<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبر پختونخوا کی بھی الیکٹریسٹی ڈیوٹی ختم کرنے کے فیصلے کی مخالفت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274830/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت کا الیکٹریسٹی ڈیوٹی (ای ڈی) کی وصولی ختم کرنے کا منصوبہ ایک اور رکاوٹ کا شکار ہوگیا، سندھ حکومت کے بعد اب خیبر پختونخوا حکومت نے بھی اس فیصلے کی باضابطہ مخالفت کردی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا حکومت نے پاور ڈویژن پر زور دیا ہے کہ وہ آئینی تقاضوں، تعاون پر مبنی وفاقی نظام اور مالی استحکام کے مفاد میں اس فیصلے پر نظرِثانی کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر توانائی سردار اویس خان لغاری کے 30 جون 2025 کے خط کے جواب میں، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بجلی ڈویژن کی جانب سے تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے ذریعے الیکٹریسٹی ڈیوٹی کی وصولی یکطرفہ طور پر بند کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جو نہ کسی پیشگی اطلاع کے ساتھ کیا گیا اور نہ ہی مشاورت سے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی امین گنڈاپور نے الیکٹریسٹی ڈیوٹی کے نفاذ کے آئینی اور قانونی جواز کو اجاگر کرتے ہوئے کہا:(i) آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکل 157(2)(b) کے تحت صوبائی حکومتوں کو اپنے دائرہ اختیار میں بجلی کے استعمال پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے؛(ii) خیبر پختونخوا فنانس ایکٹ 1964 کی دفعہ 13(2) کے مطابق ہر تقسیم کار لائسنس یافتہ کمپنی (ڈسکوز) پر لازم ہے کہ وہ بجلی ڈیوٹی وصول کرکے صوبائی حکومت کو منتقل کرے۔ یہ ڈیوٹی فراہم کردہ توانائی کے قابلِ وصول رقم پر پہلی ترجیحی دعوے (فرسٹ چارج) کی حیثیت رکھتی ہے، اور یوں یہ صوبائی حکومت کا واجب الادا قرض شمار ہوتی ہے؛(iii) اور مغربی پاکستان الیکٹریسٹی ڈیوٹی رولز 1964 کے رول 5(1) کے تحت ڈسکوز پر لازم ہے کہ وہ بجلی کے بلوں پر الیکٹریسٹی ڈیوٹی کو ایک علیحدہ آئٹم کے طور پر ظاہر کریں اور اسے توانائی چارجز کے ساتھ وصول کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ نیپرا ایکٹ 1997 کی دفعہ 38 کے تحت صوبوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ڈسکوز کی بلنگ، میٹرنگ، اور بجلی چوری سے متعلق عملدرآمد کی نگرانی کریں۔ اس ایکٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بجلی کے استعمال پر چارجز کے حوالے سے صوبائی حکومت کو اصولِ ماتحتی کے تحت دائرہ اختیار حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے آئین کے آرٹیکل 268 اور 279 کا بھی حوالہ دیا، جو موجودہ قوانین، بشمول ٹیکس سے متعلق قوانین، کو اس وقت تک برقرار رکھنے کی ضمانت دیتے ہیں جب تک کہ متعلقہ قانون ساز ادارہ ان میں تبدیلی نہ کرے۔ ان دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے اُن کا مؤقف تھا کہ یہ تحفظات صوبوں کے بجلی ڈیوٹی  وصول کرنے کے قانونی حق کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعلیٰ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 154(1) کے تحت مشترکہ مفادات کونسل وہ مجاز ادارہ ہے جو بجلی سے متعلق پالیسیوں کی تشکیل و نگرانی اور متعلقہ اداروں کی نگرانی کا اختیار رکھتا ہے۔ لہٰذا، بجلی کے شعبے پر اثر انداز ہونے والے کسی بھی فیصلے کو سی سی آئی میں زیرِ غور لا کر صوبوں سے مشاورت کے بعد منظور کیا جانا ضروری ہے — جو کہ اس معاملے میں نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ الیکٹریسٹی ڈیوٹی کو قانون کے تحت بلنگ سسٹم کے ذریعے وصول کرنا لازم ہے اور اس کی وصولی کے لیے کوئی متبادل طریقہ کار موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی امین گنڈاپور کے مطابق پاور ڈویژن کا یکطرفہ انتظامی فیصلہ، بغیر مشترکہ مفادات کونسل  کی منظوری اور خیبر پختونخوا حکومت سے مشاورت کے، آئینی تقاضوں کے منافی اور قانونی طور پر کالعدم ہے۔ یہ اقدام غیر ضروری طور پر وفاق اور صوبے کے درمیان تناؤ کو ہوا دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا حکومت کا مؤقف ہے کہ الیکٹریسٹی ڈیوٹی کوئی عمومی ٹیکس نہیں جسے کسی متبادل طریقے سے وصول کیا جا سکے، بلکہ یہ ایک مخصوص شعبے سے متعلق چارج ہے جسے قانون کے مطابق صرف ڈسکوز کے جاری کردہ بجلی کے بلوں کے ذریعے ہی وصول کیا جانا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی حکومت نے پاور ڈویژن کے فیصلے پر فوری نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ اگر آئینی اور قانونی دائرہ کار کو یقینی بنایا جائے تو وہ تعمیری مکالمے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے بھی وفاقی حکومت پر تنقید کی تھی، اور اسلام آباد پر یکطرفہ فیصلہ مسلط کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مشورہ دیا تھا کہ ”پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کریں“ پھر صوبوں کو شرائط بتائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت کا الیکٹریسٹی ڈیوٹی (ای ڈی) کی وصولی ختم کرنے کا منصوبہ ایک اور رکاوٹ کا شکار ہوگیا، سندھ حکومت کے بعد اب خیبر پختونخوا حکومت نے بھی اس فیصلے کی باضابطہ مخالفت کردی ہے۔</strong></p>
