<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Technology</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 20:36:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 20:36:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 2024-25 میں 3.8 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274826/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی آئی ٹی برآمدات نے مسلسل ترقی کے رجحان کو برقرار رکھتے ہوئے مالی سال 2024-25 میں 3.8 ارب ڈالر کی نئی بلند ترین سطح کو چھو لیا۔ اس نمایاں کارکردگی کی بنیاد اختراع (انوویشن) اور معیاری خدمات کی فراہمی کو قرار دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق آئی ٹی اور آئی ٹی سے منسلک خدمات کی برآمدات 2023-24 کے مقابلے میں 18 فیصد اضافہ کے ساتھ 3.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 3.8 ارب ڈالر تک جا پہنچیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال کے اختتام پر آئی ٹی شعبہ نہ صرف ملک کا تیسرا بڑا غیر ملکی زرمبادلہ کمانے والا شعبہ رہا (ٹیکسٹائل اور چاول کے بعد) بلکہ خدمات کی کل برآمدات میں اس کا حصہ 45 فیصد تک جا پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (P@SHA) کے سینئر نائب چیئرمین محمد عمیر نظام نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات نے گزشتہ کئی برسوں میں تسلسل کے ساتھ ترقی کی ہے اور یہ ملکی معیشت میں بالخصوص کرنٹ اکاؤنٹ کو سرپلس میں لانے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت موثر پالیسیاں اختیار کی جاتیں اور قومی و بین الاقوامی سطح پر غیر یقینی حالات نہ پیدا ہوتے تو آئی ٹی شعبہ اس سے کہیں زیادہ زرمبادلہ کما سکتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ یہ صنعت اپنی نمائندہ تنظیم P@SHA کے ساتھ وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن، پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تعاون سے ملکی آئی ٹی شعبے کو فروغ دینے اور برآمدات بڑھانے کے لیے متحرک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد عمیر نظام نے کہا کہ “جب حکومت موجودہ رکاوٹوں کو دور کر لے گی تو آئی ٹی کمپنیاں مزید زرمبادلہ حاصل کرنے کی بہتر پوزیشن میں آ جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ مالی سال میں حکومت نے آئی ٹی کمپنیوں کو اپنی غیر ملکی کمائی کا 50 فیصد خصوصی فاریکس بینک اکاؤنٹس میں محفوظ رکھنے کی اجازت دی۔ علاوہ ازیں، برتر برآمد کنندگان کے لیے نقد انعامات اور ٹیکس سے متعلق مسائل کا بھی حل پیش کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاشا (پی اے ایس ایچ اے) کی اے آئی کمیٹی کی رکن مہوش سلمان علی کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی، جیسے آرٹیفیشل انٹیلیجنس، مشین لرننگ اور سائبر سیکیورٹی کو اپنانے سے برآمدات میں مزید اضافہ ممکن ہے، کیونکہ ان خدمات کی عالمی منڈی میں مانگ زیادہ اور منافع کی شرح بلند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے آئی ٹی ماہرین کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی آئی ٹی کمیٹی کے کنوینر خوشنود آفتاب نے کہا ہے کہ حکومت کو صرف برآمدی منڈیوں کی نہیں بلکہ آئی ٹی مصنوعات کی نوعیت میں بھی تنوع پیدا کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت محدود پیمانے پر آئی ٹی ہارڈویئر برآمد کرتا ہے لیکن اگر ٹیکنالوجی میں جدت لائی جائے تو کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس اور دیگر آلات کی برآمدات بھی بڑھائی جا سکتی ہیں، جو نہ صرف زرمبادلہ لائیں گی بلکہ ملک میں ٹیکنالوجی منتقلی کو بھی فروغ دیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوشنود آفتاب، جو وائپر گروپ کے چیئرمین بھی ہیں، نے کہا کہ ’میڈ ان پاکستان‘ آئی ٹی ہارڈویئر مصنوعات کو عالمی سطح پر فروغ دے کر پاکستان اپنی ساکھ مزید بہتر بنا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے اپنے وژن ”اُڑان پاکستان“ کے تحت مالی سال 2025-26 کے لیے آئی ٹی برآمدات کا ہدف 5 ارب ڈالر اور 2028-29 تک 10 ارب ڈالر مقرر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی آئی ٹی برآمدات نے مسلسل ترقی کے رجحان کو برقرار رکھتے ہوئے مالی سال 2024-25 میں 3.8 ارب ڈالر کی نئی بلند ترین سطح کو چھو لیا۔ اس نمایاں کارکردگی کی بنیاد اختراع (انوویشن) اور معیاری خدمات کی فراہمی کو قرار دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق آئی ٹی اور آئی ٹی سے منسلک خدمات کی برآمدات 2023-24 کے مقابلے میں 18 فیصد اضافہ کے ساتھ 3.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 3.8 ارب ڈالر تک جا پہنچیں۔</p>
<p>مالی سال کے اختتام پر آئی ٹی شعبہ نہ صرف ملک کا تیسرا بڑا غیر ملکی زرمبادلہ کمانے والا شعبہ رہا (ٹیکسٹائل اور چاول کے بعد) بلکہ خدمات کی کل برآمدات میں اس کا حصہ 45 فیصد تک جا پہنچا۔</p>
<p>پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (P@SHA) کے سینئر نائب چیئرمین محمد عمیر نظام نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات نے گزشتہ کئی برسوں میں تسلسل کے ساتھ ترقی کی ہے اور یہ ملکی معیشت میں بالخصوص کرنٹ اکاؤنٹ کو سرپلس میں لانے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت موثر پالیسیاں اختیار کی جاتیں اور قومی و بین الاقوامی سطح پر غیر یقینی حالات نہ پیدا ہوتے تو آئی ٹی شعبہ اس سے کہیں زیادہ زرمبادلہ کما سکتا تھا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ یہ صنعت اپنی نمائندہ تنظیم P@SHA کے ساتھ وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن، پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تعاون سے ملکی آئی ٹی شعبے کو فروغ دینے اور برآمدات بڑھانے کے لیے متحرک ہے۔</p>
<p>محمد عمیر نظام نے کہا کہ “جب حکومت موجودہ رکاوٹوں کو دور کر لے گی تو آئی ٹی کمپنیاں مزید زرمبادلہ حاصل کرنے کی بہتر پوزیشن میں آ جائیں گی۔</p>
<p>گزشتہ مالی سال میں حکومت نے آئی ٹی کمپنیوں کو اپنی غیر ملکی کمائی کا 50 فیصد خصوصی فاریکس بینک اکاؤنٹس میں محفوظ رکھنے کی اجازت دی۔ علاوہ ازیں، برتر برآمد کنندگان کے لیے نقد انعامات اور ٹیکس سے متعلق مسائل کا بھی حل پیش کیا گیا۔</p>
<p>پاشا (پی اے ایس ایچ اے) کی اے آئی کمیٹی کی رکن مہوش سلمان علی کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی، جیسے آرٹیفیشل انٹیلیجنس، مشین لرننگ اور سائبر سیکیورٹی کو اپنانے سے برآمدات میں مزید اضافہ ممکن ہے، کیونکہ ان خدمات کی عالمی منڈی میں مانگ زیادہ اور منافع کی شرح بلند ہے۔</p>
<p>انہوں نے آئی ٹی ماہرین کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔</p>
<p>دریں اثناء فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی آئی ٹی کمیٹی کے کنوینر خوشنود آفتاب نے کہا ہے کہ حکومت کو صرف برآمدی منڈیوں کی نہیں بلکہ آئی ٹی مصنوعات کی نوعیت میں بھی تنوع پیدا کرنا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت محدود پیمانے پر آئی ٹی ہارڈویئر برآمد کرتا ہے لیکن اگر ٹیکنالوجی میں جدت لائی جائے تو کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس اور دیگر آلات کی برآمدات بھی بڑھائی جا سکتی ہیں، جو نہ صرف زرمبادلہ لائیں گی بلکہ ملک میں ٹیکنالوجی منتقلی کو بھی فروغ دیں گی۔</p>
<p>خوشنود آفتاب، جو وائپر گروپ کے چیئرمین بھی ہیں، نے کہا کہ ’میڈ ان پاکستان‘ آئی ٹی ہارڈویئر مصنوعات کو عالمی سطح پر فروغ دے کر پاکستان اپنی ساکھ مزید بہتر بنا سکتا ہے۔</p>
<p>حکومت نے اپنے وژن ”اُڑان پاکستان“ کے تحت مالی سال 2025-26 کے لیے آئی ٹی برآمدات کا ہدف 5 ارب ڈالر اور 2028-29 تک 10 ارب ڈالر مقرر کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274826</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Jul 2025 22:46:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/182237503622283.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/182237503622283.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
