم رہا — جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مقدار اور مالیت کے درمیان توازن موجود نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے سی فوڈ برآمدات میں اضافے پر ملی جلی آرا کا اظہار کیا — انہوں نے ایک جانب مقدار میں ہونے والی ترقی کو خوش آئند قرار دیا تو دوسری جانب اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ یہ رفتار دہائی پرانے ریونیو ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان فشریز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین سعید فرید نے اس کامیابی پر صنعت سے وابستہ تمام فریقین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مچھلی پکڑنے والوں اور پروسیسرز کی انتھک محنت کے باعث ہی پاکستان نے عالمی سی فوڈ مارکیٹ میں قدم جمانے میں کامیابی حاصل کی — حالانکہ اس دوران بین الاقوامی تجارتی چیلنجز کا سامنا بھی رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ عالمی سی فوڈ تجارت کو عدم استحکام کا سامنا رہا ہے جس کی بڑی وجہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں عائد کیے گئے غیر یقینی ٹیرف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوب مشرقی اور مشرق بعید ایشیائی منڈیوں — خاص طور پر چین، جو دنیا میں سی فوڈ کا سب سے بڑا صارف ہے — سے طلب میں نمایاں کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید زور دیا کہ محدود مارکیٹ رسائی اب بھی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ امریکہ کی جانب سے جھینگے کی درآمد پر پابندی اور یورپی یونین کی جانب سے منظوری نہ ملنا اس پیش رفت کو مسلسل متاثر کررہے ہیں۔ صورتحال کو مزید بگاڑنے والا عنصر خام مال کی شدید قلت ہے، جس کے باعث کئی سی فوڈ پروسیسنگ پلانٹس اپنی تنصیب شدہ گنجائش کے محض 20 سے 25 فیصد پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جھینگا جو کبھی پاکستان کی سب سے اہم سی فوڈ برآمدات میں شمار ہوتا تھا، گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اس کی دستیابی میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ اب پاکستان کی سی فوڈ انڈسٹری بڑی حد تک کٹل فِش، اسکویڈ اور آکٹوپس کی برآمدات پر انحصار کر رہی ہے۔ میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کی سابقہ تحقیقی رپورٹس میں بھی پاکستانی سمندری حدود میں مچھلیوں کے ذخائر میں خطرناک حد تک کمی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس رجحان کو پلٹنے کے لیے سعید فرید نے ماہی گیری کے شعبے میں فوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ یورپی کمیشن، سعودی عرب اور امریکہ کے حکام سے رابطے کرے تاکہ مزید پروسیسنگ پلانٹس کے لیے انسپیکشن اور منظوری کے عمل کو آسان بنایا جا سکے، تاکہ وہ بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ کے سابق ڈائریکٹر جنرل محمد معظم خان نے صنعت کو اب تک کی بلند ترین برآمدی آمدن حاصل کرنے پر سراہا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان 500 ملین ڈالر کی حد کو کیسے عبور کرسکتا ہے اور سی فوڈ برآمدات کو 1 ارب ڈالر تک کیسے پہنچا سکتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے وزیر اعظم کی جانب سے 24 دسمبر 2024 کو اعلان کردہ اہم حکومتی اقدامات کی جانب اشارہ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مالی سال 2024-25 کے دوران پاکستان کی سمندری خوراک (سی فوڈ) کی برآمدات حجم کے لحاظ سے تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، تاہم ملک ایک بار پھر طویل عرصے سے مقرر کردہ 500 ملین ڈالر کے ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہا، اور مالی سال کا اختتام 465.4 ملین ڈالر پر ہوا — جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 11.44 فیصد اضافہ ہے۔</strong></p>
<p>جولائی 2024 سے جون 2025 کے مالی سال کے دوران پاکستان کی سی فوڈ برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا جو بڑھ کر ریکارڈ 216,350 میٹرک ٹن تک پہنچ گئیں۔</p>
<p>ادارہ شماریات کے مطابق اگرچہ اس صنعت نے مقدار کے لحاظ سے نمایاں ترقی حاصل کی، تاہم مالی لحاظ سے حاصل ہونے والا منافع توقعات سے کم رہا — جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مقدار اور مالیت کے درمیان توازن موجود نہیں رہا۔</p>
<p>ماہرین نے سی فوڈ برآمدات میں اضافے پر ملی جلی آرا کا اظہار کیا — انہوں نے ایک جانب مقدار میں ہونے والی ترقی کو خوش آئند قرار دیا تو دوسری جانب اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ یہ رفتار دہائی پرانے ریونیو ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔</p>
<p>پاکستان فشریز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین سعید فرید نے اس کامیابی پر صنعت سے وابستہ تمام فریقین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مچھلی پکڑنے والوں اور پروسیسرز کی انتھک محنت کے باعث ہی پاکستان نے عالمی سی فوڈ مارکیٹ میں قدم جمانے میں کامیابی حاصل کی — حالانکہ اس دوران بین الاقوامی تجارتی چیلنجز کا سامنا بھی رہا۔</p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ عالمی سی فوڈ تجارت کو عدم استحکام کا سامنا رہا ہے جس کی بڑی وجہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں عائد کیے گئے غیر یقینی ٹیرف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوب مشرقی اور مشرق بعید ایشیائی منڈیوں — خاص طور پر چین، جو دنیا میں سی فوڈ کا سب سے بڑا صارف ہے — سے طلب میں نمایاں کمی آئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید زور دیا کہ محدود مارکیٹ رسائی اب بھی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ امریکہ کی جانب سے جھینگے کی درآمد پر پابندی اور یورپی یونین کی جانب سے منظوری نہ ملنا اس پیش رفت کو مسلسل متاثر کررہے ہیں۔ صورتحال کو مزید بگاڑنے والا عنصر خام مال کی شدید قلت ہے، جس کے باعث کئی سی فوڈ پروسیسنگ پلانٹس اپنی تنصیب شدہ گنجائش کے محض 20 سے 25 فیصد پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔</p>
<p>جھینگا جو کبھی پاکستان کی سب سے اہم سی فوڈ برآمدات میں شمار ہوتا تھا، گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اس کی دستیابی میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ اب پاکستان کی سی فوڈ انڈسٹری بڑی حد تک کٹل فِش، اسکویڈ اور آکٹوپس کی برآمدات پر انحصار کر رہی ہے۔ میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کی سابقہ تحقیقی رپورٹس میں بھی پاکستانی سمندری حدود میں مچھلیوں کے ذخائر میں خطرناک حد تک کمی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔</p>
<p>اس رجحان کو پلٹنے کے لیے سعید فرید نے ماہی گیری کے شعبے میں فوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ یورپی کمیشن، سعودی عرب اور امریکہ کے حکام سے رابطے کرے تاکہ مزید پروسیسنگ پلانٹس کے لیے انسپیکشن اور منظوری کے عمل کو آسان بنایا جا سکے، تاکہ وہ بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔</p>
<p>میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ کے سابق ڈائریکٹر جنرل محمد معظم خان نے صنعت کو اب تک کی بلند ترین برآمدی آمدن حاصل کرنے پر سراہا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان 500 ملین ڈالر کی حد کو کیسے عبور کرسکتا ہے اور سی فوڈ برآمدات کو 1 ارب ڈالر تک کیسے پہنچا سکتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے وزیر اعظم کی جانب سے 24 دسمبر 2024 کو اعلان کردہ اہم حکومتی اقدامات کی جانب اشارہ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274837</guid>
      <pubDate>Sat, 19 Jul 2025 12:21:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/191220244e1facc.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/191220244e1facc.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