<p>خیبر پختونخوا حکومت نے پاور ڈویژن پر زور دیا ہے کہ وہ آئینی تقاضوں، تعاون پر مبنی وفاقی نظام اور مالی استحکام کے مفاد میں اس فیصلے پر نظرِثانی کرے۔</p>
<p>وفاقی وزیر توانائی سردار اویس خان لغاری کے 30 جون 2025 کے خط کے جواب میں، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بجلی ڈویژن کی جانب سے تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے ذریعے الیکٹریسٹی ڈیوٹی کی وصولی یکطرفہ طور پر بند کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جو نہ کسی پیشگی اطلاع کے ساتھ کیا گیا اور نہ ہی مشاورت سے۔</p>
<p>علی امین گنڈاپور نے الیکٹریسٹی ڈیوٹی کے نفاذ کے آئینی اور قانونی جواز کو اجاگر کرتے ہوئے کہا:(i) آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکل 157(2)(b) کے تحت صوبائی حکومتوں کو اپنے دائرہ اختیار میں بجلی کے استعمال پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے؛(ii) خیبر پختونخوا فنانس ایکٹ 1964 کی دفعہ 13(2) کے مطابق ہر تقسیم کار لائسنس یافتہ کمپنی (ڈسکوز) پر لازم ہے کہ وہ بجلی ڈیوٹی وصول کرکے صوبائی حکومت کو منتقل کرے۔ یہ ڈیوٹی فراہم کردہ توانائی کے قابلِ وصول رقم پر پہلی ترجیحی دعوے (فرسٹ چارج) کی حیثیت رکھتی ہے، اور یوں یہ صوبائی حکومت کا واجب الادا قرض شمار ہوتی ہے؛(iii) اور مغربی پاکستان الیکٹریسٹی ڈیوٹی رولز 1964 کے رول 5(1) کے تحت ڈسکوز پر لازم ہے کہ وہ بجلی کے بلوں پر الیکٹریسٹی ڈیوٹی کو ایک علیحدہ آئٹم کے طور پر ظاہر کریں اور اسے توانائی چارجز کے ساتھ وصول کریں۔</p>
<p>انہوں نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ نیپرا ایکٹ 1997 کی دفعہ 38 کے تحت صوبوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ڈسکوز کی بلنگ، میٹرنگ، اور بجلی چوری سے متعلق عملدرآمد کی نگرانی کریں۔ اس ایکٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بجلی کے استعمال پر چارجز کے حوالے سے صوبائی حکومت کو اصولِ ماتحتی کے تحت دائرہ اختیار حاصل ہے۔</p>
<p>انہوں نے آئین کے آرٹیکل 268 اور 279 کا بھی حوالہ دیا، جو موجودہ قوانین، بشمول ٹیکس سے متعلق قوانین، کو اس وقت تک برقرار رکھنے کی ضمانت دیتے ہیں جب تک کہ متعلقہ قانون ساز ادارہ ان میں تبدیلی نہ کرے۔ ان دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے اُن کا مؤقف تھا کہ یہ تحفظات صوبوں کے بجلی ڈیوٹی  وصول کرنے کے قانونی حق کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔</p>
<p>وزیر اعلیٰ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 154(1) کے تحت مشترکہ مفادات کونسل وہ مجاز ادارہ ہے جو بجلی سے متعلق پالیسیوں کی تشکیل و نگرانی اور متعلقہ اداروں کی نگرانی کا اختیار رکھتا ہے۔ لہٰذا، بجلی کے شعبے پر اثر انداز ہونے والے کسی بھی فیصلے کو سی سی آئی میں زیرِ غور لا کر صوبوں سے مشاورت کے بعد منظور کیا جانا ضروری ہے — جو کہ اس معاملے میں نہیں کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ الیکٹریسٹی ڈیوٹی کو قانون کے تحت بلنگ سسٹم کے ذریعے وصول کرنا لازم ہے اور اس کی وصولی کے لیے کوئی متبادل طریقہ کار موجود نہیں۔</p>
<p>علی امین گنڈاپور کے مطابق پاور ڈویژن کا یکطرفہ انتظامی فیصلہ، بغیر مشترکہ مفادات کونسل  کی منظوری اور خیبر پختونخوا حکومت سے مشاورت کے، آئینی تقاضوں کے منافی اور قانونی طور پر کالعدم ہے۔ یہ اقدام غیر ضروری طور پر وفاق اور صوبے کے درمیان تناؤ کو ہوا دے سکتا ہے۔</p>
<p>خیبر پختونخوا حکومت کا مؤقف ہے کہ الیکٹریسٹی ڈیوٹی کوئی عمومی ٹیکس نہیں جسے کسی متبادل طریقے سے وصول کیا جا سکے، بلکہ یہ ایک مخصوص شعبے سے متعلق چارج ہے جسے قانون کے مطابق صرف ڈسکوز کے جاری کردہ بجلی کے بلوں کے ذریعے ہی وصول کیا جانا ضروری ہے۔</p>
<p>صوبائی حکومت نے پاور ڈویژن کے فیصلے پر فوری نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ اگر آئینی اور قانونی دائرہ کار کو یقینی بنایا جائے تو وہ تعمیری مکالمے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>اس سے قبل سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے بھی وفاقی حکومت پر تنقید کی تھی، اور اسلام آباد پر یکطرفہ فیصلہ مسلط کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مشورہ دیا تھا کہ ”پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کریں“ پھر صوبوں کو شرائط بتائیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274830</guid>
      <pubDate>Sat, 19 Jul 2025 17:24:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/1910213473523fb.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/1910213473523fb.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
